512

ہوم سکولنگ اور کچھ مشورے

تحریر شئیر کریں

ہوم سکولنگ اور کچھ مشورے



✒️: ماوراء زیب

جب ہم بچوں کو گھر میں ہی تعلیم دینے کا ارادہ کرتے ہیں یا یوں کہیے جب ہم گھر کو ہی بچوں کا تعلیمی ادارہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اب ہر کسی کی الگ الگ مشکلات کا احاطہ کرنا تو ممکن نہیں لیکن ذیل میں کچھ تجاویز دی جارہی ہیں جو شاید آپ کے لیے آسانی کا باعث ہوں۔

1۔ جب ہم بچوں کو کتابیں پڑھانے کی طرف لاتے ہیں تو املاء کے سلسلے میں کافی پریشانی ہوتی ہے۔ اس کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ہم فلیش کارڈز بنائیں۔ فلیش کارڈز پر حروف لکھیں بڑے بڑے اور واضح کرکے اور روز بچوں کو پڑھائیں۔ اب اگر یہاں انگریزی اور اردو کی بات کی جائے تو دونوں زبانوں میں املا یا Vocabulary کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ کام ہم بہت چھوٹی عمر میں شروع کر سکتے ہیں اس سے بچہ لفظ سے جلدی متعارف ہوتا ہے۔ اگر کسی بچے کو تین یا چار سال تک جوڑ توڑ کرنا نہیں بھی آتا تب بھی اسے لفظوں سے متعارف کروانے کا

یہ اچھا طریقہ ہے اس سے بچہ کتاب سے جلدی متعارف ہوجاتا ہے۔ فلیش کارڈز اگر آپ بنائیں تو بچوں کی نفسیات کو دھیان میں رکھیں۔ مثلاً میں نے اس سلسلے میں یہ کام کیا کہ بسکٹ اور چاکلیٹ کے خالی ڈبے جمع کیے اور ان کے فلیش کارڈز بنائے۔ یہ طریقہ بہت کارِ گر رہا اور بچے وہ لفظ بالکل بھی نہیں بھولتے تھے جو اپنے پسندیدہ بسکٹ یا چاکلیٹ کے ڈبے کے فلیش کارڈ پر دیکھتے تھے۔

2۔ موبائل کی بیماری کافی عام ہوگئی ہے اور مائیں اس سلسلے میں کافی پریشان رہتی ہیں تو اس سلسلے میں میرا مشورہ یہ ہے موبائل کا مثبت استعمال کریں اور بچوں کو بھی سکھائیں۔ حکومتی سطح پر چھوٹے بچوں کے لیے ایک ایپ بنائی گئی ہے جس کے ذریعے گریڈ 5 تک کے بچوں کو گھر بیٹھے پڑھایا جاسکتا ہے۔ اس ایپ کا نام تعلیم آباد ہے۔ میں نے وہ ایپ خود استعمال کی ہے۔ اس ایپ میں املاء سکھانے کا طریقہ بچوں کی عین نفسیات کے مطابق ہے اور بچے بہت مزے سے املاء سیکھتے ہیں۔ تعلیم آباد میں موسیقی کا استعمال مجھے مناسب نہیں لگا

لیکن اس سلسلے میں آپ کے پاس انتخاب کا حق ہے آپ موسیقی بند بھی کر سکتے ہیں۔ تعلیم آباد میں مختلف کارٹونز کہانیاں بھی موجود ہیں جو زبان اور اخلاقی لحاظ سے کافی درست ہیں چونکہ ہماری حکومت اسلام کے اصولوں پر کم ہی عمل کرتی ہے اس لیے بعض کہانیاں ایسی بھی ہیں جو عقائد کے لحاظ سے درست نہیں اس لیے یہ ایپ والدین ہمیشہ اپنی نگرانی میں استعمال کروائیں۔ مجھے اس ایپ کا املا کا پورشن درست لگتا ہے اس لیے میں اپنی نگرانی میں روز کے 5 الفاظ اپنے بچوں کو کرواتی ہوں۔ اس کے علاوہ انگریزی املاء کے لیے بھی کافی ایپس ہیں جو اپنی نگرانی میں استعمال کروائی جاسکتی ہیں۔

3۔ اگر آپ کے لیے ممکن ہو تو بچوں کے لیے بازار سے مقناطیسی حروف خرید لیں، اور اسے دروازے پر چپکا دیں۔ اگر ایسا کچھ نہیں ہے اور آپ کے لیے لینا بھی ممکن نہیں تو گتے یا کاغذ سے خود کاٹ کر بنا لیں۔ کتاب کی بانسبت بچے اس طرح جلدی سیکھتے ہیں۔ مقناطیسی اعداد کے ذریعے 100 تک گنتی، جمع، نفی، ضرب اور تقسیم کے سوالات بآسانی بچوں کو سکھائے جاسکتے ہیں۔ انگریزی کے حروفِ تہجی کے ذریعے بچے بہت شوق سے الفاظ بنانا سیکھ جاتے ہیں۔ اردو اور عربی کے لیے املاء کا سہارا لینا پڑتا ہے کیونکہ ان دونوں زبانوں کے حروفِ تہجی آپس میں مل کر اپنی شکل تبدیل کر لیتے ہیں۔

بچوں کے ساتھ ایسے کھیل کھیلیں جو ان کی جسمانی صحت کے لیے بہترین ہوں۔ آج کے دور میں نیٹ کی سہولت تقریباً ہر کسی کے پاس ہے وہاں سے مدد لی جاسکتی ہے اور اگر یہ سہولت نہیں ہے تو بھی آپ بچوں کو جسمانی سرگرمیوں میں مختلف طریقوں سے مصروف رکھ سکتی ہیں۔ جسمانی کھیل بچوں کی نشوونما کے لیے بہت ضروری ہیں۔ ہوم سکولنگ کا مطلب ہر وقت بچے کو پڑھانا نہیں ہے، اس کے لیے کھیل بھی ضروری ہیں تاکہ بچہ گھر میں رہ کر اکتاہٹ کا شکار نہ ہو۔

ہوم سکولنگ اور کچھ مشورے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں