
یہ بھی پڑھیے
بچوں کو نماز کی طرف کیسے لایا جائے؟
http://بچے اور قبال
ہمارے ہاں بچے کی تربیت کو بہت آسان سمجھ جاتا ہے جسے چاہا سلوک کر لیا کیونکہ وہ ہمارے بچے ہیں بعد میں یہی مائیں تعویز کروا رہی ہوتی ہیں کہ بچے بات نہیں سنتے حالانکہ بچپن میں عادتوں اور رویوں کی صورت میں تعویز انہوں نے خود ہی ڈالے ہوتے ہیں جو اب تناور درخت بن چکے ہیں اور ہلنے کا نام نہیں لیتے۔
بچوں کی تربیت کے روایتی طریقوں میں “نہیں” اور “روک ٹوک” جیسے الفاظ کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ اکثر مائیں یہ کہتی ہیں کہ “پیار سے مانتا ہے نہ غصے سے”، جبکہ حقیقت میں چھوٹے بچوں کے لیے تربیت کا یہ طریقہ مؤثر نہیں ہوتا۔
بچوں کے ساتھ مثبت رہنمائی کیسے کریں؟
1. توجہ بٹانا اور متبادل دینا:
چھوٹے بچوں کا دھیان بٹانا ضروری ہوتا ہے۔ اگر وہ کسی خطرناک چیز کی طرف متوجہ ہوں تو بجائے روکنے کے، انہیں کوئی محفوظ اور دلچسپ متبادل فراہم کریں۔
2. مثبت الفاظ کا چناو:
بچوں کو یہ بتانے کی بجائے کہ کیا نہیں کرنا چاہیے، انہیں یہ بتائیں کہ کیا کرنا چاہیے۔ اس سے وہ مثبت رویہ اپنانے میں مدد پائیں گے۔مثبت الفاظ کا چناوہ بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے مثلا بچے کو کسی کام سے منع کرن ہے تو نا کا لفظ استعمال نا کریںاسے یہ کہنا کہ۔باہر مت جاو کی بجائے اندر کھیلو ،اگر پڑھانا ہے تو اس۔سے پوچھیں کہ آپ پانچ بجے پڑھیں گے یا ساڑھے پانچ اس سے بچے بات بھی مانیں گے اور ضد بھی نہیں کریں گے
3. جذبات کو وقت دینا:
اگر بچے روتے یا الجھتے ہیں، تو ان کے جذبات کو پہچانیں اور انہیں وقت دیں۔ مثلاً، “تمہیں غصہ آ رہا ہے کیونکہ یہ کھلونا نہیں مل رہا”۔ اس سے بچے اپنے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
4. تجسس اور اچھل کود کی حوصلہ افزائی:
بچوں کی قدرتی تجسس اور توانائی کو روکنے کے بجائے، ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ انہیں محفوظ ماحول فراہم کریں جہاں وہ آزادانہ طور پر کھیل سکیں اور سیکھ سکیں۔
5. عزت اور محبت دیں:
اصلاح اور تربیت کے نام پر بچوں کی بے عزتی نہ کریں۔ انہیں لیبل نہ کریں جیسے “اچھا بچہ” یا “گندا بچہ”۔ وہ صرف بچے ہیں، اور انہیں محبت اور عزت کی ضرورت ہے۔
والدین کا خود پر قابو
بچوں کی تربیت میں والدین کو اپنے ری ایکشنز پر قابو رکھنا بہت ضروری ہے۔ فوری ردعمل دینے کے بجائے، سوچ سمجھ کر ردعمل دیں۔ خاموشی پریکٹس کریں، زیادہ سنیں اور کم بولیں۔ یہ سب کچھ مسلسل سالوں تک کرنا ہوگا، نہ کہ چند دن یا ہفتے۔
ابتدائی سات سال کی اہمیت
بچوں کی زندگی کے شروع کے سات سال بہت اہم ہیں۔ اس دوران بننے والا تعلق آنے والے سالوں میں جھلکتا ہے۔ بچوں سے غیر حقیقی توقعات نہ رکھیں، بلکہ انہیں محبت اور عزت دیں۔
بگڑے ہوئے تعلقات کو سنوارنا
اگر آپ کے بچے اس عمر سے گزر چکے ہیں اور غلطیاں ہو چکی ہیں، تو کیا ان کا ازالہ ممکن ہے؟ جی ہاں، بچوں کے ساتھ بگڑا ہوا تعلق بعد کے سالوں میں بھی سنوارا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے والدین کو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا ہوگا، بچوں سے معافی مانگنی ہوگی اور نئی بنیاد پر تعلق قائم کرنا ہوگا۔ مسلسل محبت، توجہ اور مثبت رویہ اپنانا ہوگا۔

ماں وہ ہوتی ہے جو بچے کے اندر سکون کو بھر دے۔اس لیےبچوں کی تربیت میں روک ٹوک کے بجائے رہنمائی کی ضرورت ہے۔ ان کے جذبات کو سمجھیں، حوصلہ افزائی کریں اور انہیں عزت دیں۔ یہ طریقہ نہ صرف بچوں کی بہتر نشوونما میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ والدین اور بچوں کے درمیان مضبوط تعلق بھی قائم کرے گا۔