پاکستان میں بڑھتے ہوۓ ذہنی امراض
رابعہ شیخ
کل دنیا بھر میں دماغی / ذہنی صحت کا عالمی دن منایا گیا ہے اس سے ہمیں اندازہ ہونا چاہیے کہ ذہنی صحت کس قدر اہمیت کی حامل ہے ۔ پوری دنیا میں اس کے بارے میں بات کی گئی اور ذہنی صحت کی اہميت اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ۔
لیکن اگر میں ہمارے پیارے وطن پاکستان کی بات کروں تو یہاں آج بھی لوگ دماغی / ذہنی صحت کو اتنی اہمیت نہیں دیتے ۔ناخواندگی کی شرح اتنی زیادہ ہے کہ آج بھی یہاں دماغی مسائل کی وجہ جن, جنات اور آسیب کو سمجھا جاتا ہے
تو جناب سوال یہ ہےکہ اگر ہم سچ میں یہ مانتے ہیں کہ اللہ تعالی کی ہر تخلیق کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ہے تو ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ہمارے وجود کا سب سے اونچا , سب سے پہلا اور سب سے ضروری حصہ دماغ ہے ۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ دماغ / ذہن مالک (Boss) کا کام کرتا ہے جیسے آرڈر دینا , منصوبے بنانا , فیصلہ سازی کرنا ۔ لیکن اگر دماغ / ذہن ہی اس قابل نہ ہو کہ وہ صحیح اور غلط میں تفریق کر سکے تو وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ معاشرے کے لئے بھی شدید خطرہ ہے
آج کل جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح لوگوں کی ذہنی صحت کی عکاسی کرتی ہے ۔ لوگ حیوان بن چکے ہیں ۔ درندہ صفت لوگ اردگرد موجود ہیں۔ “ہوس ” نے رشتوں کے تقدس کو پامال کر دیا ہے ۔ دو دن قبل یہ خبر بجلی کی طرح دل پہ گری کہ ایک باپ نے اپنی دس ماہ کی بچی کے ساتھ زیادتی کی ۔ اس خبر نے تو گویا پیروں تلے زمین کھینچ لی۔ لوگوں کے اندر سے صحیح اور غلط کا فرق ختم ہو گیا ہے ۔ دماغی حالت اس قدر غیر ہے کہ لوگ اچھا برا صحیح غلط بھول چکے ہیں
یہ بیماری پوری دنیا میں پروان چڑھ چکی ہے اور اب اس کے شدید اثرات ہمارے ملک میں بھی نظر آنے لگے ہیں ۔ لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس بیماری پر قابو پایا جاسکتا ہے
پہلے تو ہمیں بیماری کو بیماری سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ اول تو ہم یہ ماننے سے قاصر ہیں کہ ہمیں کوئی دماغی مسئلہ ہے ۔ دوئم یہ کہ ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر کسی کو پتہ چل گیا کہ اپنا علاج کروائیں گے تو لوگ ہمیں پاگل سمجھیں گے
جس طرح ” کرونا وائرس ” نے پوری دنیا میں تباہی مچائی مگر پاکستان نے اس وبا سے بچاؤ کے طریقہ کار اختیار کر کے خود کو خاطر خواہ نقصان سے بچایا اس ہی طرح ہمیں اس بڑھتے ہوئے ذہنی انتشار کو روکنے کے لئے مل کر کام کرنا ہوگا ۔
اللہ تعالی کے حضور دست دعا ہوں کہ مالک ہمیں اس وبا سے بھی محفوظ فرمائے (آمین )