20260220_225419 169

ڈیجیٹل انتفاضہ اور جدید استعمار

تحریر شئیر کریں

کالم:حرف معتبر

20260220_225419
20260220_225419

تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حق اور باطل کی معرکہ آرائی میں مادی وسائل کبھی فیصلہ کن نہیں رہے۔ ابابیل کے کنکر ہوں یا داؤد علیہ السلام کی گوپھن، فتح ہمیشہ اس کی ہوئی جس کے پاس ایمان کی حرارت اور وقت کے فرعون کی چالوں کو سمجھنے کی بصیرت تھی۔ انسانی فطرت کا خاصہ ہے کہ جب اسے دیوار سے لگا دیا جائے، تو وہ بقا کی ایسی راہیں تراشتی ہے جو دشمن کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتیں۔ آج کا دور محض زمین پر قبضے کا نہیں، بلکہ ‘ڈیٹا’ اور ‘الگورتھم’ کی غلامی کا دور ہے، جہاں نظر نہ آنے والی لہریں ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہو چکی ہیں۔

فلسطین کی سرزمین پر جاری جدوجہد اب صرف پتھروں اور ٹینکوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ‘ڈیجیٹل خلا’ میں منتقل ہو چکی ہے۔ جسے ہم “ڈیجیٹل انتفاضہ” کہہ رہے ہیں، وہ دراصل ایمانی فراست کا وہ اظہار ہے جس نے ثابت کر دیا کہ اگر عزم جواں ہو تو غزہ کے ملبے میں بیٹھا ایک نوجوان بھی تل ابیب کے حساس ترین سرورز کو لرزہ براندام کر سکتا ہے۔ یہ محض ہیکنگ نہیں، بلکہ ‘حیا’ اور ‘اخلاقیات’ کے اس قلعے کا تحفظ ہے جسے جدیدیت کے علمبردار اپنے جاسوسی سافٹ ویئرز (جیسے پیگاسس) کے ذریعے مسمار کرنا چاہتے ہیں۔ جب دشمن انسانی حقوق کی پامالی کے لیے ٹیکنالوجی کا سہارا لے، تو مظلوم کا ایک ‘کلک’ بھی جہاد بن جاتا ہے، کیونکہ یہ باطل کے نظامِ نگرانی (Surveillance) کے خلاف ایک اعلانِ جنگ ہے۔

جدیدیت کے علمبردار اور مغرب کے نام نہاد لبرل دانشور، جو اظہارِ رائے کی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتے، اس وقت گونگے بہرے ہو جاتے ہیں جب اسرائیل کا ‘یونٹ 8200’ معصوم فلسطینیوں کی نجی زندگیوں میں نقب لگاتا ہے۔ ان کی منافقت کا عالم یہ ہے کہ فلسطینیوں کی مزاحمتی جاسوسی کو تو ‘دہشت گردی’ کا نام دیا جاتا ہے، مگر اسرائیل کی ‘ڈیجیٹل دہشت گردی’ اور بائیو میٹرک ڈیٹا (Blue Wolf) کے ذریعے انسانوں کی درجہ بندی کو ‘قومی سلامتی’ کا لبادہ پہنا دیا جاتا ہے۔ یہ وہی دوہرا معیار ہے جہاں ظالم کا سافٹ ویئر ‘سیکیورٹی’ اور مظلوم کا ‘کوڈ’ جرم قرار پاتا ہے۔ مغربی تہذیب کا یہ دوغلا پن اب ڈیجیٹل اسکرینوں پر واضح ہو چکا ہے۔

آج سچائی کے حرف، فائبر آپٹک کی تاروں میں لہو بن کر دوڑ رہے ہیں۔ وہ ہاتھ جو کل تک پتھر اٹھاتے تھے، آج کی بورڈ پر وہ حروف لکھ رہے ہیں جو دشمن کے غرورِ ٹیکنالوجی کو پاش پاش کر رہے ہیں۔ یہ سجدہ گزاروں کی وہ ٹولی ہے جس نے ثابت کیا کہ مصنوعی ذہانت (AI) چاہے جتنی بھی ‘سمارٹ’ ہو جائے، وہ اس ‘روحانی بصیرت’ کا مقابلہ نہیں کر سکتی جو اللہ پر توکل سے پیدا ہوتی ہے۔ دشمن نے لوہے کی دیواریں کھڑی کیں، تو اللہ کے سپاہیوں نے اس کے ‘بائنری کوڈز’ میں سوراخ کر دیے۔

یاد رکھیے! ٹیکنالوجی صرف ایک ذریعہ ہے، اصل طاقت وہ ‘پیغام’ ہے جو اس کے ذریعے پھیل رہا ہے۔ ڈیجیٹل انتفاضہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہم وقت کے تقاضوں سے بے خبر رہ کر اپنی بقا کی جنگ نہیں جیت سکتے۔ ہمیں اپنی صفوں میں ایسے ماہرین پیدا کرنے ہوں گے جو مادی ترقی کو دینِ مبین کے تابع کر سکیں۔ آخر کار کامیابی ان کی نہیں جن کے پاس مہنگے سافٹ ویئر ہیں، بلکہ کامیابی ان کی ہے جن کا ضمیر بیدار ہے اور جن کا ہر عمل رضائے الٰہی اور آخرت کی کامیابی کے لیے ہے۔ جب ہم ٹیکنالوجی کو ایمان کے نور سے جوڑ دیں گے، تو باطل کا ہر ‘وائرس’ دم توڑ دے گا۔ حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اندھیرے کے مکین: قسط 23

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں