میرے شوہر اکثر مسکرا کر کہا کرتے تھے، “میرے بارے میں ایک کتاب لکھو…”. اُس وقت یہ جملہ مجھے ایک ہنسی مذاق، ایک محبت بھری فرمائش سا لگتا تھا۔ میں بھی ہنس کر ٹال دیتی تھی۔ کون جانتا تھا کہ ایک دن اُن کی یہی بات میرے دل کا دروازہ کھول دے گی، مجھے قلم پکڑا دے گی، اور لفظوں کو ایک ایسا راستہ دکھائے گی جہاں ہر صفحہ کسی نہ کسی مرد کے اندر چھپے دکھ، تھکن، ذمہ داری اور محبت کی کہانی سناتا ہے۔ جب وہ چلے گئے تو اُن کی بات گونج بن کر میرے اردگرد تیرتی رہی۔ میں نے سوچا اُن کے لیے لکھوں، مگر پہلی ہی سطر نے دل پر یہ حقیقت آشکار کر دی کہ یہ کہانی صرف ایک مرد کی نہیں۔ ایسے مرد بہت ہیں جو اپنے احساسات تک اپنے تک رکھتے ہیں، روتے بھی ہیں تو کسی کے سامنے نہیں۔ جن کا درد کسی کو نظر نہیں آتا اور جن کی محبتیں لفظوں میں کم اور عمل میں زیادہ جھلکتی ہیں۔
میں نے لکھنا شروع کیا تو احساس ہوا کہ مرد کے دل میں بھی ایک ایسا سمندر ہوتا ہے جو نظر نہیں آتا۔ دنیا اسے مضبوط کہہ کر اس کے اندر چھپا ہوا بوجھ دیکھتی ہی نہیں۔ وہ تھک جاتا ہے، مگر تھکاوٹ کا اعتراف نہیں کرتا۔ وہ روتا ہے، مگر اپنے آنسو چہرے سے پہلے ہاتھوں پر پونچھ لیتا ہے کہ گھر والے پریشان نہ ہوں۔ وہ خواہشیں رکھتا ہے، مگر ترجیحات میں ہمیشہ اپنے لوگوں کو آگے رکھتا ہے۔ زندگی اُس سے مسلسل مانگتی رہتی ہے اور وہ بغیر کسی احتجاج کے دیتا رہتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جسے دیکھ کر دل چاہا کہ سچ کو لکھا جائے—خاموشیوں کو، دبے ہوئے جذبات کو، اُن ذمہ داریوں کو جنہیں وہ پوری زندگی نبھاتا ہے، بغیر کسی داد کے، بغیر کسی میڈل کے۔
میری کتاب اُن تھکنوں پر ہے جنہیں وہ روز مرہ کی مصروفیات میں چھپا دیتا ہے۔ کبھی کمانے نکلتا ہے تو موسم اس کے راستے میں آڑے آتا ہے، کبھی مسائل، کبھی حالات، کبھی ذمہ داریاں۔ لیکن وہ پھر بھی واپس اسی گھر میں لوٹتا ہے جہاں اُس کے لیے کوئی تعریفی الفاظ نہیں رکھتا، بس مزید ضرورتیں ہوتی ہیں۔ وہ اپنے جوتوں کی دھول جھاڑتا ہے اور دل کے اندر کی تھکن کو بھی وہیں کہیں جھاڑ دیتا ہے، تاکہ چہرے پر وہی ثابت قدمی کی روشنی باقی رہے۔ اس کی زندگی میں کئی خواہشیں ادھوری رہ جاتی ہیں، کئی خواب ٹوٹ جاتے ہیں، مگر وہ اُن کا ذکر بھی نہیں کرتا۔ وہ خاموشی سے نئے دن کا بوجھ اٹھا لیتا ہے۔
میں ایسے مردوں کے بارے میں لکھ رہی ہوں جو لفظوں سے نہیں، رویوں سے محبت کرتے ہیں۔ جن کا طریقہ اظہار یہ نہیں کہ بار بار کہہ دیں کہ وہ محبت کرتے ہیں، بلکہ وہ اپنے حصے کی محبت دن رات چھوٹی چھوٹی ذمہ داریوں کی شکل میں ادا کرتے رہتے ہیں۔ وہ بازار سے ایک چھوٹی سی چیز لاتے ہیں، راستے میں چھاؤں ڈھونڈتے ہیں، گھر میں داخل ہوتے ہوئے ہنسی کا بہانہ تراشتے ہیں، بچوں کی خواہش پوری کرنے کے لیے کہیں اور سے کٹوتی کر لیتے ہیں، اور بیوی کے چہرے کی تھکن دیکھ کر دل میں ایک نرمی محسوس کرتے ہیں جس کا ذکر کبھی نہیں کرتے۔ اس محبت میں اعلان نہیں ہوتا، بس نبھانے کا وزن ہوتا ہے۔
دنیا انہیں مضبوط دیکھنا چاہتی ہے، لیکن کوئی نہیں جانتا کہ اندر سے وہ بھی کبھی کبھی بکھر جاتے ہیں۔ ان کی زندگی میں بھی کچھ رشتے ادھورے رہ جاتے ہیں، کچھ خواب دبتے جاتے ہیں، کچھ دکھ دل میں نقش ہو جاتے ہیں۔ مگر وہ سب کے سامنے ایسے کھڑے رہتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ اندر ٹوٹ جاتے ہیں مگر چہرے پر دلاسا رکھتے ہیں کہ گھر والے ہمت پکڑے رہیں۔ یہ مرد اپنے دل کے اندر ایک عجیب سا یونہی زندہ رہنے والا زخم رکھتے ہیں—جسے نہ وہ دکھاتے ہیں، نہ کسی سے بانٹتے ہیں۔ لیکن وہ پھر بھی ہر صبح اُٹھ کر دنیا کا سامنا کرتے ہیں۔
میں اُن سب کے لیے لکھ رہی ہوں جو اپنے دکھوں کو مذاق بنا دیتے ہیں تاکہ کوئی ان کی آنکھوں میں نمی نہ دیکھ لے۔ جو اپنی پریشانی کو لفظوں میں لپیٹ دیتے ہیں اور ہنسی کے ذریعے زندگی کو آسان بنا دیتے ہیں۔ جو گھر والوں کے آگے مضبوط نظر آتے ہیں تاکہ سب کو محفوظ محسوس ہو۔ ان کی زندگی بھی کتنی عجیب ہوتی ہے—جذبات ہوتے ہیں مگر اظہار نہیں، دکھ ہوتے ہیں مگر زبان پر نہیں آتے، محبت ہوتی ہے مگر تعریف کا طریقہ بدل جاتا ہے، تھکن ہوتی ہے مگر کسی کو دکھائی نہیں دیتی۔
میرا قلم ان سب مؤقفوں، مشکلات اور خاموشیوں کا بوجھ اٹھانے والے مردوں کو سلام کرتا ہے۔ یہ تحریر اُن مردوں کے لیے ہے جو خود ٹوٹ کر بھی رشتوں کو جوڑتے ہیں۔ جو اپنی ذات کو پیچھے رکھ کر گھر والوں کا مستقبل آگے رکھتے ہیں۔ جو تھکن میں بھی مسکراتے ہیں اور مایوسی میں بھی راستہ تلاش کرتے ہیں۔ ان کی محبتیں کم نہیں ہوتیں، بس بہت گہری ہوتی ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ عدتیں، رشتے، ذمہ داریاں سب کچھ اُن پر ہے—اور وہ کبھی اس سے بھاگتے نہیں۔ اُن کی وفاداری لفظوں میں نہیں، وہ دن رات کے معمولات میں چھپی ہوتی ہے۔ ہر وہ قدم جو وہ چپ چاپ اٹھاتے ہیں، دراصل محبت کا ایک ڈھکا چھپا اظہار ہوتا ہے۔
میں اُن سب مردوں کے لیے لکھ رہی ہوں جنہوں نے زندگی میں بہت کچھ برداشت کیا، بہت کچھ سہہ لیا، مگر کبھی شکوہ نہ کیا۔ جو اپنے دکھوں کو سینے میں دفن کر کے دوسروں کو جینے کی وجہ دیتے رہے۔ یہ تحریر ان بے آواز قربانیوں کے نام ہے جو کسی کو سنائی نہیں دیتیں، مگر دنیا انہیں خاموشی سے محسوس کیے بغیر آگے بڑھتی رہتی ہے۔ ایسے مرد کہیں نا کہیں ہمارے اردگرد موجود ہیں، کبھی باپ کی شکل میں، کبھی شوہر کی صورت میں، کبھی بھائی کے روپ میں، اور کبھی کسی بیٹے کی صورت میں جو عمر سے پہلے بڑا ہو جاتا ہے۔
میں نے اپنے شوہر سے محبت کا قرض ادا کرنے کے لیے قلم نہیں اٹھایا، بلکہ اُن جیسے ہر مرد کا حق ادا کرنے کے لیے اٹھایا ہے۔ وہ مرد جن کی کہانی سنانے والا کوئی نہیں ہوتا، جو اپنی وفا کو لفظوں میں نہیں، عمل میں جیتے ہیں۔ یہ تحریر اُن سب کے نام ہے جو زندگی کا ہر باب خاموشی سے لکھتے ہیں اور جن کی کہانی بھی اتنی ہی خاموش، مگر بے حد گہری ہوتی ہے۔ ان سب کے لیے دل سے احترام، دل سے دعا اور دل سے سلام۔