انگریز وں نے کیسے پنجاب سے تعلیم کو نکالا؟
مجھے پڑھے لکھے پنجاب کو جاھل بنانے کے لیے 50 سال درکار ھوں گے ولیم لیٹنر نے کب اور کیوں یہ کہا ؟؟؟
چارلس ٹی میٹکلف 1785ء میں کلکتہ میں پیدا ھوا تھا۔ میٹکلف کا والد ایسٹ انڈیا کمپنی میں ڈائریکٹر تھا اور کلکتہ میں تعینات تھا۔ میٹکلف نے لندن سے تعلیم حاصل کی اور 1801ء میں واپس آکر کمپنی کی نوکری کر لی۔ وہ بنگال کے گورنر جنرل لارڈ ویسلے کا پرائیویٹ سیکرٹری تھا۔ میٹکلف نے ھندوستان میں میڈیا (پریس) کی بنیاد رکھی تھی اور انگریزی کو سرکاری زبان کا درجہ دیا تھا۔
برطانیہ اس وقت نپولین بونا پارٹ سے لڑ رھا تھا۔ نپولین ھندوستان پر بھی حملہ کرنا چاھتا تھا۔ اس نے مہاراجوں کے ساتھ تعلقات بڑھانا شروع کر دیے تھے۔ فرنچ جرنیلوں نے سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان کی فوجوں کو بھی ٹریننگ دی تھی اور یہ اب پنجاب میں اثرورسوخ بڑھا رھے تھے۔
پنجاب اس وقت ھندوستان کی مضبوط ترین ریاست تھی۔ رنجیت سنگھ کی ریاست ستلج کے کناروں سے شروع ھو کر کشمور اور کشمیر سے جلال آباد تک پھیلی تھی۔ اگر نپولین مہاراجہ کے ساتھ جڑ جاتا تو انگریزوں کے لیے ھندوستان پر قبضہ مشکل ھو جاتا۔ اس لیے کمپنی سرکار مہاراجہ اور نپولین کے درمیان ھر صورت معاھدہ رکوانا چاھتی تھی۔ گورنر جنرل نے 1808ء میں چارلس ٹی میٹکلف کو ایلچی بنا کر پنجاب بھجوا دیا۔ میٹکلف امرتسر اور لاھور آیا اور پنجاب کا سسٹم دیکھ کر حیران رہ گیا۔
چارلس ٹی میٹکلف نے گورنر جنرل کو لکھا ”ھمیں اصل خطرہ نپولین سے نہیں رنجیت سنگھ سے ھے“۔ لہٰذا ھمیں اس کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ھو گا۔ اس کا کہنا تھا کہ؛
1۔ پنجاب کے ھر گاﺅں میں سکول ھے اور مردوں ‘ عورتوں اور بچوں سب کے لیے تعلیم لازم ھے۔ پنجاب حکومت اس وقت تک کسی مسجد ‘ مندر اور دھرم شالا (گوردوارہ) کی اجازت نہیں دیتی جب تک لوگ اس کے ساتھ سکول بنانے کا وعدہ نہیں کرتے۔ اس لیے پنجاب میں جہاں بھی دھرم شالا ‘ مندر یا مسجد ھے وھاں سکول موجود ھے۔ (برطانیہ میں اس وقت تک بنیادی تعلیم لازمی نہیں تھی۔ برطانوی پارلیمنٹ نے 1870ء میں پہلا ایلیمنٹری ایجوکیشن ایکٹ منظور کیا تھا جس کے بعد انگلینڈ میں بنیادی تعلیم لازم ھوئی تھی)۔
2۔ دوسرا پورے پنجاب میں دھوپ گھڑیاں نصب ھیں۔ یہ گھڑیاں رات کے وقت بھی ٹائم بتا دیتی ھیں اور مندروں اور گوردواروں میں اتنی گھنٹیاں بجا دی جاتی ھیں۔ یہ لوگ وقت کے انتہائی پابند ھیں۔ ان کے چار ھمیشہ چار بجے بجتے ھیں۔
3۔ پنجاب میں تمام لوگوں کے لیے عسکری تربیت اور اسلحہ لازم ھے۔ ھر گاﺅں کی اپنی فوج ھے۔ یہ فوج گاﺅں کی حفاظت بھی کرتی ھے اور جب مہاراجہ کو ضرورت پڑتی ھے تو یہ ذاتی گھوڑوں پر سوار ھو کر اپنا اسلحہ لے کر لاھور پہنچ جاتی ھے۔ اس لیے پنجاب میں جتنے لوگ ھیں۔ اتنے ھی سپاھی ھیں۔
راجہ رنجیت سنگھ 1839ء میں فوت ھو گیا۔ اس کے بعد تخت لاھور کم زور پڑ گیا اور انگریز نے 1849ء میں پنجاب پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت پنجاب میں تعلیم سو فیصد تھی۔ رنجیت سنگھ نے 1830ء تک پنجاب کے ھر شخص کو پڑھا اور لکھا دیا تھا۔ انگریز اس تعلیم کو خطرناک سمجھتا تھا۔ چنانچہ انگریز کنگز کالج لندن کے ایک نوجوان پروفیسر گوٹلیب ولیم لیٹنر کو لاھور لے آئے۔
لیٹنر 50 زبانیں جانتا تھا۔ عربی ‘ ترکی اور فارسی مقامی لوگوں کی طرح بولتا تھا۔ کچھ عرصہ ”مسلمان“ بھی رھا تھا۔ لیٹنر نے داڑھی بڑھا کر اپنا نام عبدالرشید سیاح رکھ کر تمام اسلامی ملکوں کی سیاحت کی تھی۔ وہ مسجدوں میں نماز تک پڑھ لیتا تھا۔ وائسرائے نے اسے ھندوستان بلایا اور اسے پنجاب کا تعلیمی بدلنے کی ذمہ داری سونپ دی۔
لیٹنر نے پنجاب کا دورہ کیا اور وائسرائے کو لکھا کہ؛ مجھے پڑھے لکھے پنجاب کو جاھل بنانے کے لیے 50 سال درکار ھوں گے۔ وائسرائے نے اسے 50 سال دے دیے۔ اسے انسپکٹر جنرل آف سکولز پنجاب اور گورنمنٹ کالج لاھور کا پرنسپل بنا دیا گیا۔ لیٹنر نے آگے چل کر پنجاب یونیورسٹی کی بنیاد بھی رکھی۔ یہ ان دونوں اداروں کا ابتدائی سربراہ تھا۔
انگریز نے پنجابیوں کو غیر مسلح اور ان پڑھ بنانے کے لیے پنجاب میں ”ھتھیار جمع کرائیں اور حکومت سے ایک آنا لے لیں۔ پنجابی قائدہ دیں اور چھ آنے وصول کر لیں“ جیسی سکیم بھی متعارف کرائی اور پورے پنجاب سے پنجابی قائدہ اور اسلحہ جمع کر لیا۔ انگریز نے اس کے بعد؛
1۔ 1877 میں انگریزی کے ساتھ اردو زبان کو پنجاب کی سرکاری اور دفتری زبان بنا دیا اور سکولوں کو عبادت گاھوں سے الگ کر دیا۔
2۔ جاگیر داروں اور زمین داروں کے بچوں کو انگلش میڈیم تعلیم دے کر متوسط طبقے کو دبانے کی ذمہ داری بھی دے دی گئی۔
3۔ انگریزوں کو سمجھ دار ‘ قانون پسند اور انصاف کا پیکر بنا کر پیش کرنا بھی شروع کر دیا گیا۔
4۔ دھوپ گھڑی پر پابندی لگا دی گئی۔
5۔ پنجابی زبان اور پنجابی کتابوں کو جہالت کا مرکب قرار دے دیا گیا۔
ولیم لیٹنر کا منصوبہ کام یاب ھو گیا اور اس نے 50 کی بجائے 30 برس میں پورے پنجاب کو غیر تعلیم یافتہ اور جاھل بنا دیا۔ لیٹنر نے پنجاب آکر اردو سیکھ لی تھی اور پھر اردو میں دو والیم کی “تاریخ اسلام” لکھی۔ یہ کتاب 1871ء اور 1876ء میں دو بار شائع ھوئی۔ لیٹنر 1870ء کی دھائی میں اپنا کام مکمل کر کے برطانیہ واپس چلا گیا۔
لیٹنر نے اپنے ھاتھ سے لکھا کہ؛ میں نے پورے پنجاب کا دورہ کیا۔ آج یہاں پنجابی میں پڑھنے والا کوئی شخص نہیں ھے۔ اس نے سیالکوٹ کے ایک گاﺅں چوڑیاں کلاں کی مثال دی۔ اس کا کہنا تھا کہ؛ میں پنجاب آیا تو اس گاﺅں میں پنجابی زبان میں پڑھے لکھے لوگ ڈیڑھ ھزار تھے۔ آج یہاں صرف 10 لوگ پنجابی زبان کو گورمکھی اور ایک شاہ مکھی میں پڑھ سکتا ھے اور یہ بھی چند برسوں میں مرکھپ جائیں گے۔
لیٹنر نے کہا کہ؛ میں جب پنجاب پہنچا تو پورے پنجاب میں کوئی ایسی مسجد ‘ مندر یا دھرم شالا نہیں تھی جس کے ساتھ سکول نہ ھو۔
1۔ حکومت پوری ریاست میں مفت پنجابی قاعدہ تقسیم کرتی تھی اور یہ قاعدہ پڑھنا عورتوں کے لیے لازمی تھا۔
2۔ اخلاقیات کی تعلیم پنجابی سسٹم کی بنیاد تھی۔ یہ لوگ اخلاقیات سے اپنی تعلیم شروع کرتے تھے۔
3۔ ھم نے ھر گھر سے پنجابی قاعدے نکالے اور جلائے اور ان کی اشاعت پر پابندی لگا دی۔
4۔ ھم نے عبادت گاھوں میں موجود تعلیمی ادارے بھی بند کر دیے اور عوام کو مجبور کیا کہ وہ انگریزی یا اردو کے سکولوں میں تعلیم حاصل کریں لیکن ھماری تعلیم سب کے لیے نہیں تھی۔ ھم یہ سہولت صرف اپنے وفادارخاندانوں کو دیتے تھے۔
5۔ پنجاب میں سکھ ‘ ھندو اور مسلمان اکھٹے رھتے تھے۔ یہاں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں تھا۔ لیکن ھمارے اقتدار کے صرف 30 برسوں میں یہ سب لوگ ایک دوسرے کے جانی دشمن بن گئے۔
جبکہ چارلس ٹی میٹکلف نے لکھا کہ؛ ھم نے انگریزی کے ساتھ صرف اردو کو دفتری اور سرکاری زبان بنا کر ایک ھی رات میں پورے پنجاب کو ان پڑھ بنا دیا۔
انگریز وں نے کیسے پنجاب سے تعلیم کو نکالا؟