وہ قہقہہ لگا کر ہنسا، دیر تک ہنستا رہا۔ پھر عینک اتار کر آنکھیں پونچھیں اور مسکراتے ہوئے بولا، “یار، جس انداز سے تم نے ‘مولوی صاحب’ کہا، میں تو بس وہی انجوائے کر رہا ہوں۔ ذرا مجھے اس لمحے کو جینے دو!”
وہ کچھ دیر خاموش رہا، جیسے کوئی پرانی یادوں میں کھو گیا ہو۔ پھر گویا ہوا، “گانے نے مجھے شہرت دی، پیسہ دیا، عزت دی، لیکن جو چیز نہیں دی وہ تھا سکون۔ اور جب مجھے یہ احساس ہوا کہ سکون دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے، تو میں نے وہ راستہ چن لیا جہاں مجھے یہ نعمت مل سکے۔”
وہ لمحہ بھر رکا، جیسے اپنی ہی کہی بات کو پرکھ رہا ہو، پھر ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بولا، “میں ویمبلے میں شو کرنا چاہتا تھا، خواہش تھی کہ میرا خیمہ سب کے درمیان ہو۔ 1992ء میں ویمبلے گیا تو دیکھا کہ امیتابھ بچن کے گرد لوگ دیوانوں کی طرح جمع تھے، اس کے ہاتھ چوم رہے تھے، تصویریں بنوا رہے تھے۔ دل میں خیال آیا، کیا میں بھی کبھی یہاں تک پہنچ سکتا ہوں؟”
وہ آنکھیں بند کرکے لمحہ بھر خاموش رہا، پھر جیسے کسی اندرونی روشنی کے ساتھ بولا، “اللہ نے دعا سن لی۔ وہ دن بھی آیا جب میرے نام کا چرچا ہوا، لوگ میرے ساتھ تصویریں بنوانے کے لیے بیتاب تھے۔ میں خوش تھا، سرشار تھا، لیکن پھر…”
ایک گہری سانس لی اور دھیمے لہجے میں بولا، “پھر احساس ہوا کہ یہ سب کچھ ہونے کے باوجود میرے دل میں ایک خلا ہے۔ سکون کہاں ہے؟ مجھے سمجھ آیا کہ اصل کامیابی عزت یا شہرت نہیں، بلکہ وہ اندرونی سکون ہے جو دل کو مطمئن کر دے۔”
وہ رکا، جیسے کوئی راز کھولنے لگا ہو، پھر ہلکے انداز میں مسکراتے ہوئے کہا، “کیا تمہیں معلوم ہے؟ پاکستان میں ہر کوئی کبھی نہ کبھی ڈاکٹر، پولیس یا تبلیغی جماعت کے قابو ضرور آتا ہے! زیادہ تر لوگ چند دن بعد واپس پلٹ جاتے ہیں، مگر کچھ ہمیشہ کے لیے بدل جاتے ہیں۔ میں بھی ایک دوست کے کہنے پر مولانا طارق جمیل سے ملا، اور پھر وہ محبت ملی جو پہلے کبھی کسی نے نہیں دی۔ یہ محبت نشہ بن گئی اور میں اس میں ڈوبتا چلا گیا۔”
ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھوں میں چمک آئی، پھر بولا، “ہاں، میں نے ایک بار بھاگنے کی کوشش کی تھی۔ گانا چھوڑا تو دل میں سوال اٹھا: ‘جنید جمشید، اب کھائے گا کہاں سے؟’ گانے کے بغیر تو میں کچھ بھی نہیں تھا۔ یہی سوچ کر ایک بار پھر پرانی دنیا میں واپس چلا گیا۔ مگر جلد ہی سمجھ آ گیا کہ مجھے فیصلہ کرنا ہوگا—شہرت، دولت، عزت یا سکون؟”
وہ جیسے خود سے ہمکلام ہو، “یہ آسان نہیں تھا۔ گانے سے میری روزی روٹی جڑی تھی، لوگ میرے فین تھے، تصویریں، آٹوگراف… یہ سب میرا نشہ تھا۔ مگر پھر میں نے اللہ سے ایک سودا کیا—میں نے اپنی عزت، شہرت، روزگار سب کچھ اس کے نام پر چھوڑ دیا۔”
وہ گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا، “اللہ کے وعدے کو آزمانا چاہتا تھا۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ جو شخص اللہ کے لیے قربانی دیتا ہے، اللہ اسے ستر گنا زیادہ لوٹاتا ہے۔ میں نے سب کچھ چھوڑ دیا، اور اللہ نے مجھے وہ لوٹایا جس کا میں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ میں نے گانے کو چھوڑا، مگر اللہ نے میرے نام سے ایک برانڈ کھڑا کر دیا۔ میں نے شہرت چھوڑی، مگر اللہ نے مجھے نعت خوانی کے ذریعے پوری دنیا میں پہچان دے دی۔ میں نے فینز چھوڑے، مگر آج لوگ مجھ سے دعا کروانے آتے ہیں۔ بتاؤ، کیا میں نقصان میں رہا؟”
وہ خاموش ہو گیا، جیسے سب کچھ کہہ چکا ہو۔ میں نے مذاق میں کہا، “بس اب دعا کرو کہ تم ان لوگوں کے ہاتھ نہ لگو جو تمہیں گستاخ کہہ رہے ہیں!” وہ ہنسا، مگر میں نے جب سات دسمبر کو اس کے حادثے کی خبر سنی، اور پھر اس کا جنازہ دیکھا تو مجھے اندازہ ہوا—وہ سچ کہہ رہا تھا۔
اس ملک میں بڑے بڑے لوگ مرے، مگر کسی گلوکار کا جنازہ اسٹیڈیم میں نہیں ہوا۔ کسی کو ائیر فورس نے گارڈ آف آنر نہیں دیا۔ مگر جنید جمشید کو یہ عزت ملی۔ اور تب میں نے مان لیا، جو اللہ سے سودا کرتا ہے، وہ کبھی خسارے میں نہیں رہتا۔