845

تھیسز کیسے لکھتے ہیں؟

تحریر شئیر کریں

تھیسز کیسے لکھتے ہیں؟جانیے قلم کتاب پر

قسط 1

ہمارے ہاں ریسرچ سکھائی جاتی ہے وہ بھی ایڈوانس لیول پر۔ ایم اے اور ایم فل پی ایچ ڈی میں جا کر۔۔۔
یہ کس لیول کی ریسرچ ہوتی ہے ملاحظ کیجے
ایک سٹوڈنٹ کے اندر تجسس کا سمندر انگڑائی لے رہا ہوتا ہے۔ وه بھاگم بھاگ ریسرچر اپنے مقالهانسٹرکٹر کے پاس آتا هے اور پوچھتا هےکه ریسرچ کیسے کی جاتی ہے۔ یہ سوال تھا۔۔۔جواب ملاحظ کیجے۔۔۔
اوپر لائبریری میں جاو۔۔اس ٹاپک سے ملتے جلتے تھیسز دیکھو اور اسے اپنے الفاظ میں لکھ لو۔۔۔ختم شد

۔۔۔۔۔
ایک اور فریم ورک ہے جسے فالو تو کیا جاتا ہے مگر پاکستان سے باہر کی دنیا میں۔۔۔
ایک متجسس ذهن والا طالب علم جو پاکستان سے جاپان پی ایچ ڈی کے لیے جاتا هے۔۔وہ بڑے اشتیاق سےتھیسز انسٹرکٹر سے پوچھتا هے۔ سر تھیسز کے لیے ریسرچ کیسے کی جاتی ہے؟
جواب ملاحظ کیجے
تھیسز لکھنے کا پهلآنکته۔۔۔۔کبھی کوئی تھیسز مت دیکھنا۔۔پھر لکھنا۔ تمہارا دماغ دنیا میں سب سے منفرد اور جدا هے۔ اس سے پوچھو ، یه تمهیں بتاۓ گا کہ تھیسز یعنی مقالہ کیسے لکھنا ہے۔


۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے ہاں ریسرچ نهیں هو رهی۔ کیوں؟سوچیے۔۔۔جانیے۔۔۔
غلام ذهن کو کبھی بھی اجازت نهیں هوتی خود سے سوچنے اور سمجھنے کی۔ جی ہاں اور اگر کوئی بھولے سے بھی یہ حادثه هو جاتا هےتو پھر ڈاکٹر عبدالقدیر جیسےلوگ سامنے آتے هیں۔
ہم غلام ذهنیت تو تھے هی بیمار ذهنیت بھی رکھتے هیں۔ بیمار نا ہوتے تو جان لیتے کہ پون صدی گزر چکی انگڑیزوں کا نظام تعلیم آج بھی اسی طرح پڑھایا جا رها هے۔ انگریز نکل گیا مگر انگریزی کاخوف آج بھی بکل مارے بیٹھا هے۔ جو نا سیکھنے دیتا ہے اور نا نیا سوچنے۔۔۔۔

کہانی کیسے لکھیں ؟


واۓ ناکامی متاع کارواں جاتا رها
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رها۔۔۔
المیہ تو یہ ہے کہ ہمیں احساس تک نهیں که همارے زھن اوذ سوچنے سمجھنے کی صلا حیتیں تک چھین لیں گئیں هیں۔۔کہیں کوئی ڈاکٹر عبدالقدیر نا جاگ جاۓ ۔کہیں کو ئی عافیہ صدیقی جنم نا لے لے۔۔بہت کم لو گ جانتے ہیں که عافیه صدیقی کا اصل جرم اس کا لکھا هو ریسرچ آرٹیکل تھا۔جسے پڑھ کر همارے آقا کا دماغ کھٹک اٹھا تھا۔۔۔


اگر هم چاهتے هیں که همارا انٹلکچوئل برین کام کرے ،کچھ نیا سوچے تو انگریز کےبناۓ ہوۓ نظام تعلیم که خیرباد کهنا هو گا۔عمرآن خاں اگر خود سوچیں تو وه یه کام کر سکتے هیں۔اپنا نظام تعلیم دے جائیں صدیوں کے لیے امر هو جائیں گے۔میری وزیراعظم عمرآن خاں سے درخواست هے که بس ایک کام کر دیں۔۔نظام تعلیم میں تبدیلی۔۔۔اصل تبدیلی تب آنی ھے۔جاگ جائیے۔۔۔یہ جاگنے کا وقت ہے۔
۔۔۔۔۔

تھیسز کیسے لکھتے ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں