ہم اور ہمارہ معاشرہ
حق گوہی کی جو چاہیں سزا دےمجھ کو۔
معاشرہ جیسا ہے ویسا ہی کہا میں نے ۔
آج ہمارہ معاشرہ اس جاہلیت کی طرف سامان سفر باندھ چکا ہےجس جاہلیت سے نبی علیہ اسلام نے ہمیں بڑی مشقتوں اور اذیتوں سے نکالا تھا۔ہمارے اس خزان رسیدہ معاشرہ میں اخلاقیات،تہذیب و تمدن کے اثار ہی نہیں پاے جاتےجس کی وجہ سے نبی علیہ اسلام و صحابہ اکرام کے بتاے ہوے معاشرے سے دورہیں۔آج ہر زبان پر زدعام ہے کہ معاشرہ ٹھیک نہیں پر ہمارہ معاشرہ ہمارہ آمین کیسے ہو سکتا ہے جب ہم اسلام سے دور اسلاف سے دور ہو کر مغربی معاشرے کی پیروی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
اج اس معاشرہ میں افسوس صد افسوس گناہ بھی اسلیے کرتے ہیں کہ فلان فلمی ایکٹر ایسا کرتا ہے۔اج ہمیں اسلام کی پیروی حتی کہ اپنی ثقافت کو اپنانے سے شرم محسوس ہوتی ہے۔پھر ہمارہ معاشرہ کیونکر زوال کا شکار نہ ہو ۔۔اج کون سے غلط اطوار ہے جو ہم میں نہیں پاے جاتے۔خود غرضی کا ایسا کون ساطریقہ ہے جو ہم نے ایجاد نہیں کیا مفاد پرستی کی کون سی قسم ہے جو اج ہمارے معاشرے میں پائی نہیں جاتی۔یقینا ان سب کا جواب ہاں ہو گا ۔
آج ہم قران بھی رکھنا چاہتے ہے ساتھ خرافات بھی۔اج ہم سنت بھی رکھنا چاھتے ہے اور ساتھ مغرب کی تہذیب بھی وللہ یہ دونوں چیزیں اکھٹی ممکن نہیں۔۔قران کی منزل اور ہماری منزل ومقصود اور ہے ۔اج رسومات سے ںچنے اور قران کی تعلیم دینے والے کو اولڈ فیش کہا ہے جاتا ۔ان سب کے باوجود ہمیں خود کو مسلمان کہتے ہوے زرا شرم محسوس۔نہیں ہوتی۔معاشرہ خود با خود تیار نہ ہو گا بلکہ اپ اور ہم اک معاشرہ ہے اک سوسائٹی میں رہنے والےکو ۔معاشرہ کہا جاتا تھا۔
انتہا پسندی کے اسباب اور تدارک
مگر ہم اج بڑے وثوق سےاس چیز کو معاشرہ کا نام دیتے ہےکہ اک شخصیت نہیں بلکہ اک شخص کے پیچھے چلنےکو جس کے پچھے ہزروں لوگ چلتے ہے تا کہ وہ ہمارہ معاشرہ قائم۔کر سکے بغیر یہ جانے وہ ہمیں کس معاشرے پو چلنےپر مجبورکررہا ہے ۔زرا نہیں پورا سوچئے گا۔ہمارہ معاشرہ ہمارے اعمال کی عکاسی کرتا ہے جیسے اعمال ہو گے ویسے معاشرہ ویسے ہی حکمران بھی ہم پر مسلط کیے جاے گے ۔اعمال اگر ہمارے عبد اللہ بن ابی جیسے ہو اور حکمران ہم عمران بن خطاب جیسا چاھے یہ تو محال ہے کیا خوب کہا اقبال نے
شمع حق سے جو منور ہو یہ وہ محفل نہ تھی۔
بارش رحمت ہوی لیکن زمین قابل نہ تھی
✍🏻بنت کشمیر