اچھے مستقبل کا انحصار اچھے کیریر اور اچھے کیریر کا انتخاب اچھی کیریر کونسلنگ میں پوشیده هے۔
انگریزی کے لفظ کیریئر کونسلنگ ( carrier counciling ) کے اردو معانی ہیں طرز معاش کے بارے میں رہنمائی یعنی کہ ہم نے تعلیم حاصل کرنے کے بعد کمانے کا کونسا شعبہ اختیار کرنا ہے اس کے بارے میں مختلف ماہرین یا اپنی سوچ کی ایک مثبت راۓ کو کیرئیر کونسلنگ کہیں گے۔
والدین اور بچوں میں کیرئیر کونسلنگ کے حوالے سے کشمکش
آج کے دور میں انسان کی ترقی کی رفتار میں جہاں ماضی کی نسبت اضافہ ہوا ہے وہیں پر مختلف علوم اور ہنر متعارف کرواۓ گے ہیں ۔ ان فنون و ہنر کو لے کر ہماری نئی جنریشن کشمکش کا شکار نظر آتی ہے ان کے ساتھ ساتھ والدین بھی اسی پریشانی کا شکار ہیں کہ کونسا شعبہ ان کے بچے کے لیے معاون ثابت ہو گا جسے اختیار کر کے آمدنی کے ساتھ ساتھ معاشرے میں عزت و اقدار بھی حاصل ہوں۔
پاکستان میں فیلڈ کے انتخاب کے میعار
Carrier Counciling in Pakistan
زمانہ قدیم میں موروثی اپنانے کا رواج تھا۔ نائی کا بیٹا نائی تو حلوائی کا بیٹا اپنے والد کی دکان سنبھالتا اسی طرح ڈاکٹر کی اولاد ڈاکٹر بننے کو ہی ترجیح دیتی تھی لیکن بدلتے دور کے ساتھ ساتھ یہ رواج پرانے ہوتے چلے گۓ۔ اب فیلڈ کا میعار اور سکوپ دیکھا جاتا ہے ۔ عموماََ جب فیلڈ کا انتخاب کیا جاتا ہے توتین چیزوں کادھیان رکھا جاتا ہے
- زمانے میں کس طرح کا رجحان ہے؟
- والدین کی خواہش کیا ہے؟
- بچے کا انٹرسٹ کس جانب ہے؟
ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم اکثر اس تیسرے فیکٹر کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ بچے کو انتخاب کا موقع دیا جاۓ تاکہ وہ اپنے انٹرسٹ کی فیلڈ چنے اور اس میں غیر معمولی مہارت کے جھنڈے گاڑے۔
اس کا بہترین حل یہ ہے کہ پاکستان میں پرائمری کی سطح سے ہی رجحان کی طرف اساتذہ کی نگاہوں کا تعین ہونا چاہیے اور کتب میں اس سلسلے میں مختلف رہنما مضامین تشکیل دئے جائیں تاکہ طالبعلم ابتدا سے ہی اپنے گول سیٹ کر لیں ۔ اس کے علاوہ اگر ہم مختلف شعبوں کے ماہرین کا طلبا کے ساتھ ایک ایک سیشن کروا دیں تو بھی اسے اپنے فیلڈ کے انتخاب میں ایک نقطے پر رکنے کی آسانی رہتی ہے۔
بنیادی و ثانوی تعلیم کے بعد رہنمائی
( Carrier councilling after Matric FSC )
عام طور پر میٹرک اور ایف اے \ ایف ایس سی کیرئیر چننے کے حوالے سے ایک بڑا ٹرننگ پوائنٹ ہے ۔ کیونکہ یہاں سے ہی مجموعی تعلیمی کتب انفرادی مضامین میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ بچوں کو فیصلہ کرنے میں آسانی رہتی ہے کہ اسے سائنس کی فیلڈ میں جانا ہے یا پھر آرٹس کی۔ اگر وہ سائنس کو چنے گا تو سائنس کے علم کی کونسی شاخ اس کے لیے مناسب ہو گی۔ وہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے تو میڈیکل کالج کی پانچ سالہ تعلیم اس کی منتظر ہے اگر انجنئیر بننے کا خواہشمند ہے تو کس شعبہ خاص کو چننا ہے کمپیوٹرر سائنس, مکینیکل , الیکٹرکل ییا جیالوجیکل, پھر تعلیم کے لیے مضامین کا انتخاب اپنی فیلڈ کے حوالے سے کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ اگر آرٹس پڑھنے کا خواہشمند ہے تو پھر اس کے آگے سینکڑوں مذید شاخیں اور کونپلیں بنتی ہی چلی جائیں گی۔
طالبعلم کے لیے بہتر ہے کہ اپنے والدین کی مشاورت سے انٹرسٹ کو سامنے رکھتے ہوۓ اپنی مذکورہ فیلڈ چنے یا پھر کسی کیرئیر کونسولیشن ایکسپرٹ سے میٹینگ کے بعد انتخاب کرے۔
کیریئر کونسلنگ کے فائدے
(Benifits of carrier counciling )
کیرئیر کونلسنگ کسی بھی شکل میں ہو اس سے انسان کی صلاحيتيں کھل کر سامنے آجاتیں ہیں اس حوالے سے ایک ماہر کؤنسلر ڈیرک کا کہنا ہے کہ رہنمائی کے بنیادی اصولوں سے واقفیت کے بعد کیمیا گری کا فن انسان کے قدموں میں آجاتا ہے۔ انسان میں مقصد کے حصول کے لیے پر اعتمادی کا عنصر قائم ہوتا ہے اور وہ خوابوں کو پالیتا ہے۔
کیرئیر کے حوالے سے خوابوں کی اہمیت
اپنے بچوں کو اچھے اور منفرد مستقبل کے خواب دیکھنا سکھائیں۔ انہیں بتائیں کہ تعبیر پانے کے لیے آنکھوں میں خواب کا ہونا کس قدر ضروری ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں اکسویں صدی کے تین ناقابل فراموش اور اچھوتے کارنامے ان تین خوابوں کی بدولت ہی کامیابی سے ہمکنار ہوۓ ۔۔ جی بالکل ان میں سے ایک خواب نیلسن منڈیلا کا تھا جو اس نے سیاہ فارم افریقیوں کے حقوق بحال کرنے کے بارے میں دیکھا۔ دوسرا خواب رائٹ برادران نے خود کو جہاز اڑاتے دیکھا وہ بھی پايہ تکمیل تک پہنچا اور تیسرا خواب مفکر اعظم ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے پاکستان کا دیکھا جس کی تعبیر ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے خواب دیکھو اور اپنی منزل کے لیے محنت کرو۔
خود شناسی
پائلو کوالو کا کہنا ہے کہ انسان جو بننا چاہتا ہے وہ بن سکتا ہےکیونکہ جب آپ قدم بڑھاتے ہو تو دنیا کی ہر چیز آپکی منزل کے حصول میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ بس اپنے اندر جھانک کر خود کو ڈسکور کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے اندر خودشناسی پیدا کرنے کے لیے مختلف مشقیں بھی کی جاتی ہیں۔ لاشعور کی ان خواہشات کو باہر لایا جاتا ہے جس سے انسان کی ملاقات اس کے اندر کے اصلی انسان سے ہو۔ آئزک , بیوٹن شیکسپئر, بل گیٹس, مارک زکربرگ, عبدالقدیر, ارفع کریم, ملالہ,سمیع یوسف ایسی بہت سی مثالیں ہمارے درمیان موجود بھی ہیں جنہوں نے خود کو پرکھا, سمجھا اور منزل کو پا لیا۔
اعتماد کا حصول
خودشناسی اس وقت تک ادھوری ہے جب تک کہ خود پر اعتماد اور ٹرسٹ نہ ہو۔ ہر مرحلے کو پورے اعتماد سے پار کرنے والے ہی اصل کامیابی کے حقدار ہیں۔ آپ کو اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ جو آپ کر رہے ہو اس میں کامیابی آپ کا مقدر ہو گی ۔ منزل کے حصول میں آنے والی ناکامی کو بھی اعتماد کے ساتھ فیس کرنا کیرئیر کے رہنما اصولوں میں شامل ہے۔
ماہرین سے ملاقاتیں
مشہور زمانہ کتاب Think and grow rich
میں مصنف نے لکھا ہے کہ کسی بھی فیلڈ کے ماہر کے ساتھ وقت گزارنا کس قدرفائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اس میں اس نے کامیاب افراد جن میں آئن سٹائن آئزک وغیرہ شامل ہیں ان پر ایک تحقیق کے نچوڑ میں لکھا ہے کہ یہ سال کے دوران کچھ عرصہ اپنے جیسے ماہر افراد کی صحبت میں رہتے تھے۔ جس سے ان کی اپنی صلاحتیں نکھر کر سامنے آئیں۔
محنت کی عادت
کیریئر کے حصول کے لیے لگاتار اور مسلسل محنت , صبر, برداشت اور حوصلے سے کا لینا پڑتا ہے ۔ پکا ہوا پھل بھی گر کر جھولی میں یونہی نہیں آ جاتا اس کے پیچھے بھی ایک مکمل پراسیس ہوتا ہے اسی طرح اگر ہمارے خواب بڑے ہیں تو ان کے حصول کے لیے اتنی زیادہ محنت اور توانائی درکار ہے۔
روحانی و جسمانی صحت
اگر کامیاب کیرئیر کا انتخاب کرنا ہے تو باقاعدہ ورزش متوازن غذا, پوری نیند اور روحانی طور پر مثبت سرگرمیاں اختیار کرنا ہونگی۔ اپنے رب کے ساتھ ایک مضبوط رشتہ جوڑنا ہو گا۔ اپنے اخلاق اور حقوق کی حفاظت کرنا ہوگی تب ہی کامیابی منزل چومے گی إن شاءالله۔۔اور ایک مکمل و صحتمند معاشرے کی تشکیل ہو گی
اچھے مستقبل کے لیے کیرئیر کونسلنگ کیوں ضروری ہے؟