
انسانی فطرت کا یہ خاصہ ہے کہ وہ خوشی کے لمحات میں اپنے خالق کو بھولنے کی خطا کر بیٹھتی ہے، حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں سرخرو ہوئیں جنہوں نے نعمت ملنے پر شکر اور بندگی کا دامن نہیں چھوڑا۔ نکاح، جو کہ ایک مقدس سماجی معاہدہ اور سنتِ نبوی ﷺ ہے، آج ہمارے معاشرے میں ایک ایسی ‘نمود و نمائش’ بن چکا ہے جہاں مادیت کی چکا چوند میں روحِ دین کہیں کھو گئی ہے۔ ہم جس لمحے ایک نئے رشتے کی بنیاد رکھ رہے ہوتے ہیں، کیا ہم نے سوچا ہے کہ اس کی بنیاد معصیت پر ہے یا رضائے الٰہی پر؟
شادی یا گناہوں کا مجموعہ؟
آج کل کی شادیاں اسلامی اقدار کے بجائے ہندوانہ رسم و رواج اور مغربی فیشن کا ملغوبہ بن چکی ہیں۔ ‘حیا’ جو ایمان کا حصہ تھی، اسے سٹیج پر ہونے والے رقص اور نامحرموں کے اختلاط نے پامال کر دیا ہے۔ ہم لاکھوں روپے اسراف (فضول خرچی) میں اڑا دیتے ہیں، جبکہ ہمارے پڑوس میں کوئی بھوکا سو رہا ہوتا ہے۔ اسلامی اقدار ہمیں سادگی اور برکت کا درس دیتی ہیں، مگر ہم نے برکت کو مہنگے ترین ڈیزائنر ملبوسات اور لایعنی رسموں میں تلاش کرنا شروع کر دیا ہے۔ کیا گناہوں کی بنیاد پر شروع ہونے والا سفر سکونِ قلب دے سکتا ہے؟
جدیدیت کا زہر اور لبرل منافقت
یہاں ‘جدیدیت’ کے علمبردار اور لبرل طبقے کا دوغلا پن کھل کر سامنے آتا ہے۔ وہ طبقہ جو خواتین کے حقوق اور معاشرتی بوجھ پر بلند بانگ دعوے کرتا ہے، وہی شادیوں میں ہونے والی اس بیہودگی اور فضول خرچی کو ‘ذاتی پسند’ کہہ کر تحفظ دیتا ہے۔ مغرب کی منافقت دیکھیں کہ وہ ہمیں سادگی کا مشورہ دیتے ہیں مگر ان کی فلمی چکا چوند نے ہمارے متوسط طبقے کو بھی نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔ ہم جدید بننے کے چکر میں اتنے ‘دوغلے’ ہو چکے ہیں کہ نکاح کی محفل میں خطبہِ مسنونہ تو سنتے ہیں، مگر اس کے فوراً بعد ہونے والا رقص اور شور و غوغہ ہمارے مسلم ہونے پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیتا ہے۔
ضمیر کی دستک اور آخرت کی فکر
ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا: کیا ہم واقعی مسلم ہیں؟ اگر ہمارا عمل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی پر مبنی ہے، تو ہم کس منہ سے برکت کی دعا کرتے ہیں؟ وقت آ گیا ہے کہ ہم ان ‘گناہوں سے بھری شادیوں’ سے توبہ کریں اور سادگی کی طرف رجوع کریں۔ کامیابی صرف اس عالیشان ہال میں نہیں، بلکہ اس میں ہے کہ جب ہم اللہ کے حضور پیش ہوں تو ہمارا نامہِ اعمال ان لایعنی گناہوں سے پاک ہو۔ آئیے، اپنے ضمیر کو بیدار کریں اور اپنی خوشیوں کو اللہ کی رضا کے تابع کریں۔
gunahon-se-bhari-shadiyan-islamic-value
گناہوں سے بھری شادیاں اور ہمارا دعویِٰ ایمان