241

یوم آزادی اور ہماری ذمے داریاں

تحریر شئیر کریں

✒️: ام محمد سلمان

بچپن میں جب ہم یومِ آزادی منایا کرتے تھے تو ہمارے دل اپنے وطن کی محبت سے معمور ہوتے تھے. اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو یاد کر کے اشک بار ہو جایا کرتے تھے۔ اپنے بڑوں سے تقسیمِ ہند اور ہجرت کے واقعات سن کر دل گداز ہو جایا کرتا تھا۔ مقصد کو جلا ملتی تھی۔ رب العزت کا شکر ادا کرتے تھے کہ ہم کسی غلام ملک میں نہیں بلکہ اپنی آزاد سرزمین میں سانس لیتے ہیں آزادی سے جیتے ہیں۔
یومِ آزادی پر ہماری واحد عیاشی پاکستانی پرچم کا بیج ہوا کرتا تھا، جسے بڑے فخر کے ساتھ اپنے سینے پر آویزاں کر لیا کرتے تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا گویا بارِ آزادی اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے اور ایک دن اس وطنِ عزیز کا قرض چکانا ہے چاہے اس کے لیے خون کی آخری بوند بھی قربان کرنی پڑ جائے۔
یہ وطن جو لا الہ الا اللہ کے نام پر بنا…
یہ وطن جو اسلام کا قلعہ بننے کے لیے وجود میں آیا…
یہ وطن جو مسلمانوں کی عظیم پناہ گاہ ہے جہاں شریعت کا نفاذ کرنا ہمارا اولین مقصد تھا….
یہ وطن جو ہر طرح سے قدرت کے حسین نظاروں اور وسائل سے مالا مال ہے۔
ایک وقت تھا جب اس قوم کو ایک ملک کی ضرورت تھی اور آج وقت ہے جب اس ملک کو ایک قوم کی ضرورت ہے! ہم نے اپنے آپس کے جھگڑوں اور اختلافات میں پڑ کے اس ملک و ملت کو بہت نقصان پہنچایا ہے ہماری ترقی کا راز تو اتحاد و اتفاق میں مضمر تھا مگر ہم سب اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر بیٹھ گئے۔ ہم نے اس ملک کو صرف اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا، کبھی اس کے مفاد کا نہیں سوچا، کبھی اس کے مقصد پر غور نہیں کیا….

🍃اس زمیں کی مٹی میں، خون ہے شہیدوں کا
ارضِ پاک مرکز ہے، قوم کی امیدوں کا
دیکھنا گنوانا مت، دولت یقیں لوگو!
یہ وطن امانت ہے اور تم امیں لوگو!!

اب ضرورت ہے کہ ہر فرد اس ملک کی ترقی و کامیابی میں اپنا حصہ ڈالے، چاہے وہ صرف اور صرف اپنے گلی کوچوں کی صفائی کی حد تک ہی محدود ہو،
چاہے وہ اپنے اخلاق کی درستی ہو اپنے گھر والوں اور ماتحتوں سے نرمی اور شفقت کا سلوک ہو،
چاہے وہ اپنی چھوٹی سی کریانے کی دکان کو ایمان داری سے چلانے تک ہی محدود ہو۔
چاہے وہ مدرسہ و اسکول میں اساتذہ کا اپنے طلبہ کو شفقت اور دیانت داری سے پڑھانے تک محدود ہو۔
چاہے وہ ڈاکٹر حضرات کا اپنے مریضوں کو گاہک نہیں بلکہ مریض سمجھ کر صحیح اور بر وقت علاج کرنے تک محدود ہو۔
چاہے وہ ایک ماں کا اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنے تک محدود ہو…
اور ماں باپ کا بچے کو اچھی تربیت دینا یقیناً ایک فرد نہیں بلکہ ایک پورے معاشرے کی تربیت ہے۔

آج بازاروں میں رنگ برنگے بیج، ٹوپیاں، شرٹ، چوڑیاں اور نہ جانے کیا کیا الم غلم جشن آزادی کے نام پر بک رہا ہے مگر بھرے اسٹالوں کے ساتھ ہی کچرے کے ڈھیر پڑے ہیں اور کسی کو پروا نہیں… یومِ آزادی کی روح ختم ہوگئی، بس ایک رسم رہ گئی جسے ہم ہرے سفید کپڑے پہن کے نت نئے رنگوں کی جھنڈیاں لگا کے پورا کر لیتے ہیں ۔ ہماری موجودہ نسل جانتی ہی نہیں اس آزادی کے پیچھے کتنی قربانیاں دی گئی ہیں۔ ہماری یہ نسل وطن سے محبت تو کرتی ہے مگر محبت کے تقاضوں سے نا آشنا ہے ۔
کیا ہی اچھا ہو اس بار چودہ اگست ہم اس طرح منائیں کہ اپنے گلی کوچوں محلوں کو صاف ستھرا کریں اور اپنے آپ سے ایک عہد کریں کہ آج کے دن وطنِ عزیز کو اس کی منزل تک پہنچانے کے لیے اپنے اندر سے ایک بری عادت کا خاتمہ کریں گے اور پورے سال اس پر قائم رہ کر اگلے سال پھر ایک بری عادت کو چھوڑنے کا عزم مصمم کریں گے، چاہے وہ بری عادت سگریٹ پینے کی ہو، گٹکا اور ماوی جیسی مضر صحت چیزیں کھانے کی ہو، گالم گلوچ کرنے کی ہو، لوگوں پر منفی تبصرے کرنے کی ہو، بد دیانتی کی ہو، بد تہذیبی کی ہو یا بد دینی کی ہو فحاشی اور بے حیائی کی ہو…..
عہد کیجیے اپنے وطن عزیز کی سلامتی اور بقا اور اپنے رب کی دی اس عظیم نعمت کی شکر گزاری کے طور پر کوئی ایک وعدہ آج اپنے آپ سے ضرور کریں گے!!
اور اپنے جسم و جاں سے اس عہد کو نبھانے کی بھرپور کوشش کریں گے… ان شاء اللہ العزیز!!

پاکستان پائندہ باد!!

===================

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں