2,166

کاسنی بوٹی کے فوائد

تحریر شئیر کریں

تحریر : لبنٰی جمشید

 

کاسنی بوٹی کے فوائد

کاسنی بوٹی جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے کہ کاسنی رنگ کا ایک پھول ہے جو کاسنی کے پودے پر اگتا ہے اور اسی مناسبت سے اسے کاسنی بوٹی کا نام دیا گیا ہے۔ موجودہ مہینے یعنی کہ جون میں گرم ممالک میں یہ پودا کاسنی اور آسمانی رنگ کے پھولوں کے ساتھ اپنے جوبن پر ہے.

کاسنی کی دریافت

کاسنی کو عربی میں ”ھندبا“ کہا جاتاہے جبکہ اس کی دریافت کا سہرا یونانی حکیموں کے سر جاتا ہے۔ لیکن ہم اگر اسلامی تاریخکا مطالعہ ریں تو آج سے 1400 سال قبل بھی اس کا استعمال احادیث سے ثابت ہے۔
نبی پاک ﷺ‎ کا ارشاد ہے ”کاسنی کا استعمال کرو اور اس کو صاف نہ کرو اس لئے کہ ہر روز اس پر قطرات جنت ٹپکتے رہتے ہیں“۔

اس کے بارے میں ایک اور حدیث یوں ہے” جس نے کاسنی کھائی اور اسی حالت میں سوگیا تو اس پر جادو اور زہر میں سے کوئی اثر نہیں کرے گا۔

کاسنی کے اجزا۶

100 گرام پتوں کے حساب سے

کیلوریز کی مقدار 20

رطوبت 93 %
پروٹین 1.7%
چکنائی0.1 %
ریشے 0.9 %
کاربوہائیڈریٹ 4.3 %

اس کے علوہ کاسنی میں معدنی اور حیاتیاتی اجزاءمثلاً فولاد، کیلشیم، پروٹین ،فاسفورس، تھایامین، ریبو فلاوین، نایاسین اور وٹامن سی بھی شامل ہیں۔
کاسنی ایک زود اثر غذا کے ساتھ دوا بھی ہے۔ اس کو جڑی بوٹی اور سلاد کی حیثیت سے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

کاسنی کے فوائد

دل کی کمزوری کے لیے

دل کی دھڑکن کا تیز ہونا اور دل زور زور سے دھڑکنا کہ چلنا پھرنا دشوار ہو جائے، کمزوری میں زیادتی کا احساس ہو تو سبز کاسنی ڈیڑھ چھٹانک، سبز دھینا ایک تولہ دونوں کا پانی نکال کر گاجر کے مربے کے شیرے سے میٹھا کر کے اس کے ساتھ کشتہ چار رتی ( پیمانہ) صبح صادق چند روز تک استعمال کرنے سے خدا کے دل کو سکون ملتا ہے۔۔ اس کے علاوہ اس کو برادہ صندل سفید کے ساتھ دل کے مقام پر لیپ کرنے سے فوراً تسکین ہو جاتی ہے۔

کھانسی اور دمہ کے لئے

موجودہ دور میں ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے دمہ کے مرض میں ہر گزرتے دن اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر دمہ س نجات چاہیے تو گاجر، اجمود اور کاسنی کے جوس کو ملا کر پینے سے جلد افاقہ ہوگا, البتہ اس کے ساتھ نشاستہ دار غذائیں اور دودھ ترک کرنا ضروری ہے.

طب یونانی میں کاسنی کی خشک جڑوں کا سفوف نصف چائے کا چمچ شہد کے ساتھ ملا کر روزانہ تین بار کھانے سے سانس کی بیماریوں سے نجات ملتی ہے۔جیسا که آج ککرونا وائرس کی وبا پھیلی ہے ۔اس میں بھی یه کافی سودمند هے۔

پاکستان میں جنگلی کاسنی کا شربت syrup of wild chicory کے نام سے فروخت کیا جاتا ہے جسے بچوں کی کھانسی
کے لئے بےحدمفید مانا جاتا ہے۔

جگر کے لیے مفید

ہیپا ٹائٹس کی بیماری میں انسانی جگر متاثر ہوتاہے کاسنی کے پتوں میں قدرت نے ایسے کراماتی اجزاء پیدا کردئیے ہیں جو کہ ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لئے جادوئی انداز میں کام کرتے ہیں۔ لیکن ایک اہم بات یہ ہے کہ اگر ان کو دھو لیا جاۓ تو پھر ان کا اثر ذائل ہو جاتا ہے۔

جگر کو فعال رکھتی ہے

ہہمارے بدن کا سب سے بڑا اور اہم غدود جگر ہے, اس کا کام ہر وقت خون کی صفائی اور صفراوی رطوبت کو خون سے جدا کر کے پتے میں ذخیرہ کرنا ہے۔ جب جگر میں ورم ہو جائے تو ہاتھ پاؤں سوکھ جاتے ہیں اور پیٹ میں پانی جمع ہو جانے سے جلندھر بیماری ہو جائے یا گردے خراب ہونے سے آنکھیں سوجی ہوئی نظر آئیں تو کاسنی اس کا شافی علاج ہے۔ کاسنی کا شربت فاسد ماوں کے اخراج میں معاون ہونے کے ساتھ جگر کو بھی فعال رکھتاہے۔

بچھو کے کاٹ پر لگائیں

کاسنی کے پتوں کا رس نچوڑ کر بچھو کے کاٹنے پر لگانے سے درد سے نجات ملتی ہے اور ورم بھی ختم ہو جاتا ہے , زمانہ قدیم س یہ روایت چلی آ رہی ہے ۔

جدید سائینسی ریسرچ کے مطابق بڑھی ہوئی تلی بخار اور اسہال میں اس کا استعمال مفید ہے۔ کاسنی کی جڑ بھی باقی اجزا۶ کی طرح فائدہ مند اور اندرونی شکمی اعضا کے ورم کو رفع کرتی ہے لیکن یہ سرد مزاج والوں کے لیے مضر صحت بھی ہے۔۔

کاسنی بوٹی کے فوائد

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں