487

بچپن کا قرآن

تحریر شئیر کریں

بچپن کا قرآن

قرآن اور قرآن سے لو کیسے لگائی جاۓ؟میرا من پسند اوربچپن کا قرآن قدیم ترین موضوع ہے۔مجھے وہ لوگ بہت اٹریکٹ کرتے جو یہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے اپنی والدہ یا والد سے بچپن میں قرآن سمجھ کر پڑھنا شروع کر دیا تھا۔کیسے عظیم ہیں وہ لوگ جن کے حصے میں یہ سعادت آئی وہ بھی اوآئل عمر ی میں۔۔ کیا کہنے؟اور کیسی عظمت ہوگی ان والدین کی جو حرف بہ حرف یہ موتی خود بھی چنتے اور اپنی اولاد کو بھی چننے کا موقع دیتے ہیں۔

مثل مشہور ہے کہ”اپنے بچوں کو قرآن سکھا دو یہ انھیں سب کچھ سکھا دے گا”
قرآن کا علم ہر علم کی جڑ ہے۔اس سے محرومی ہر چیز سے محرومی ہے۔آپ دنیا کی بہترین یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو جائیں اگر قرآن کو سمجھ کر نہیں پڑھا تو آپ جاہل ہیں۔

قرآن کیا ہے؟
قرآن اللہ رب العزت کا نازل کردہ کلام جو حضرت محمدﷺ پر جبرائیل امین کے زریعے اترا اور نسل در نسل ہم تک منتقل ہوتا چلا گیا۔یہ دنیا کی بیسٹ سیلر کتاب ہی نہیں دنیا کی بیسٹ ریڈر کتاب بھی ہے۔دنیا بھر میں ایک کروڑ تیس لاکھ کے قریب حافظ قرآن موجود ہیں۔اور ہر روز انکی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مگر المیہ ہے کہ اس کی طرف دن بدن رجحان کم ہو ریا ہے اور دنیاوی تعلیم کا رجحان بڑھ رہا ہے۔اگر بچوں کو سکھایا جاتا بھی ہے تو صرف ناظرہ۔۔سمجھ کر پڑھانے کینطرف کم ہی آیا جاتا ہے۔
آس امر کی اشد ضرورت ہے کہ بچوں کو بچپن میں قرآن سمجھ کر پڑھنا سکھایا جاۓ۔کیونکہ جو نقش اس عمر میں بچوں کے ذہنوں پہ مرتب ہوں گے ان کا کوئی متبادل نہیں۔اس سلسلے میں کچھ واقعات ملاحظ کریں

فرحت ہاشمی پاکستان کی مایہ ناز سکالر ہیں جن کی ہم پلہ شاید ہی کوئی دوسری عورت ہو، ان کا کہنا ہے کہ ہم سحری میں اپنے والد صاحب سے قرآن پڑھا کرتے تھے۔یہ جو ہمارے حصے میں قرآن پڑھنے اور پڑھانے کی سعادتیں آئیں ہیں وہ اس سحری کے قرآن کی بدولت ہیں۔

آمنہ صدیقی کی تحریر “مقصد زندگی”پڑھی تو دل باغ و بہار ہو گیا۔اور ایک کسک سی دل میں جاگی کہ کاش ہمیں بھی بچپن سے قرآن ملتا اور وہ بھی اپنی اولین درس گاہ گھر اور والدین سے۔۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بچپن پہ اپنے والد گرامی سے روزانہ چھ آیات کا مطلب سیکھتے اگلے دن جو سیکھا ہوتا بتاتے۔۔اور روز ڈائری میں لکھتے آج کیا سیکھا۔۔اس پہ میرے والد صاحب کے دستخط بھی ہوتے۔یہ روٹین گرمی ہو یا سردی، چھٹی ہو یا بغیر چھٹی جاری رہی ، اس میں کبھی تعطل نا آیا۔
میرے ایک استاد محترم ہیں “حماد لکھوی”انھوں نے ایک بار بتایا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو خود روزانہ قرآن سمجھ کر پڑھانا سکھاتے ہیں۔انھوں نے خود بھی اپنے والد گرامی سے اپنے بچپن میں قرآن سیکھا۔

یہ وہ واقعات ہیں جنہوں نے مجھے بے حد متاثر کیا۔اور میری خواہش ہے کہ میں اپنے بچوں کو قرآن کے موتی چننے میں ان کا ساتھ دوں۔اور ایسی ماں بنوں جسے خود اپنے بچوں کو قرآن پڑھانے کی سعادت نصیب ہو۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں