الحاد و دہریت کا فتنہ
“صفیہ پھپھو کے گرین کارڈ ہولڈر چھوٹے بیٹے نے خود کشی کرلی۔”
یہ خبر کیا تھی ایک بم تھا جو میری سماعت پر گرا۔
بھلا بتائیے!!! ہمارے ملک میں تو خودکشی کا رجحان معاشی اور سماجی ابتری کی بنیاد پر بڑھ رہا ہے، حالانکہ حرام موت کے بدلے آخرت کی ابدی زندگی کا نہ ختم ہونے والا عذاب خریدنا ایمان کی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔
لیکن امریکہ کی بہترین یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ جوان، بہترین جاب، پرکشش تنخواہ ، پرتعیش زندگی کے باوجود خود کشی جیسی تکلیف دہ موت کو کیونکر آمادہ ہوا،،؟؟
ذہنی کیفیت کیا تھی جو اس ہلاکت کے گڑھے میں گر گیا ۔۔؟؟
ایسے کئی سوالات میرے اور دوسرے رشتےداروں کے دل ودماغ میں اٹھ رہے تھے۔
مجھ جیسے لوگ جو کسی کی ذاتیات کریدنے کے حق میں نہیں ہوتے وہ صرف سوچ بچار ہی کرسکتے ہیں۔ مگر جناب رشتےداروں کی ایک قسم ایسی بھی ہوتی ہے جو معاملات کرید کرید کر حقائق نکال ہی لاتے ہیں۔ چند ایسے ہی مقربین نے راز فاش کیا کہ لڑکا دہریہ ( atheist) ہوگیا تھا۔ مغربی ممالک کے تعلیم یافتہ مسلمان نوجوانوں میں یہ شرح بہت تیزی سے بڑھتی جارہی ہے۔ جس کی فتنہ انگیزی اور شدت کا احساس والدین اور خاندان کے فیصلہ سازوں کو شاید نہ ہوسکا۔
اونچے اسٹیٹس کے خوابوں کی تکمیل، ایمان کے خسارے سے جڑی ہوئی ہے یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ انسان کی زندگی میں ایک خدا کی موجودگی سے انکار کے دلائل چاہے کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہوں، مگر ایک انسان سے تصورِ خدا چھین لینا سب سے بڑا ظلم ہے۔ ایسے تمام معاشرے جنہوں نے خدا کے وجود سے انکار کیا وہ خودکشی کی شرح میں اولین صفوں پر موجود ہیں۔ آخر کیوں ؟؟
مادیت پرستی اور انسانیت کو ہی سب سے بڑا مذہب گرداننے والے کسی بھی مصیبت اور زندگی کی پریشانیوں میں مایوسی کی آخری حدوں پر کیسے پہنچتے ہیں کہ زندگی ہی ختم کرڈالتے ہیں۔
” رب ” کا تصور انسان کے خمیر میں گندھا ہوا ہے ۔۔ بندگی کے اعلیٰ و ارفع مقام سے نکلنے کے بعد امید و آس، خیر و عافیت کا رشتہ اس طاقتور ترین ہستی سے توڑ لینے کے بعد ۔۔ زندگی فقط مشینی نقل و حرکت کا مجموعہ ہی بن جاتی ہے جو مصائب دنیا کی ذرا سی چوٹ پر موت کو گلے لگانے دوڑ پڑتی ہے ۔۔ ناامیدی اور دکھ کی کیفیات میں کسی ذی علم و فضل ہستی کو پکارنے کا تصور بھی نہ ہو تو ہر مصیبت زندگی کی آخری منزل ہی لگتی ہے نا ۔۔
خوش قسمت ہیں وہ جن کے پاس اللہ کا عقیدہ ہے، قربت ہے، مضبوط ترین سہارا ہے۔ اندھیروں کے بعد روشنی دکھانے والے کی ذات پر یقین اور بھروسے کی دولت سے مالامال وہ لوگ ہر کڑے وقت کو خدا کو پکار پکار کر گزار لیا کرتے ہیں۔ خدا شناسی ہی تو خود شناسی ہے۔ یہ بات ناقابلِ قبول ہے کہ ایک شخص جو میٹھے پانی کی نہر کنارے رہتا ہو وہ کبھی پیاسا مرسکتا ہو ۔۔ خدا جو سرچشمہ زندگی اور ہدایت ہے اس کا ہلکا سا تصور بھی انسان کو زندگی کی مایوس راتوں میں پُر امید سویرے کا منتظر بنادیتا ہے ۔۔
ہمارے ملک میں بھی تیزی کے ساتھ نوجوانوں سے زندگی کی رمق دور کی جارہی ہے ۔۔ ان کی زندگیوں اور سوچوں سے ایک اللہ کی موجودگی کو ختم کرنا ان نوجوانوں کو ہی ختم کر دینا ثابت ہورہا ہے۔
خدارا !! والدین اور خاندان کے فیصلہ کن مقام پر موجود لوگ اس ہولناکی کو سمجھیں۔
الحاد و دہریت کا فتنہ