تحریر : لبنٰی جمشید
کرونا وائرس کی آمد کے ساتھ ہی دنیا سمٹ کر گھروں میں مقیم ہو گئی جسے لاک ڈاؤن کا نام دیا گیا۔۔کرونا کے بارے میں تو آپ سب آگاہ ہیں کہ یہ وائرس کس طرح انسانی زندگی پر اثرانداز ہوا ہے جس کے نتیجے میں سماجی , معاشرتی و کاروباری زندگی منجمند ہو کر رہ گئی ہے۔ دنیا بھر کی حکومتوں نے مشترکہ طور پر اس سے نبٹنے کے لیے لاک ڈاؤن کا نفاذ تمام ان علاقوں پر کیا ہے جہاں جہاں پر کرونا سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ کرونا کے اثرات یوں تو مجموعی طور پر پوری دنیا کی حکومتوں کو فیس کرنا پڑ رہے ہیں, کاروباری زندگی معطل ہو کر رہ گئی ہے , معیشت جو کہ معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اس نے قوموں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس ٹھپ ہو چکا ہے۔ پروازیں معطل ہیں۔ تمام چھوٹے بڑے کاروباری ادارے بند ہونے سے عام آدمی جہاں خسارے کا شکار ہوا ہے وہیں پر گھریلو زندگی اور خاص طور پر خواتین و بچے سب سے زیادہ کرونا کے منفی اثرات کا شکار ہوۓ ہیں۔ آج ہم جائزہ لیتے ہیں کہ کس طرح ایک عام شخص اس کے ارد گرد رہنے والے لوگ, اس کی فیملی اور دوست احباب ان حالات میں منفی رویوں کا شکار ہو کر ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں۔
عام آدمی کی پہلی پریشانی غربت؟
لاک ڈاؤن کے فوری بعد ایک عام آدمی کو جس کا سب سے پہلے سامنا کرنا پڑا۔ عرف عام میں اسے ”غربت“ کا نام دیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک کی آبادی کا ایک بڑا طبقہ محنت و مزدوری کرکے اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرتا ہے۔ عام طور پر ان کو دیہاڑی دار مزدور کہا جاتا ہے۔وہ روز کے روز یا پھر ہفتہ وار ملنے والی اجرت پر انحصار کرتے ہیں۔ جیس ہی لاک ڈؤن کا اعلان ہوا یہ طبقہ سب سے پہلے پریشان ہو گیا۔ ان کے پاس نہ تو کوئی سیونگ تھی جس کو ان دنوں استعمال کیا جاسکتا تھا اور نہ ہی راشن کا ایکسٹرا سٹاک ان کے سٹور روم میں محفوظ تھا۔ اب گھر کا سربراہ لاک ڈاؤن کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرے؟ ۔۔ ظاہر سی بات ہے کہ وہ پھر گورنمنٹ کی مدد کا ہی انتظار کرے گا۔ جس کا حصول بھی جلد اور آسان دائرہ عمل نہیں ہے۔
راشن کا خاتمہ؟
آپ تصور کریں کہ راشن ختم ہو رہا ہے ایک بے بس باپ اپنی بھوک س لکتی اولاد ک دیکھتا ہے اپنی بیوی کی آنسؤں سے لبرلیز آنکھوں سے نظریں چراتا ہے۔ اس کی بے بسی کی مذید انتہا کیاہو گی۔ آپ ہنر مند ہونے کے باوجود گھر سے کام و دہن کے لیے نہیں نکل سکتے ۔۔ وباکبھی بھی آپ کو اپنی گرفت میں لے سکتی ہے, سماجی فاصلہ رکھنا ہے اور اس سماجی فاصلے کے ساتھ ساتھ دلوں کی دوریاں بھی بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔۔ دوست احباب رشتہ داروں سے کیسے مدد مانگے وہ خود بھی ان حالات کا شکار ہے۔ محلے کے بااثر افراد سے مدد مانگو پہلے وہ ترحم پھر طنزیہ نگاہ ڈالتے ہیں۔ امداد کا ایک چھوٹا سا تھیلا بھی میڈیا کی نظر میں لاۓ بغیر دینا گناہ تصور کیا جاتا ہے ہاں مگر کچھ نیک دل لوگ ابھی بھی موجود ہیں۔۔۔۔ لیکن کوئی کب تک کسی کا کندھا بنے گا۔ ہر انسان کو اپنے حصے کا بوجھ خود ہی اٹھاناہوتا ہے۔ یہ راشن چند دن تو چل گیا اگر وبانہیں ٹلی تو مستقبل میں کیا ہوگا۔ اس طرح کی لامتناہی سوچیں اس کو اپنی لپیٹ میں لے کر فرسٹریٹڈ کر دیتی ہیں جس سے ڈیپریشن میں مذید اضافہ ہونے کا امکان غالب رہتا ہے۔
ڈیپریشن کا شکار
وہ اس سے پیچھا چھڑانے کی کوشش میں بچوں کو بلاوجہ ڈانٹنا شروع کر دیتا ہے۔ بیوی کےساتھ جھگڑے کے مضوعات تگاش کرتا ہے۔ اس کے ہر کام میں نقطہ چینی کرے گا۔اور ایک دن پھر اس کا ہاتھ بھی اٹھ جاتا ہے ۔۔۔ اسی دن سے اس کی بدقسمتی کا آغاز ہونے جا رہا ہے مگر وہ نہیں جانتا۔۔ اس کی بیوی کے ساتھ بچے بھی باپ سے متنفر ہیں اور اب چاہتے ہیں کہ کرونا سے قبل کے وہ دن لوٹ آئیں جب شام کو ہنسی خوشی ان کا باپ محنت مزدوری کر کے لوٹتا تھا ۔ان کا خیال رکھتا تھا اور ماں کھانے میں اس کے پسند کی چیزیں بنایا کرتی تھی۔ آہ ۔۔۔ وہ دن شاید خواب بن کر رہ گیا ہے اب ہمیں اسی وبا اور ماں باپ کی زہنی کیفیت کے ساتھ جینا ہی ۔۔ وہ گورنمنٹ کا اسکول جہاں اب کتابيں فری اور پڑھائی ماسٹر کی مار کے ساتھ ملتی تھی وہ سنہرے دن بھی اس سورج کے ساتھ ڈوب چکے ہیں جس کے بعد کروا کی اندھیری رات کا آغاز ہوا ہے۔ کیا معلوم اسی ڈیپریشن میں ان کا باپ خود کشی کرلے یا پھر بھوک کے ہاتھوں اپنی اولاد کا ہی گلاگھونٹ دے۔ اس کے بچے سہم کر دیوار سے چپک گے اور کرونانے اپنے پنجے دنیا کے نقشے پر مذید مضبوط کرنا شروع کر دۓ۔۔
مڈل و اپر کلاس کے مسائل
یا اللہ اب تیرا ہی آسرا ہے تو غفور و رحیم ہے ہم پر رحم فرما۔۔ مڈل اپر کلاس خواتین نے کرونا کی آمد کے ساتھ جاۓ نماز بچھا لیے اور امت کی سلامتی کے لیے دعائيں مانگنا شروع کر دیں اب ان کی قبولیت کا انحصار اس جل وجلال کی ذات باری تعالی پر منحصر ہے لیکن اپنی دعاؤں کا حصہ ڈالنا ان کی نیکی شمار ہوئی دوسری جانب لاک ڈاؤن کے بعد ایلیٹ کلاس کی عورتوں کولگا ان کو گھر میں کسی کھونٹے سے باندھ دیا گیا ہو ۔۔ کہاں گئی ان کی دبئی اور پیرس کی ڈیزائنر وئیر شاپنگ, کہاں کی کیٹی پارٹیز اور کہاں کی سیر و تفریح ۔۔ اب ملازمین پر بھی انحصار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اپنے بچے خودسنبھالنے پڑے تب جا کر یہ احساس ہوا کہ ان کی اولاد اخلاقی طور پر کس قدر پسماندہ ہے مذہبی بنیادوں پر کلمے کا سہارا ہی ان کو یہاں تک لایا ہے نماز روزہ اخلاقیات تو چھو کر نہیں گزری ۔۔ یہ ہوتا ہے ایک ماں کا نینی کے رحم و کرم پر اولاد کو چھوڑ کر اپنی زندگی انجواۓ کرنے کا انجام۔۔اب بھگتو ان انگریزوں کے روپ میں ھلی اولاد کو۔۔۔
صرف اسی پر اکتفا نہیں۔۔ ایلیٹ کلاس خاتون کو گھر داری اور کوکنگ میں جن مسائل کا سامناکرنا پڑا وہ ایک الگ داستان رقم کی جا سکتی ہے۔ شوہر حضرات نیم مطمئن کہ خاتون خانہ چلو مجبوری میں سہی گھرداری کر رہی ہے مگر خاتون خانہ کا عتاب انہیں ہی جھیلنا پڑتاہے۔
کرنل فاروق کی سابقہ بیوی ایک مثال۔۔
اس کی ایک تازہ ترین مثال کرنل فاروق کی سانقہ بیوی کی شکل میں کچھ دن قبل پوری قوم نے دیکھی ہے کرونا کے ظلم سے تنگ آئی وہ خاتون جس کا چہرہ لاک ڈاؤن کے دوران سیلون بند ہونے سے کرخت جلد اور نا پسندیدہ بالوں سے ڈھکا جاچکا ہے لاک ڈاؤن میں نرمی کے باعث محترمہ نے اتنے مہینں کی فرسٹریشن اس حوالدار پر اتاری جس نے اپنی ڈیوٹی نبھاتے محترمہ کی کار روکی تھی۔۔۔ یہ تو ایک تازہ ترین مثال ہے عام حالات میں ایلیٹ کلاس خواتین کا شکار ان کے شوہر ملازمین اور وہ لوگ جو ان سے امداد لینے آتے ہیں سب سے زیادہ ہوتے ہیں ۔۔ شوہر حضرات کی ان گنت دولت کرونا کے دنوں میں کام نہیں آۓ گی تو کب آۓ گی ۔ چند ہزار خیرات کرنے میں بھی مضائقہ نہیں اس سے میڈیا پر مشہوری الگ۔۔۔
سمجھداری کا تقاضا
اب جو کلاس طبقہ ہے وہاں کی خواتین نے اپنی سمجھ داری و سوجھ بوجھ کا استعمال کرتے شوہر کی تنخواہ سے بچا بچا کر پس پردہ جو سیونگ کی ہے اس سے ان کے گھر کا سسٹم تو دال روٹی سے سہارے چل رہا ہے لیکن ہلکا پھلکا گھریلو تشدد کا شکار بھی وہ خواتین ہی ہیں جہ سارادن مشین کی ظڑح گھر کے کام کرتیں ہیں ساس نندوں کے طعنے برداشت کرتی ہیں ۔۔شوہر ک ہمہ وقت گھر رہنے سے بچوں کے حوالے سے اونچ نیچ ہو جاۓ اس کو کس طرح ہینڈل کرنا ہے۔ اپنی ذمو داریاں نبھاتے ببھاتے کب ان ک سروں پر چاندے اتر آۓ وہ خود سے زیادہ گھر والوں کے احساس میں اپنی زندگی کی خوشیوں سے منہ موڑ لیتی ہیں ان کی زندگی پہلے ہی قرنطینہ میں گزر رھی ہوتی ہے کرونا سے کیا فرق۔۔بس وہ انسان گھر بیٹھ گیا جو اس کو اس گھر میں لا کر دوسروں کی خدمتوں پر معمور کر کے بھول گیا ہے۔۔ ان کی اولاد بھی ماں کی بن جاتی ہے یا پھر حالات سے مکمل باغی۔۔۔
کہیں کرونا خوشیوں کے پھول کھلا رہا ہوتا ہے کہ وبا نے ہمیں ایک ساتھ دن رات گزارنے کاموقع دیا تو کہیں کانٹوں سے بھری سیج پر لوگوں کو لہولہان کر رہا ہے۔
طالبعلم کیا کریں؟
بچے اور خاص طور پر طالبعلم ایک عجیب سی بے چینی کا شکار ہیں ۔۔ان کے اندر کے آئن سٹائن , شیکسپئر اور بل گیٹس کو کرونا کی دیمک چاٹ چاٹ کر ختم کرتی جا رہی ہے ۔ان کو اپنا مستقبل دھند میں لپٹانظر آ رہا ہے۔ وہ اپنے خیالوں کی دنیا میں ماضی کہ آباد ت رکھتے ہیں مگر آنے والا کل ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے۔ یہ جو خلا درمیان میں آیا ہے کس کرح پر ہو گا۔۔ کون اس کو مکمل کرے گا۔۔ یا پھر ان کو نئے سرے سے سفر کا آغاز کرنا ہے۔گھر رہتے ہوۓ نا چاہتے ہوۓ بھی بہت سے ایسی عادات پروان پا چکیں ہیں جو تعلیم کی راہ میں رکاوٹ کا سبب ہونگی۔ ٹائم ٹیبل, روٹین ہر چیز تہس ونہس پڑی ہے۔ گھریلو سیاستوں میں دلچسبی کا عنصر زیادہ ہو چکا ہے آخر کرونا کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔۔۔؟
سوچنے کی بات
ہمارے لیے ایک سوچ کا در وا کیا جارہا ہے ۔۔ ہمارے وزیراعظم کا کہناہے کہ ہمیں اس وبا کے ساتھ ہی معاشرے میں فعالرہنا ہے جان کو ہتھیلی پر رکھ کر باہر ایک مجاہد کی طرح نکلنا ہے۔مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیااس سے کروناکے منفی اثرات ختم ہو جائیں گے۔۔ کیا زندگی پہلے کی طرح رواں دواں ہو گی۔۔ ہمارے تمام مسئلے باہر نکل کر حل ہو جائیں گے۔۔ غریب بھوک سے زندہ تو رہ گا مگر کر اس کو کرونا لاحق ہو جاۓ کون جانے۔۔۔؟۔۔۔امیر لاکھوں کڑوڑوں میں کھیلے گا اور ایک پل کی لاپرواہی دولت کا انبار وہیں چھوڑ کر خاک نشیں کر دے گی۔۔ خاتون خانہ کی شاپنگز اور پارٹیز میں میل جول فرداََ فرداََ اایک ہاتھ س دوسے پھر اگلے میں منتقل کرنے کا باعث ہو گا۔۔ یہ دنیا ہے یہاں کے دستور بھی نرالے اور لوگ اس سے نرالے۔۔ جوسمجھتے نہیں اگر سمجھ جائیں تو مانتے نہیں اگر مان بھی لیا ہے تو عمل زیرو۔۔۔ ہم کہاں اور ہماری مجال کہاں یہ سب اوپر ولے کے کھیل ہیں۔۔۔ ہم اسی کے ہاتھ کی کٹ پتلیاں ہیں وہ ایک ارادہ کرے تو وبا ختم نہ چاہے تو پھر یہ سلسلہ چلتا ہی رہے گا۔ جن باہم جھگڑوں کا زکر کیا ہے اور حالات کی آگاہی دی ہے ان کو سنورنے میں بس ایک کن کہنے کی دیر ہے اس لیے باہمی مسائل کے خاتمے کے لیے جھگڑوں کو چھوڑ کر اس کی بارگاہ میں مشترکہ رجوع کریں تا کہ ہم پر رحم کیا جاۓ۔۔آمین