۔۔۔۔۔۔۔
اقراء باسم ربک الذی خلق سےآغاز کرنے والی قوم کی شرح خواندگی شرم ناک حد تک کم ہے۔اور جو پڑھے لکھیں ہیں بھی وہ اخلاقیات سے نابلد۔۔
علم قوموں کی بالیدگی کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ فصلوں کے لیے پانی۔دنیا میں آج وہی قومیں ترقی یافتہ ہیں جنہوں نے تعلیمی لحاظ سے ترقی کی اورخود کومنوایا ۔ترقی پزہر ممالک کا سب سے بڑا مسئلہ علم کا فقدان ہے۔اس وقت جو اعدادو شمار ہیں وہ کافی ابتر حالت میں ہیں۔58 فیصد ناخواندہ افراد ہیں جبکہ شہروں میں ستر فیصد اور دیہاتوں میں ابھی بھی 49 فیصد ہے۔پاکستان میں سکولوں کہ تعداد دو لاکھ بیس ہزار اور دوسری طرف یونیورسٹیاں خاصی تعداد میں موجود ہیں۔جبکہ بنیادی تعلیمی ادارے زیادہ ہونا چاہیے۔ایک طرف اعلی تعلیم کا رجحان بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف شرح خواندگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔یہ افراط و تفریط دیگر شعبوں کی طرح تعلیم میں بھی ہنوز باقی ہے۔
۔۔۔۔۔
نظام تعلیم میں مقصدیت کا فقدان
۔۔پاکستان کا نظام تعلیم معیار کے لحاظ سے کم ترین سطح پر ہے۔نصاب ،اساتزہ کےپڑھانے کا طریقہ یہ سب جدید تقاضوں پہ پورا نہیں اترتا۔عصر حاضر کے تقاضوں سے کافی پیچھے ہے۔ہماری نوجوان نسل کی مثال اس مسافر کی ہے کہ جو چلا تو جا رہا ہو مگر اسکی کوئی منزل نہیں۔اسکی بڑی وجہ نظام تعلیم اور تربیت میں مقصدیت کی کمی ہے۔نا گھروں میں اس پہ بات ہوتی اور نا سکولوں میں۔تعلیم کا مقصد اگر ہے بھی تو وہ نوکری کا حصول ہے۔اور وہ تعلیم کہاں کس کا مقصد دو وقت کی روٹی ہو۔اس وقت سب سے بڑی ضرورت ایسے نظام تعلیم کی ہے جس میں مقصدیت ہو۔تعلیم کا مقصد انسانیت کی تعمیر ہو۔
۔۔۔۔
انگریزی نظام تعلیم اور الگ الگ نظام تعلیم یہ سب انگریز کے دیے ہوۓ تحفے ہیں۔جن سے ابھی تک ہم نکل نہیں پا رہے۔ نماز کے حوالے سے ایک عجیب بات ریسرچ سے سامنے آئی ہے وہ یہ کہ جن قوموں میں نماز کی پابندی کی عادت پختہ ہے یہ وہ قومیں ہیں جو کسی کی غلامی میں نہیں رہے۔غلامی انسانوں کے اندر ایسے خصائل پیدا کرتی ہے جو انسان کو انسانی جوہر سے محروم کر دیتے ہیں۔پھر نا بندہ اپنا رہتا نا ہی اللہ کا۔غیر کے در کا غلام ہو جاتا۔اسی کی سوچ کے دھارے تک میں غلامی کی بو رچ بس جاتی ہے۔بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انگریز کی غلامی سے نجات پانی ہے تو ذہنوں کو آزاد کروانا ہوگا اور ذہن تب آزاد ہوں گے جب ہمارا اپنا نظام تعلیم ہوگا۔اس وقت ہنگامی بنیادوں پر تعلیم کے اوپر کام کرنے کی ضرورت ہے۔بیمار قوموں کا علاج صرف اور صرف تعلیم میں ہے۔اس وقت ہمیں وہی جذبہ تعلیم کے لیے درکار ہے جو اہٹم بم بناتے ہوۓ سامنے آیا تھا۔عمرآن خان وثنری انسان تھا پر وہ سیاست کے جھمیلوں میں پھنسا دیا گیا ہے۔اس وقت اگر عمرآن خان اعلان کریں کہ ہم گھاس کھآئیں گے مگر ہمارےنظام تعلیم کی شرح سو فیصد ہوگی اور وہ بھی جدید تقاضوں کے مطابق۔اللہ کرے ایسا ہو اور جلد ہو۔آمین