بچوں کو کھانا کھلانے کے تیر بہدف ٹوٹکے جو ہرماں کو لازمی آزمانے چاہیے۔
بچے کھانا کیوں نہیں کھاتے؟یہ وہ سوال ہے جو تقریبا ہر ماں کی پریشانی کا باعث ہے؟
جدید دور کی ایک اہم بیماری جنک فوڈ کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔جنک فوڈ بھوک تو مٹا دیتے ہیں مگر جسم کی غذائی ضروریات پوری نہیں کرتے۔آج کل مائیں بچوں کے کھا نا نا کھانے سے پریشان دکھائی دیتی ہیں۔ان ماؤں سے درخواست ہے کہ وہ مسئلہ ڈھونڈیں جس کی وجہ سے بچے کھا نا نہیں کھا رہے؟جب مسئلہ پتہ چل جاۓ گا تو پھر اس کے حل کی کوشش کرنا ہوگی۔
بچوں کو بھوک نا لگنے کی اہم وجوہات
عموما گھرانوں میں بچے جونہی ایک سال کے ہوتے ہیں ٹافی اور لیز کے پیکٹ پکڑا دیے جاتے۔بچے وہی شوق سے کھانے لگتے۔اس سے ہوتا کیا ہے؟ٹافی اور چاکلیٹ سے بچوں کی بھوک ختم ہوجاتی ہے۔اور بھوک نہیں لگتی۔شوگر کی کمی سے بھوک لگتی ہے۔جب میٹھی چیزیں زیادہ مقدار میں کھائی جاتیں ہیں تو اس سے بچوں کی بھوک متاثر ہوتی ہے۔جس کی وجہ سے بچے بظاہر پھول رہے ہوتے ہیں مگر اندر سے کمزور ہو رہے ہوتے ہیں۔کیونکہ انکو وہ کاربوہائیڈرہٹ اور منرلز نہیں مل پاتے جو ملنے چاہیے تھے۔تو یہ تو ہے بڑی وجہ بھوک نا لگنے کی۔
جسمانی کھیل کود میں کمی
جب بچوں کی فزیکل ایکٹیوٹی کم ہوتی ہے اور وہ ہر وقت بیٹھے رہتے۔اس سے بھی انکو بھوک کم لگتی ہے۔زیادہ ٹی وی دیکھنے والے بچوں میں یہ مسئلہ کافی دیکھنے میں آیا ہے۔بچوں کے لیے کھیل خوراک سے بھی کہیں زیادہ ضروری ہے۔اس عمر میں نئے خلیے بن اور ٹوٹ رہے ہوتے ہیں۔جب بچے کھیلں گے نہیں تو اندرونی طور پہ کمزور اور موٹاپے کی طرف جائیں گے اور موٹاپا ہر بیماری کی جڑ ہے۔
کھانے کے وقت میں بچوں کو سلا دینے سے بھی بچوں کے کھانا کھانے کی عادت متاثر ہوتی ہے۔ایک سال کے بعد کوشش کریں کے بچہ دسترخوان پہ تینوں وقت موجود ہو ۔اور سب کے ساتھ ہی اسے کچھ نا کچھ کھلایا جاۓ۔اس سے وہ سیکھے گا بھی اور کھاۓ گا بھی۔عموما چھوٹے بچوں کو اگنور کر کے اسےسلادیا جاتا ہے۔اگر بچہ تین چار سال تک بھی سب کے ساتھ مل۔کر نہیں کھاتا تو پریشانی کی بات ہے اگر اس عمر میں وہ کھانے کے وقت سو جاۓ تو اٹھنے پہ کھانا مت دیں ۔کہیں کہ کھانے کا وقت تو گزر گیا ہے۔ایک دو بار ایسا کرنے سے اسے خود احساس ہوگا کہ اگر میں کھانے کے وقت کھانا نہیں کھاؤں گا تو مجھے کھانا نہیں ملے گا۔یہ عمر عادتیں بننے ہوتی ہے۔تھوڑی سی سختی سے آپ کے بچے کی عادت پختہ ہو جاتی ہے اور ڈھیل سے بگڑ بھی سکتی ہے۔لہذا توازن رکھیں۔
بچوں کو کھانے کھلانے کے لیے لالچ مت دیں
عمموما۔مائیں کھانا کھلانے کے لیے کسی کھلونے یا باہر کے کسی کھانے آئس کریم یا چاکلیٹ وغیرہ کا لالچ دے کر کھانے پہ مائل۔کرتیں ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے بچے کے اندر مستقل یہ عادت بیٹھ سکتی ہے۔اس لیے اس سے پرہیز کریں۔۔
بچوں کو دعوتوں میں ضرور لے کرجائیں
کھانے کی عادت ڈالنے کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ بچوں کو دعوتوں میں لے کر۔جایا جاۓ۔اس سے بھی ان کی کھانا کھانے کی عادت ڈویلپ ہوتی ہے اور وہ سوشلائز ہونا بھی سیکھتے ہیں۔
کھانے کے دوران فضول باتوں سے پرہیز
کھانا خاموشی سے اور خوشگوار ماحول میں کھایا جاۓ۔کھانے کے دوران کھانے میں نقص نکالنا بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا یہ معیوب باتیں ہیں جو دسترخوان کا ماحول خراب کر سکتی ہیں۔جس سے چھوٹے بچوں کی بھوک متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
بچوں کو کھا نے میں ورائٹی دی جاۓ
بچے چونکہ چھوٹے ہوتے ہیں اور انکے تیتھ بڈز بن ریے ہوتے ہیں اس لیے ان کو مختلف ٹیسٹ کی چیزیں دینے سے وہ آسانی سے کھانے لگتا ہے مشلا کبھی چاول کی کھیر بنا دی تو کبھی آلو اور کبھی ساگودانہ کی۔۔۔اسی طرح چاولوں میں کبھی دودھ ڈال دیں تو کبھی شہد۔۔۔۔اس سے کھانے کی طرف رغبت بڑھے گی۔
کھانے کے دوران موبائل ہاتھ میں نا ہونا
ماں کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ کھانا بچوں کو کھلاتے ہوۓ موبائل ایک سائیڈ پہ رکھ دے۔بچوں کو کھانا کھلاتے ہوۓ جو کچھ کھلایا جا رہا اس کے بارے میں بتا نا بہت ضروری ہے۔عموما بچے کھا تو رہے ہوتے مگر یہ پتہ تک نہیں ہوتا کہ کیا کھا رہے۔اس ڈش کا نام کیا ہے۔پھر کھانے کے آداب پہ گفتگو بھی بہت ضروری ہے۔اس سے بچوں کو معلومات بھی ملتی اور ماں اور بچے کا تعلق بھی مضبوط ہوتا ہے۔اور موبائل ہاتھ میں ہو اور دوسرے سے کھانا نظریں موبائل پر تو اس سے بچہ چڑ سکتا۔اور یقینا چڑ جاتا ہے اور کھانا چھوڑ دیتا ہے۔ماں کی توجہ نا ہونے سے بھی بچے کی بھوک متاثر ہوتی ہے اور شخصیت بھی۔ایک سٹڈی ہے بچے چھوٹی عمر میں جتنے زیادہ الفاظ سنتے ہیں اتنے ہی انکی ذہانت کا گراف بڑھتا ہے۔اور ترقی کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
بچوں کی تعریف
جن گھروں میں بچوں کی تعریف نہیں ہوتی وہاں بھی بچے ضدی ہوتے اور ری ایکشن میں کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں۔بچوں کو شاباش دینے کا کلچر فروغ دیجیے۔اور وضاحت کے ساتھ تعریف کریں۔مثلا اگر اس کے خوبصورت لباس کی تعریف کر رہے ہیں تو کہیے کہ آپ نے کتنا پیارا فراک پہنا اور اس پہ کتنے خوبصورت پھول بنے ہوۓ۔تعریف کرنے سے بچے خوش ہوتے اور خوشی میں بھوک زیادہ لگتی۔اس طرح سے ان کو کھانے کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے۔