کالم: قرآنی علم کی پامالی اور ہم اہلِ قلم کی ذمہ داری 180

کالم: قرآنی علم کی پامالی اور ہم اہلِ قلم کی ذمہ داری

تحریر شئیر کریں

کالم: قرآنی علم کی پامالی اور ہم اہلِ قلم کی ذمہ داری

کالم نگار؛روبینہ شاہین

لاہور کی پرانی، تاریخی اور علمی آغوش سمجھی جانے والی پنجاب یونیورسٹی کے ایوانوں سے جو خبر اس بار در آئی ہے، وہ محض ایک تعلیمی نوٹیفکیشن نہیں، بلکہ ہماری قومی غیرت، علمی روایت اور دینی حمیت پر ایک خوفناک وار ہے۔ میں اور آپ، جو قلم کی حرمت اور کتاب کی عظمت پر ایمان رکھتے ہیں، اس فیصلے پر اگر خاموش رہے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔
یہ کیسا مذاق ہے کہ 2020 سے کامیابی کی منازل طے کرنے والا، طلباء کے سینوں کو قرآنی بصیرت سے منور کرنے والا ‘تدریسِ ترجمۂ قرآن’ کا آٹھ سمسٹرز پر محیط جامع پروگرام، 16 دسمبر 2025 کو ایک ٹھنڈے کمرے میں بیٹھی اکیڈمک کونسل کے ایک سطحی فیصلے کی نذر ہو جاتا ہے؟ یہ محض نصاب میں کٹ لگنا نہیں، یہ ایک پوری نسل کو اس بنیادی روحانی رہنمائی سے محروم کرنے کی منظم کوشش ہے۔
آٹھ سمسٹرز سے دو سمسٹرز؟ یہ مذاق نہیں تو اور کیا ہے!
قرآن فہمی کوئی سرسری مضمون نہیں کہ اسے دو سمسٹرز کی “خانہ پُوری” میں سمیٹ دیا جائے۔ قرآن تو ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، ایک پورا علم ہے جو آٹھ سمسٹرز میں بھی بمشکل سمجھا جا سکتا ہے۔ اس جامع نصاب کو اچانک اس قدر محدود کر دینا، دراصل اس بات کا واضح اعتراف ہے کہ یونیورسٹی کے پالیسی ساز ادارے پر وہ ‘طاقتیں’ غالب آ چکی ہیں جو اس خطۂ ارض کو اس کی اصل روح سے کاٹ کر، ایک مغرب زدہ، بے رنگ اور سیکولر ڈھانچے میں ڈھالنا چاہتی ہیں۔
ہمیں کسی ‘اصلاحات’ کے فریب میں نہیں آنا چاہیے!
میں واضح الفاظ میں کہتا ہوں: یہ اقدام تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے ہرگز نہیں اٹھایا گیا۔ یہ دراصل ان عالمی اور ملکی ایجنڈوں کی تکمیل ہے جو برسوں سے ہمارے تعلیمی نظام میں “رواداری” اور “جدت” کے خوبصورت ناموں کے پیچھے اسلامی تعلیمات کو دھیرے دھیرے زہر دے رہے ہیں۔ جب یونیورسٹی انتظامیہ سیکولر طبقے کے ان غیر مرئی دباؤ کے سامنے سر جھکا دیتی ہے جو اعلیٰ تعلیم میں دینی تعلیمات کو “بوجھ” سمجھتے ہیں، تو پھر سمجھ لینا چاہیے کہ اب ہم صرف نصاب نہیں، بلکہ اپنی قومی غیرت کو بھی قربان کر رہے ہیں۔
یہ کیسی بدقسمتی ہے کہ ایک ایٹمی طاقت اور اسلامی جمہوریہ کی سب سے بڑی درسگاہ میں قرآن کے علم کو وہ حیثیت بھی نہیں دی جا رہی جو ایک اختیاری مضمون کو ملتی ہے۔ یہ محض تعلیمی پالیسی میں مداخلت نہیں ہے، یہ ایک خطرناک سازش ہے جو طلباء کے اذہان سے دینی شعور کو نکال کر انہیں فکری طور پر غلام بنانے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔
اب خاموشی کوئی آپشن نہیں!
اے اہلِ قلم، اے استاد، اے طلباء اور اے قوم کے درد مند افراد! اگر آج ہم نے اس ناانصافی کے خلاف آواز نہ اٹھائی اور تدریسِ ترجمۂ قرآن کے اس مکمل اور جامع پروگرام کو اس کی اصل شکل میں بحال نہ کرایا، تو یاد رکھیے! آئندہ نسلیں ہمیں اس غفلت اور مجرمانہ خاموشی پر کبھی معاف نہیں کریں گی۔
مطالبہ ایک ہی ہے، اور وہ دو ٹوک ہے:
* پنجاب یونیورسٹی فوری طور پر 16 دسمبر 2025 کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔
* تدریسِ ترجمۂ قرآن کے مکمل، آٹھ سمسٹرز پر محیط پروگرام کو بلاتاخیر اور بغیر کسی کٹ کے بحال کیا جائے۔
خاموشی اب جرم ہے۔ اٹھیں، لکھیں، بولیں! اس قوم کی فکری جڑوں کو کاٹنے کی کوشش کو ناکام بنانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں