441

انڈیا اور چین ایک بارپھر میدان جنگ میں

تحریر شئیر کریں

تحریر : لبنٰی جمشید

1962 میں چین اور بھارت کے درمیان سرحدی علاقائی تنازعے پر جنگ چھڑی تھی اور یہ جنگ چین نے جیت لی ۔۔ اس کے بدلے میں اکسائی چن کے علاقے میں اپنا قبضہ بھی جما لیا تھا۔ انڈیا نے تب بھی منہ کی کھائی اور کل مورخہ 27 مئی 2020 سے صورتحال ایک بار پھر تاریخ کو دہرانے جا رہی ہے۔

2 دن قبل جب چین نے کشمیر کے علاقے لداخ میں 3 کلو میٹر تک اندر گھس کر بھارتی فوج کی مزاحمت کے باوجود وہاں اپنے بینکر تعمیر کیے, گشت پر معمور عملے کے افراد کو چند گھنٹوں کے لیےحراست میں لے لیا۔ اس سے قبل سکم کے علاقے میں بھی چین یہی کاروائی کر چکا ہے۔۔

اس وقت سرحدی تنازع اس قدر شدید ہے کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے بری، بحری اور فضائیہ تینوں افواج کے سربراہوں اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سے ون ٹو ون میٹینگ کی جس کی تفصیلات میڈیا کو دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ ایک دوسری میٹینگ بھی ہوئی جس میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے تینوں افواج کے سربراہان اور چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت سے علیحدگی میں بات چیت کی ہے۔

چین کا موقف

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ”شنہو“ کا حوالہ دے کر سے پی ٹی آئی کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’شی جن پنگ نے کہا کہ فوج کو خراب ترین صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے اور اس کے لیے اپنی تربیت اور جنگی تیاری کی سطح میں اضافہ کرنا ضروری ہے تاکہ فوری طور پر کسی بھی قسم کی پیچیدہ صورتحال سے مضبوطی سے نمٹا جا سکے۔ اس کے علاوہ سب سےاہم قومی سلامتی، سکیورٹی اور ترقیاتی مفادات کا دفاع کرنا ہے۔
جب اس سلسلے میں باقاعدہ طور پر چینی صدر کو فون کیا گیا تو انہوں نے ملک کو درپیش کسی خاص مسئلے کا ذکر نہیں کیا۔

چین کے فوجی زرائع سے بھی پتہ چلتا ہے کہ پچھلے ایک ہفتے سے لداخ میں سرحد کے نزدیک چینی فوج کے ہیلی کاپٹر بھی پرواز کرتے ہوئے دیکھے جا رہے ہیں۔ جبکہ دیمچوک، دولت بیگ اولڈی، دریائے گلوان اور پینگونگ سو جھیل کے اطراف میں انڈین اور چینی دونوں افواج نے اپنی تعیناتی میں اضافہ کیا ہے ۔ اس کے ساتھ دونوں نے اپنے اپنے علاقے کی جھیلوں میں کشتیوں کی تعداد اور گشت کو بڑھا دیا ہے۔ یہ صورتحال جنگ کی جانب اشارہ دیتی نظر آ رہی ہے۔

کیا یہ جنگ طویل چلے گی؟۔۔

امریکی جریدے “National Interest” کی ویب سائٹ پر ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں لکھا ہے کہ اگر بھارت اور چین کے درمیان باقاعدہ طور پر جنگ چھڑ جاتی ہے تو قریبی گمان ہے کہ یہ جوہری جنگ کی صورت اختیار کر لے گی اور اس کے اثرات چین اور بھارت سے نکل کر ساری دنیا۔کو اپنی لپیٹ میں بھی لے سکتے ہیں۔

یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ ممکنہ طور پر ایشیا کے ساتھ ساتھ دنیا میں سب سے بڑی اور سب سے تباہ کن جنگوں میں سے ہو گی اور بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ عالمی معیشت پر اس کے کافی گہرے اثرات مرتب ہونگے تاہم جغرافیہ اور آبادیاتی تناسب شاید اس جنگ میں منفرد کردار ادا کرے۔

چین و بھارت کی آبادی

اگر دنیا میں آبادی کی تناسب سے دیکھا جاۓ تو چین ہو یا بھارت دونوں ممالک ہی آبادی کے اعتبار سے وسیع ممالک ہیں حتی کہ چین دنیا میں آبادی کے لحاظ سے پہلا بڑا ملک ہے تو بھارت دوسرا.. ۔ بھارتی بری فوج کی تعداد 12 لاکھ جب کہ چین کی بری فوج کی تعداد 22 لاکھ ہے۔ اب اس س اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جنگ ہونے کی صورت میں دنیاکی آبادی کا ایک بڑا حصہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

صورتحال زیادہ کشیدہ کیوں ہوئی؟

یہ گذشتہ ہفتے کی بات ہے جب پیر کے روز بیجنگ میں چین کے سرکاری میڈیا نے کہا ’مغربی سیکٹر کی گلوان وادی میں انڈیا کے ذریعے یکطرفہ اور غیر قانونی تعمیرات کے ذریعے موجودہ صورتحال کو بدلنے کی کوشش کے بعد پیپلز لبریشن آرمی نے اپنا کنٹرول انتہائی سخت کر دیا ہے۔‘

انڈین میڈیا این ڈی ٹی وی نے انٹیلیجنس ماہرین کے اوپن سورسز ڈیٹریسفا کے حوالے سے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ چین پینگوگ جھیل سے 200 کلو میٹر کے فاصلے پر اپنے ایئر بیس پر بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام کر رہا ہے۔

اس نے ثبوت کے طور پر چھ اپریل کی ایک سٹیلائٹ تصویر پیش کی ہے اور اس کا مقابلہ 21 مئی کی سیٹلائٹ تصویر سے کرنےکو کہا جس میں واضح فرق دیکھا جاسکتا تھا۔

انڈیا نے بھی الزام لگایا جو کہ اس کی پرانی عادت ہے کہ چینی فوج کے کچھ خیمے چین میں وادی گالوان میں لگاۓ گے ہیں۔ اس کے بعد انڈیا اس بات کو ایشو بنا کر اپنی فوج کا اضافہ اس بارڈر کے ساتھ کرنا شروع کر دیا۔

پھر دوبارہ سے چین کا الزام کہ انڈیا گالوان کے قریب دفاع سے متعلق غیر قانونی تعمیرات کر رہا ہے۔ تو یہ وہ وجوہات تھیں جنہوں نے چین کو پیش قدمی کے لیے مجبور کیا اور صورتحال مذید کشیدہ ہوتی گئی۔

پاکستان کے دونوں ممالک کے لیے خیالات

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اگر انڈیا نے متنازعہ علاقے میں تعمیرات کا سلسلہ جاری رکھا تو پھر خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ان کے اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان پاک چین دوستی کو حرف آخر تک نبھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

محمود قریشی نے یہ بھی کہا ہے کہ دنیا کو انڈیا کے عزائم کا نوٹس لینا چاہیے کہ انڈیا کس طرف چل پڑا ہے؟

آج ایک ٹویٹ عمران خان کی جانب سے بھی آیاہے جو کچھ اس طرح ہے ” انڈیا شہریت کے قانون سے بنگلہ دیش، تو ایک جعلی کارروائی سے پاکستان کو جبکہ نیپال/چین کے ساتھ سرحدی تنازعات صورتحال کی سنگینی کو ہوا دے رہے ہیں۔

یہ خاصا نپا تلا بیان ہے جو عمران خان کی شخصیت کا خاصا ہے۔

آخرکار کیا نتیجہ نکلے گا؟

ایک امریکی اخبار کے مطابق ان حالات میں چین کو کارگو کا رخ بحرالکاہل سے مغرب کے راستے بدلنا پڑے گا جو اسے قابل قبول نہیں ہو گا۔ چین کی ضرورت کی مجموعی درآمدات میں 87% تیل ہوتا ہے جو خاص طور پر مشرق وسطی اور افریقہ سے درآمدہوتا ہے۔ اس کی ترسیل کیسے ہو پاۓ گی ۔ اس وقت چین پر لازم ہو جاۓ گا کہ وہ جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔

ایک طرف دنیا کرونا کی لپیٹ میں دوسری جانب یہ صورتحال ۔۔۔ میرے خیال سے بھارت اور چین کے درمیان جنگ مختصر ہوتی ہے یا پھر طویل دونوں ملکوں، براعظم ایشیا اور عالمی معیشت پر بھیانک نتائج مرتب کرے گی۔ وقت کا تقاضا , طاقت کا توازن اور جغرافیائی قیود واضح کرتی ہیں کہ یہ جنگ یقینا فیصلہ کن ثابت نہیں ہو سکے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں