891

تھائی رائیڈ: خاموش قاتل

تحریر شئیر کریں

تھائی رائیڈ ایک چھوٹا سا غدود (گلینڈ) ہوتا ہے جو گردن کے سامنے والے حصے میں موجود ہوتا ہے۔ بظاہر یہ نہایت معمولی سا عضو لگتا ہے، لیکن اس کا ہمارے جسم کے تمام افعال پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگ تھائی رائیڈ کی خرابی کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، یا پھر لاعلمی کی وجہ سے اس کے خطرناک نتائج کا شکار ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر خواتین میں یہ مرض زیادہ پایا جاتا ہے، لیکن مرد بھی اس سے محفوظ نہیں۔

—

عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹ

عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 75 کروڑ افراد تھائی رائیڈ کی کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہیں، جن میں سے لاکھوں کو اس کا علم تک نہیں۔ WHO کی ایک رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ “تھائی رائیڈ گلینڈ کی بیماریاں اکثر خاموشی سے پروان چڑھتی ہیں اور بروقت تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے شدید جسمانی اور ذہنی پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہیں۔”

مزید یہ کہ ترقی پذیر ممالک میں، جہاں آیوڈین کی کمی زیادہ پائی جاتی ہے، وہاں یہ مسئلہ وبائی شکل اختیار کر رہا ہے۔ خاص طور پر خواتین اور بچوں میں آیوڈین کی کمی کے باعث تھائی رائیڈ کی بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

—

تھائی رائیڈ کی اقسام

تھائی رائیڈ کے دو بڑے مسائل ہوتے ہیں:

1. ہائپر تھائی رائیڈزم — جب یہ گلینڈ ضرورت سے زیادہ ہارمونس پیدا کرے۔

2. ہائپو تھائی رائیڈزم — جب یہ گلینڈ ہارمونس کم پیدا کرے۔

یہ دونوں حالتیں جسم کے افعال کو شدید متاثر کرتی ہیں اور اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ درجنوں پیچیدہ بیماریوں کو جنم دے سکتی ہیں۔

—

علامات جو نظر انداز نہ کی جائیں

تھائی رائیڈ کی علامات عام جسمانی تھکن یا روزمرہ کے دباؤ سے ملتی جلتی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے لوگ اسے سنجیدہ نہیں لیتے۔ چند نمایاں علامات یہ ہیں:

ہر وقت تھکن کا احساس

وزن میں بغیر وجہ کے اضافہ یا کمی

ذہنی الجھن یا ڈپریشن

نیند کا متاثر ہونا

بالوں کا گرنا اور جلد کی خشکی

دل کی دھڑکن کا غیر معمولی ہونا

ماہواری کی بے ترتیبی

چہرے یا آنکھوں کی سوجن

گردن کے اگلے حصے میں سوجن یا گانٹھ

اگر ان میں سے کچھ علامات مستقل موجود ہوں تو تھائی رائیڈ کا ٹیسٹ کرانا انتہائی ضروری ہے۔

—

تھائی رائیڈ کی پیچیدگیاں

تھائی رائیڈ کی خرابی اگر لمبے عرصے تک علاج کے بغیر رہے تو اس سے درج ذیل بیماریاں جنم لے سکتی ہیں:

دل کی بیماری

بانجھ پن

ذیابیطس

ذہنی تناؤ اور یادداشت کی کمزوری

خون میں کولیسٹرول کی زیادتی

جسمانی مدافعتی نظام کی خرابی

—

کن افراد کو زیادہ خطرہ ہے؟

خواتین، خاص طور پر 30 سال سے زائد عمر کی

وہ افراد جن کے خاندان میں تھائی رائیڈ کی بیماری رہی ہو

حمل یا زچگی کے بعد کی حالت

آیوڈین کی کمی

خودکار مدافعتی (autoimmune) بیماریوں میں مبتلا افراد

—

احتیاط اور علاج

تھائی رائیڈ کا علاج ممکن ہے، لیکن اس کے لیے بروقت تشخیص ضروری ہے۔ ہر سال کم از کم ایک بار تھائی رائیڈ کا بلڈ ٹیسٹ کرانا ایک اچھی عادت بنائی جائے۔ متوازن غذا، آیوڈین سے بھرپور نمک، ذہنی سکون، اور باقاعدہ ورزش اس بیماری سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

WHO کے مطابق، اگر بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تو تھائی رائیڈ کی بیماریوں پر 80 فیصد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

—

تھائی رائیڈ کی بیماری ایک خاموش مگر خطرناک دشمن ہے۔ اس کا حملہ دھیرے دھیرے ہوتا ہے لیکن اثرات گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنی صحت کے حوالے سے باخبر رہیں، علامات کو سنجیدگی سے لیں، اور وقت پر معائنہ کرائیں تو ہم اس خاموش بیماری کو مات دے سکتے ہیں۔

صحت کے معاملے میں غفلت نہ برتیں، کیونکہ احتیاط ہی علاج سے بہتر ہے۔

—

نوٹ: یہ مضمون صرف آگاہی کے لیے ہے۔ کسی بھی علامت کی صورت میں مستند ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں