کالم نگار:روبینہ شاہین

تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ اقتدار کی ہوس اور بالادستی کا جنون ہمیشہ انسانی لہو سے اپنی پیاس بجھاتا آیا ہے۔ سقراط نے کہا تھا کہ “صرف مردہ لوگوں نے ہی جنگ کا خاتمہ دیکھا ہے”، اور آج مشرقِ وسطیٰ کے افق پر چھائے سیاہ بادل اسی قدیم سچائی کی بازگشت محسوس ہوتے ہیں۔ انسان اپنی فطرت میں امن کا طالب تو ہے، مگر جب انا اور مفادات کے بت تراش لیے جائیں، تو بستیوں کی تباہی کو ‘عظیم مقصد’ کا نام دے دیا جاتا ہے۔ آج ایک بار پھر خطہ اس مقام پر کھڑا ہے جہاں ایک غلط فیصلہ نسلوں کی بربادی کا پروانہ بن سکتا ہے۔
خلیجی ممالک کی دہائی اور ایمانی بصیرت
حالیہ دنوں میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تندوتیز بیانات اور “Help is on its way” جیسے معنی خیز پیغامات نے بارود کی بو کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اس صورتحال میں سعودی عرب، قطر اور عمان کا امریکہ سے یہ مطالبہ کہ “ایران پر حملہ نہ کیا جائے”، محض سیاسی مصلحت نہیں بلکہ ایک گہری تشویش کا اظہار ہے۔ مسلم ممالک جانتے ہیں کہ آگ جب بھڑکتی ہے تو وہ سرحدوں کی تمیز نہیں کرتی۔ اسلام ہمیں حکمت اور تدبر کا درس دیتا ہے۔ فتنہ پروری کے اس دور میں، جہاں ایک چنگاری پورے چمن کو خاکستر کر سکتی ہے، مسلم امہ کے ان اہم ستونوں کا موقف اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ امتِ مسلمہ مزید کسی انتشار اور خونریزی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ حیا اور اخلاقیات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسانی جان کی حرمت کو سیاسی مفادات پر مقدم رکھا جائے۔
: جدیدیت کا لبادہ اور مغربی منافقت
یہاں جدیدیت کے علمبرداروں اور لبرل طبقے کا دوغلا پن کھل کر سامنے آتا ہے۔ وہ مغرب، جو انسانی حقوق اور ‘عالمی امن’ کے قصیدے پڑھتے نہیں تھکتا، جب اپنے مفادات کی باری آتی ہے تو جنگی جنون کو ‘جمہوریت کا تحفظ’ قرار دینے لگتا ہے۔ یہ کیسی ترقی ہے جو بارود کے ڈھیر پر کھڑی ہے؟ ایک طرف انسانیت کی خدمت کے دعوے ہیں اور دوسری طرف پورے خطے کو عدم استحکام کی آگ میں جھونکنے کی تیاریاں۔ مغرب کی یہ منافقت کوئی نئی بات نہیں، مگر افسوس ان لبرل دانشوروں پر ہے جو اپنی تہذیب کی جڑوں سے کٹ کر انہی استعماری قوتوں کی بولی بولتے ہیں، جو امن کے نام پر صرف بربادی بانٹتے ہیں۔
: ضمیر کی دستک اور اصل کامیاب
ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ دنیاوی طاقتیں کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، اصل اقتدار اللہ رب العزت کا ہے۔ جنگیں زمینیں تو فتح کر سکتی ہیں، مگر دلوں میں نفرت کے سوا کچھ نہیں بوتییں۔ آج وقت ہے کہ عالمی طاقتیں اور علاقائی کھلاڑی اپنے ضمیر کی آواز سنیں۔ ایران ہو یا کوئی اور ہمسایہ ملک، تصادم کا راستہ صرف ندامت کی طرف جاتا ہے۔ ہماری حقیقی کامیابی اللہ کی طرف رجوع کرنے، حبل اللہ کو تھامنے اور فتنوں سے بچنے میں ہے۔ اگر ہم نے آج ہوش کے ناخن نہ لیے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ یاد رکھیے، دنیا کی کامیابی عارضی ہے، اصل کامیابی آخرت کی جوابدہی میں سرخرو ہونا ہے۔ اللہ اس خطے اور امتِ مسلمہ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔
: مشرقِ وسطیٰ؛ مصلحت کی پکار اور جنگ کے سائے