256

اسبغول اور اسبغول کا چھلکا: کون سا زیادہ مفید؟

تحریر شئیر کریں

اسبغول (Psyllium Husk) ایک قدرتی فائبر ہے جو پلانٹیگو اوویٹا (Plantago Ovata) نامی پودے کے بیجوں سے حاصل ہوتا ہے۔ اسے صدیوں سے نظامِ ہضم کو بہتر بنانے، قبض ختم کرنے، اور کولیسٹرول کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ عام طور پر مارکیٹ میں دو اقسام دستیاب ہوتی ہیں: اسبغول کے بیج اور اسبغول کا چھلکا۔ اکثر لوگ اس سوال میں الجھے رہتے ہیں کہ دونوں میں سے کون زیادہ مفید ہے؟ آئیے سائنسی تحقیق کی روشنی میں دونوں کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں۔

اسبغول کے بیج کیا ہیں؟

اسبغول کے بیج مکمل بیج ہوتے ہیں جو پلانٹیگو اوویٹا کے پودے سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ یہ چھوٹے، بیضوی اور بھورے رنگ کے ہوتے ہیں۔ ان میں قدرتی طور پر فائبر، کچھ مقدار میں پروٹین، اور دیگر غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں۔

اسبغول کا چھلکا کیا ہے؟

اسبغول کا چھلکا اسبغول کے بیج کی بیرونی سطح ہوتی ہے جو کہ پروسیسنگ کے ذریعے الگ کی جاتی ہے۔ یہی حصہ طبی فوائد کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ چھلکا سفید یا ہلکا بھورا ہوتا ہے اور پانی میں بھگو کر جیل کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

غذائی اجزاء کا تقابل

| اجزاء | اسبغول کا بیج | اسبغول کا چھلکا | |——-|—————-|——————| | فائبر | تقریباً 60% | 85-90% | | کیلوریز | زیادہ | کم | | پروٹین | کچھ مقدار میں | نہ ہونے کے برابر | | پانی میں جِل بننے کی صلاحیت | کم | زیادہ |

ریسرچ اور سائنسی تحقیقات

1. Journal of Clinical Gastroenterology (2011) کے مطابق اسبغول کا چھلکا پانی میں حل ہونے والے فائبر کا بہترین ذریعہ ہے اور یہ قبض کے مریضوں میں مؤثر ثابت ہوا ہے۔

2. Nutrition Journal (2012) میں شائع

ہونے والی تحقیق کے مطابق روزانہ 5 سے 10 گرام اسبغول کا چھلکا استعمال کرنے سے کولیسٹرول لیول میں واضح کمی آئی۔

3. American Journal of Clinical Nutrition (2000) کے مطابق اسبغول کا چھلکا خون میں شکر کے لیول کو بھی مستحکم رکھنے میں مددگار ثابت ہوا ہے، خصوصاً ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کے لیے۔

اسبغول کے بیج کے فوائد

قدرتی فائبر کا ذریعہ

ہلکا سا اینٹی آکسیڈنٹ اثر

معمولی مقدار میں پروٹین

ہلکی سی توانائی فراہم کرتا ہے

اسبغول کے چھلکے کے فوائد

قبض کے لیے فوری اور مؤثر حل

پانی میں جِل بن کر آنتوں کی صفائی کرتا ہے

خون میں کولیسٹرول کم کرتا ہے

وزن گھٹانے میں مددگار

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید

آنتوں کی سوزش (IBS) میں مؤثر

کون سا زیادہ مفید ہے؟

اگر صرف فائبر کے فوائد کے تناظر میں بات کی جائے تو اسبغول کا چھلکا زیادہ مؤثر اور مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس میں فائبر کی مقدار زیادہ ہے اور یہ پانی کے ساتھ جلدی جِل بنا لیتا ہے جو آنتوں کی صفائی اور نظامِ ہضم کو بہتر بنانے میں مددگار ہے۔

اسبغول کے بیج بھی مفید ہیں مگر ان کی افادیت چھلکے کے مقابلے میں کم ہے کیونکہ بیج مکمل حالت میں ہضم نہیں ہو پاتے اور فائبر کی مقدار بھی نسبتا کم ہوتی ہے۔

ماہرینِ غذائیت کی رائے

پاکستانی ماہر غذائیت ڈاکٹر طاہرہ انور کے مطابق:
“اگر کوئی شخص قبض یا آنتوں کی خرابی کا شکار ہے تو اسے اسبغول کا چھلکا استعمال کرنا چاہیے کیونکہ یہ نہ صرف فائبر فراہم کرتا ہے بلکہ معدے میں پانی کے ساتھ جیل بن کر آنتوں کو نرم کرتا ہے۔”

احتیاطی تدابیر

اسبغول یا اس کا چھلکا استعمال کرنے سے پہلے پانی کی مناسب مقدار ضرور پینی چاہیے ورنہ یہ آنتوں میں پھنس سکتا ہے۔

دائمی بیمار افراد جیسے کہ ذیابیطس، بلڈ پریشر یا دل کے مریض، ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں۔

روزانہ 5 تا 10 گرام سے زیادہ نہ لیں جب تک کہ طبی ماہر کی اجازت نہ ہو۔

السی اور اسبغول کا چھلکا

السی کے بیجوں میں موجود اومیگا-3 فیٹی ایسڈ، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس جب اسبغول کے چھلکے کے حل پذیر فائبر کے ساتھ ملتے ہیں، تو یہ مرکب نظامِ ہضم کے لیے نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔ السی آنتوں کو چکنا کرتی ہے جبکہ اسبغول کا چھلکا پانی جذب کر کے پیٹ کو نرم اور فضلہ کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ دونوں اجزاء قبض، کولیسٹرول، اور بلڈ شوگر کے مریضوں کے لیے خاص طور پر مفید ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ان کا باقاعدہ استعمال آنتوں کی صفائی، جسمانی وزن میں کمی اور قوتِ مدافعت بڑھانے میں معاون ہوتا ہے۔ اس مرکب کا استعمال طبی لحاظ سے بھی ایک مؤثر دیسی نسخہ سمجھا جاتا ہے۔

اسبغول اور اسبغول کا چھلکا دونوں ہی قدرتی فائبر کے مؤثر ذرائع ہیں مگر چھلکا زیادہ فائدہ مند اور سائنسی طور پر مؤثر مانا جاتا ہے۔ قبض، کولیسٹرول، وزن میں کمی اور نظامِ ہضم کی بہتری کے لیے اسبغول کا چھلکا روزمرہ کی خوراک میں شامل کرنا ایک بہترین انتخاب ہے۔

حوالہ جات
1. Journal of Clinical Gastroenterology, 2011
2. Nutrition Journal, 2012
3. American Journal of Clinical Nutrition, 2000
4. ڈاکٹر طاہرہ انور، ماہرِ غذائیت، لاہور

اسبغول اور اسبغول کا چھلکا: کون سا زیادہ مفید؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں