اسلام کی حقانیت ہمیشہ سے سچائی کے متلاشی دلوں کو اپنی طرف کھینچتی آئی ہے۔ ایسے ہی ایک سچائی کے متلاشی، ابو امینہ بلال فلپس، جو ایک مسیحی خاندان میں پیدا ہوئے اور ایک عام زندگی گزار رہے تھے، ایک کتاب پڑھنے کے بعد اسلام کی روشنی میں داخل ہو گئے۔ وہ کتاب تھی سید ابوالاعلی مودودیؒ کا ایک کتابچہ، جس نے ان کے دل کی دنیا بدل دی۔
بلال فلپس، جن کا اصل نام “ڈینس براڈلی فلپس” تھا، 1947 میں جمیکا میں پیدا ہوئے اور کینیڈا میں پلے بڑھے۔ وہ ایک متلاشی ذہن رکھتے تھے اور سچائی کی تلاش میں مختلف نظریات اور مذاہب کا مطالعہ کر رہے تھے۔ اسی دوران ان کے ہاتھ سید ابوالاعلی مودودیؒ کا ایک کتابچہ آیا، جس نے ان کے ذہن میں اسلام کی سچائی کو واضح کر دیا۔ وہ اس قدر متاثر ہوئے کہ اسلام قبول کر لیا اور پھر دین کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مدینہ یونیورسٹی چلے گئے۔
ہزاروں امریکی فوجیوں کو اسلام سے روشناس کرایا
بلال فلپس نے صرف اسلام قبول کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی زندگی کو اسلام کی دعوت کے لیے وقف کر دیا۔ انہوں نے خاص طور پر امریکی فوجیوں میں تبلیغ کی اور تقریباً دس ہزار امریکی فوجیوں کو اسلام کی دولت سے مالا مال کیا۔ ان کی محنت، خلوص، اور علم نے بے شمار لوگوں کے دلوں میں اسلام کی سچائی کو اجاگر کیا۔
یہ واقعہ اس حقیقت کی جیتی جاگتی مثال ہے کہ تحریر کی طاقت کبھی زائل نہیں ہوتی۔ سید ابوالاعلی مودودیؒ کی فکر اور ان کے قلم کی تاثیر نے ایک شخص کی زندگی بدلی اور وہ شخص آگے چل کر ہزاروں لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنا۔ مودودیؒ کا علمی سرمایہ آج بھی دنیا بھر میں لوگوں کو حق کی طرف مائل کر رہا ہے۔ ان کے الفاظ زندہ ہیں، ان کا پیغام روشن ہے، اور ان کا مشن جاری ہے۔
افسانہ روشنی کی رات
یہ واقعہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ایک سچی بات، ایک چھوٹی سی تحریر، ایک حق پر مبنی پیغام کسی کی زندگی بدل سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سید ابوالاعلی مودودیؒ کی قبر کو نور سے منور کرے، ان کے درجات بلند کرے، اور ہمیں بھی دین کی سچائی کو آگے پہنچانے کی توفیق دے۔ آمین۔
بلال فلپس کا قبولِ اسلام