حرف معتبر:علم کی دہلیز اور ٹوٹتے حوصلے 172

حرف معتبر:علم کی دہلیز اور ٹوٹتے حوصلے

تحریر شئیر کریں

حرف معتبر:علم کی دہلیز اور ٹوٹتے حوصلے
​
​تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبیں تب دم توڑتی ہیں جب ان کے نوجوانوں کے خواب تھک کر زندگی سے ہار مان لیں۔ انسانی فطرت ہمیشہ سے بقا کی جنگ لڑتی آئی ہے، لیکن جب ایک پھول جیسی زندگی اپنی ہی خوشبو سے اکتا کر فضاؤں میں چھلانگ لگا دے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ زہر صرف ہواؤں میں نہیں، بلکہ ہماری سماعتوں اور رویوں میں بھی گھل چکا ہے۔ عمارتیں جب اونچی ہو جائیں اور انسان چھوٹے پڑ جائیں، تو حادثے نہیں، المیے جنم لیتے ہیں۔
​
​لاہور کیuniversty of Lahore کی چھت سے ایک طالبہ کا کود جانا محض ایک خبر نہیں، بلکہ ایک لرزہ خیز چیخ ہے۔ یہ چیخ اس ‘ڈی فارم’ کی طالبہ کی ہے جس کے سامنے پوری زندگی کا سفر تھا، مگر اس نے زمین کے بجائے آسمان کی وسعتوں میں پناہ ڈھونڈنا چاہی۔ ‘حیا’ اور ‘اسلامی اقدار’ ہمیں سکھاتی ہیں کہ زندگی اللہ کی دی ہوئی وہ امانت ہے جس کی حفاظت ہر حال میں فرض ہے، لیکن کیا ہمارا تعلیمی نظام اور معاشرہ اس امانت کو وہ سکون فراہم کر رہا ہے جس کا وہ حقدار ہے؟ کیا ہم نے اپنے بچوں کو صرف ‘گریڈز’ کی دوڑ میں لگا دیا ہے یا انہیں ‘صبر’ اور ‘توکل’ کی ڈھال بھی عطا کی ہے؟
​
​جدیدیت کا لبادہ اوڑھے ہمارا لبرل طبقہ اور مغربی ڈھانچے پر استوار تعلیمی ادارے آج ‘مینٹل ہیلتھ’ (ذہنی صحت) پر سیمینارز تو بہت کرتے ہیں، مگر ان کی منافقت دیکھیے کہ اسی جدیدیت نے انسان کو تنہائی کے اس گڑھے میں دھکیل دیا ہے جہاں وہ اپنوں کے درمیان رہ کر بھی اجنبی ہے۔ ہم مغربی طرزِ تعلیم تو اپنا رہے ہیں، مگر اس کے ساتھ آنے والی وہ بے حسی اور دوغلا پن بھی ہمارے رگ و پے میں سما گیا ہے جو ایک انسان کو محض ایک ‘رول نمبر’ سمجھتا ہے۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ حفاظتی جنگلے لگانے کی بات تو کرتی ہے، مگر ان ٹوٹتے ہوئے دلوں کے گرد محبت کی کوئی باڑ نہیں لگاتی جو ناامیدی کے طوفانوں کی زد میں ہیں۔
​
​کتنے دکھ کی بات ہے کہ جس قلم کو تقدیر لکھنی تھی، وہ ٹوٹ گیا؛ جس آنکھ کو ستارے دیکھنے تھے، اس میں اندھیرا چھا گیا۔ علم کی پیاس بجھانے آئی بیٹی اگر موت کی آغوش میں سکون تلاش کرے، تو یہ صرف اس کی ناکامی نہیں، بلکہ اس معاشرے کے ہر اس فرد کی ناکامی ہے جو اپنے بھائی یا بہن کی خاموش پکار نہ سن سکا۔ جملے اب بوجھل ہیں اور الفاظ کے پیراہن لہو رنگ، کیونکہ جب زندگی سستی اور ڈگریاں مہنگی ہو جائیں، تو ضمیر مردہ ہو جایا کرتے ہیں۔

​اس المیے کا حل دیواروں پر جالیاں لگانے میں نہیں، بلکہ دلوں میں اللہ کا خوف اور ایک دوسرے کے لیے ہمدردی پیدا کرنے میں ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو بتانا ہوگا کہ دنیا کی کوئی ناکامی اتنی بڑی نہیں کہ اللہ کی رحمت سے مایوسی کا جواز بن سکے۔ اے ضمیر کے قیدیوں! اپنے بچوں کو ‘آخرت کی کامیابی’ کا فلسفہ سمجھائیں تاکہ وہ دنیا کے چھوٹے چھوٹے امتحانوں سے نہ گھبرائیں۔ اللہ کی طرف رجوع کریں، کیونکہ سجدوں میں جو سکون ہے، وہ کسی بلند عمارت کی منڈیر پر نہیں ہے۔

حرف معتبر:علم کی دہلیز اور ٹوٹتے حوصلے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں