512

بڑھتی ہوئی آلودگی لمحہء فکریہ

تحریر شئیر کریں

تحریر ریحانہ ایجاز

“””بڑھتی ہوئی آلودگی لمحہء فکریہ
مو جودہ دور میں ہمیں جہاں اور بہت سے مسائل درپیش ہیں ان میں ایک اہم ترین مسلہ ” آلودگی ” ہے ۔۔
الودگی کئی طرح کی ہوتی ہے فضائی آلودگی ،آبی آلودگی ، زمینی آلودگی ، شور وغل کی آلودگی ،
فضائی یا ہوائی آلودگی کا سب سے بڑا سبب دھواں اور بہت سی ایسی گیسز ہیں جو گاڑیوں ، فیکٹریوں اور صنعتی ملوں کی بدولت فضا کو زہر آلود کر رہی ہیں ۔۔۔


انسانی صحت کو ان سے بےشُمار خدشات لاحق ہیں کہ تیل ،پیٹرول اور کوئلہ کے جلنے سے فاسد اور ناکارہ مادے فضا میں تحلیل ہوتے ہیں جو نہ صرف ہماری صحت کو متاثر کرتے ہوئے معاشرے میں بیماریوں کا مؤجب بنتے ہیں بلکہ ان سے اوزون کی تہہ جو ہمیں سورج سے خارج ہونے والی تابکار شعاعوں سے بچانے کا کام کرتی ہے اسے بھی نقصان پہنچ رہا ہے ۔


آبی آلودگی کی اہم ترین وجوہات میں گھروں اور بستیوں میں موجود جگہ جگہ کھڑا گندہ پانی ، جانوروں کا فضلہ ، کھادیں ، جراثیم کش ادویات کا بےتحاشہ اسپرے ، کیڑے مار دواؤں کی بہتات ہیں ، یہ تمام عوامل پانی میں شامل ہو کر اسے آلودہ کر دیتے ہیں جس کے استعمال کے بعد ہر جاندار چاہے وہ انسان ہو یا حیوان گو ناگوں بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے ۔


زمینی آلودگی میں بےتحاشہ بڑھتی ہوئی آبادی ، چاروں اطراف میں اڑتے پلاسٹک کے شاپر ، خالی بوتلیں اور درختوں کی کمی سب سے بڑی وجوہات ہیں ۔
جبکہ شور کی آلودگی میں صنعتوں ، ہوائی جہازوں ، گاڑیوں کے متواتر بجتے ہوئے سائرن ،ریڈیو ، ٹی وی کی آوازیں ، بلند آواز میں بے ہنگم موسیقی شامل ہے ۔ اور اس آلودگی کو بڑی حد تک اگنور کیا جاتا ہے جبکہ یہ آلودگی بھی انسانی صحت کے لئے کافی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے ۔ سماعت کو خدشہ لاحق ہوتا ہے ، ڈپریشن بڑھتا ہے ، بے جا شور ہائی بلڈ پریشر کا مؤجب بھی بنتا ہے ۔۔


ان تمام آلودگیوں اور عوامل سے نجات پانے کے لئے ہمیں چاہیئے کہ ہاسپٹلز اسکولز ، کالجز اور مدرسے وغیرہ کے قرب و جوار میں ایسے سائن بورڈز نصب کیئے جائیں جن پر واضح لکھا ہو کہ یہاں شور و غل منع ہے ۔ یا یہاں سائرن بجانا منع ہے ،


جا بجا درختوں کی آبیاری کی جائے ، باقاعدہ شجر کاری کو اہمیت دی جائے ، بچوں کے لئے پارکس بنائے جائیں ، کچرے کے لئے ایک منظم طریقہ کار وضع کیا جائے ، کیونکہ یہ تمام تر آلودگیاں ہم سب کے لیئے مضر ہیں ، اور ہم سب کا فرض ہے کہ اپنے گھر ، محلے ، ملک کو صاف رکھیں کہیں بھی گندگی کے ڈھیر نہ لگائے جائیں انسانی زندگی کی قدر کی جائے بحیثیت مسلمان یہی یاد رکھ لیا جائے کہ
” صفائی نصف ایمان ہے

:

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں