کینسر سے بچاؤ ممکن ہے اگر کچھ غذاوں اور رویوں سے اجتناب کیاجاۓ
کینسر کا شمار ان امراض میں موت ہے جو جان لیوا ہیں۔مگر اب اس حوالے سے جو پیش رفت سامنے آئی ہے اس سے ثابت ہوا ہے کہ یہ جان لیوا تو ہے مگر قابل علاج بھی ہے۔
زیرن نظر آرٹیکل میں ان غذاؤں اور عادتوں پہ بات کی جاۓ گی جو کینسر کا باعث بنتیں ہیں۔
پلاسٹک کے برتنوں کا استعمال
پاکستان میں گذشتہ چند دہائیوں پلاسٹک کا استعمال اسقدر بڑھ چکا ہے کہ اسکی حد نہیں۔پلاسٹک انسانی صحت کے لیے مضر صحت تو ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ کینسر کا باعث بھی ہے۔خاص طور پر اگر پلاسٹک کے برتنوں میں کھانا گرم کیا جاۓ مثلا مائیکرو ویو اون کے زریعے ۔۔۔۔یا گرم گرم کھانے کو پلاسٹک میں ڈال کر کھانا۔یہ عادت آپ کو جان لیوا بیماریوں میں مبتلا کر سکتی ہے۔تو اس بارے میں بچوں کے فیڈرز تو ہوتے ہی پلاسٹک میں۔بہت کم لوگ شیشے کے فیڈر استعمال کرتے
ہیں۔اس حوالے سے خصوصی حتیاط کی ضرورت ہے۔
فریز کی ہوئی چیزوں کا استعمال
فریز کی ہوئی باسی چیزیں کیسنر ک باعث بنتیں ہیں۔کوشش کریں کہ چیز ایک دو دن سے زیدہ فریز ن کریں۔اس صورت میں بھی اگر اس چیز سے خراب کی سمیل آ رہی تو ہرگز استعمال نا کریں۔کیونکہ اس میں ایسا کیمیکل پیدا ہو چکا ہوتا ہے جو کینسر ک باعث بنتا ہے۔
ڈائریکٹ آگ پہ پکنے والی اشیاء
باربی کیو کھانے اس لیے نقصان دہ ہیں کہ ان کو ڈائریکٹ آگ پہ پکایا جاتا ہے۔جب لکڑی یا گیس جلتی ہے تو اس سے کیمیکلز خارج ہوتے ہیں۔جو جگر جلد اور معدے کے کیسنر کا باعث بن سکتے ہیں۔ہماری شہری خواتین کو ایک عادت ہے روٹی کو ڈائریکٹ آگ پہ سینکا جاتا ہے۔یہ بھی مضر صحت اور کینسر کا باعث ہے کیونکہ یہ ڈائریکٹ آگ پہ پکائی جاتی ہے۔
جنک فوڈ
جنک فوڈ کا زیادہ استعمال بھی کینسر کا باعث بنتا ہے
جنک فوڈ جسے فاسٹ فوڈ بھی کہا جاتا ہے یہ کھانے ٹرانس فیٹ مصالحوں اور مختلف کیمیملز کا مرکب ہوتے ہیں جن کا زیادہ استعمال خلیات کو نقصان پہنچاتا ہے۔جس کی وجہ کینسر کاخطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ڈرائی فروٹ سے اجتناب
ڈرائی فروٹ نا کھانا بھی کینسر می طرف لے جاتا ہے۔کینسر کے مریض جس تیزی سے بڑھ رہے ہیں وہ لمحہ فکریہ ہے۔اس سے بچاؤ کا واحد حل ان غذاؤں کا استعمال ہے جو کینسر سے بچاتے ہیں۔وٹامن بی 17 وہ واحد وٹامن ہے جس کی کمی کینسر کی طرف لے جاتی ہے۔اور یہ وٹامن بادام میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔اس لیے روزانہ ناسہی مگر ہفتے یا مہینے بعد بادام کا استعمال ضرور کریں۔
گوشت زیادہ کھانا
جو لوگ گوشت کے شوقین ہین وہ جان لیں کہ یہ ایسی عادت ہے جو جان لیو ابیماری کی طرف لے جا سکتی ہے۔اگر آپ روزانہ سو گرام گوشت بھی کھاتے ہیں تو کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق مہینے میں ایک بار گوشت کھانا بھی کافی ہے وہ بھی دو تین بوٹیاں۔
شراب نوشی کا استعمال
شراب کی لت بھی بہت جلد آپ کو اس موذی مرض کیطرف لے جاتی ہے جو زندگی سے دور لے جا سکتی ہے۔ہر وہ چیز جس میں الکوحل شامل ہوتا ہے یہ آنتوں کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔اس لیے اسلام میں حرام بھی ہے۔لپ اسٹک کا استعمال اگر وہ حلال اجزاء سے تیارکردہ نہیں تو اس سے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔خواتین کو اس معاملے میں محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔
بلیک کلر کا استعمال
بلیک کلر کے اندر ایسے کیمیکل خارج ہوتے ہیں جو جلد اور چھاتی کے کینسر کا باعث بنتے ہیں۔خصوصا انڈرگارمنٹس ک استعمال خواتین میں بہت عام ہے۔اس سے لازما پرہیز کرن چاہیے۔اس کی جگہ سفید کلر کااستعمال کریں جو ہر لحاظ سے بہتر اور سنت رسول ﷺ بھی ہے۔
بالوں کو کلر کرنا اور سٹریٹنر کا استعمال
بالوں کو رنگنے کے لیے کیمیکل کا استعمال بھی کینسر کی طرف لے جاتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بالوں کو سیدھا کرنے کے لیے سٹریٹنر کا استعمال بھی نقصان دہ ہے۔یہ دونوں کینسر کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔اس لیے بالوں کو مہندی سے رنگا جاۓ وہ بھی نیچرل مہندی سے نا کہ کیمیکل ملی مہندی سے۔
چھالیہ ،سگریٹ اور پان کھانے سے جتناب
وہ لوگ جو چھالیہ اور پان کا کثرت سے استعمل کرتے ہیں
ان کے لیے بھی منہ کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
کھانے کے بعد پانی پینا