حمزہ خاں
.بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے وہاں سے وه بہت کچھ سیکھتا ہے ۔آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ بچوں سے جس زبان میں بات کی جاۓ وه بڑے ہو کر وہی زبان بولتے ہیں ،ٹھیک اسی طرح وه بری عادات کو بھی نوٹ کرتے ہیں ۔میں بچے کے دماغ کو ساؤنڈ ریکارڈر سے تشبیہ دیتا ہوں جو کہ مختلف سماعتوں کو سن کر انہیں بعد کے لیے اپنی میموری میں محفوظ کر لیتا ہے ۔ہمارے ہاں اکثر والدین بچوں کے سامنے ہر بات کہہ دیتے ہیں اور کئی بار آپس میں جھگڑ پڑتے ہیں اور وه سوچتے ہیں کہ سامنے بچہ ہے اسے کچھ نہیں پتا لیکن یہ ان کی سب سے بڑی غلط فہمی ہوتی ہے کیونکہ بچہ سب کچھ سن کر اسے بعد کے لیے محفوظ کر رہا ہوتا ہے ۔قارئین ہماری سب سے بڑی حامی یہ ہے کہ ہم اپنی ہر بات میں گالی ضرور دیتے ہیں یہاں تک کہ کسی چیز کی تعریف کرنی ہو تو پھر بھی کہتے ہیں کہ او یو چیز کتنی رامی دی(اس طرح کے بہت الفاظ ہیں لیکن میں لکھنا مناسب نہیں سمجھتا ،آپ سب واقف ہیں ) ۔ہمیں لگتا ہے کہ ہم نے کچھ غلط نہیں بولا لیکن جب ان الفاظ کی گہرائی میں جایا جاۓ تو تب معلوم ہوتا کہ یہ تو گالی ہے ۔دو بچے آپس میں لڑ رہے تھے اور ایک دوسرے کو فخریہ انداز میں نازیباالفاظ کہہ رہےتھے،پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ الفاظ تو ہر روز ہمارے والدین اور بہن بھائی لڑائی میں ایک دوسرے سے کہہ رہے ہوتے ہیں،مطلب بچوں نے یہ باتیں وہی سے سیکھیں ماحول تو بہت بعد میں اثر انداز ہوتا ہے ۔میری بڑی امی اکثر کہا کرتی تھی کہ پتر یو نیا پوچ(زمانہ )بہت خطرناک دا جس کا اندازہ مجھے اب جا کر ہوا۔ اب تو پبلک ٹرانسپورٹ میں گھر والوں کے ساتھ سفر کرنے میں ڈر لگتا ہے کیونکہ وہاں بھی بچے ایسے نازیبا الفاظ کہتے ہیں کہ جن سے سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔ایک ہمارا دور تھا والدین ہم سے کہتے تھے کہ آج جو بری بات لگے اس کو نوٹ کرنا اور ہم نوٹ کر کے بڑی خوشی سے آ کر ان کو بتاتے تھے کہ آج کیا غلط ہوا مگر اب اگر کوئی بچہ ایسا کرے تو اسے ممی ڈیڈی بچہ کہا جاتا ہے ۔ایک بچہ سکول سے گھر آتا ہے تو دیکھتا ہے کہ امی کاموں میں مصروف ہیں ،بھائی بہن موبائل پر مصروف ہیں اور بابا آفس میں ۔وه بچہ پھر باہر جاتا ہے اور دوست بناتا ہے وہی سے اسے بری صحبت کا اثر پڑ جاتا ہے اور بچہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے ۔میرے نزدیک کسی کے سوال کے جواب میں جی کے بجاۓ ہاں کہنا بھی بدتمیزی ہے لیکن آج کے بچے تو سیدھا گالیوں پر اتر آتے ہیں اور ان کے نزدیک یہ سب غلط نہیں کیونکہ انہوں نے یہ سب بڑوں سے ہی تو سیکھا ۔اس کا آسان حل یہ ہے کہ بچوں کے سامنے کوئی بری بات نہ کی جاۓ ،نہ ہی جھگڑا کیا جاۓ اور سب سے اہم بات کہ پہلے اپنے الفاظ کو تولیں اور پھر بولیں ۔والدین اور بہن بھائی بچوں کو وقت دیں ،ان کے بہترین دوست بنیں تاکہ انہیں باہر جانے کی ضرورت ہی نہ پڑے ۔ایسی دوست بنیں کہ بچے کی غلطی پر اس کی سرزنش کریں،اس کی جائز خواہشات کو پوری کر کے اس کے ساتھ بچے بن جائیں تاکہ بچے کو ہر برا کام کرنے سے پہلے ڈر ہو کے میرا دوست میری سرزنش کرے گا اور مجھ سے ناراض ہو گا ۔آج رات کو آپ اپنا ضرور محاسبہ کیجیے گا کہ ہم اپنی باتوں میں کیا کیا غلط بولتے ہیں پھر آپ کو اپنی اغلاط کا اندازہ ہو گا ۔خدا کا واسطہ ہے میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں🙏🙏کہ اپنے بچوں کو بدتمیز اور تباہ ہونے سے بچا لیں اور ان کی اچھے انداز میں تربیت کریں تاکہ ہم ایک بہترین نسل تیار کر پائیں اور یہ اچھا سلسلہ اسی طرح آگے نسل در نسل چلتا رہے ۔چلیں ہم وعدہ کرتے ہیں کہ بچوں کے سامنے کچھ غلط نہیں کریں گے ،انہیں وقت دیں گے اور انہیں بدلیں گے ۔آپ کوشش کریں گےناں؟