451

جزام علامات وجوہات اور علاج

تحریر شئیر کریں

جزام علامات وجوہات اور علاج

30 جنوری ورلڈ لیپروسی ڈے یعنی جزام (کوڑھ)کا عالمی دن منایا جا رہا ہے یہ دن ہر سال جنوری کے آخری اتوار کو منایا جاتا ہے اس دن کے منانے کا ایک ہی مقصد ہے تاکہ اس مرض سے متعلق آگہی فراہم کی جائے اگرچہ اس مرض پر قابو پایا جا چکا ہے مگربالکل ختم نہہں ہوا پاکستان ہی میں ہر سال چند سو کیسز سامنے آتےہیں جن میں سے زیادہ تر مریضوں کو پہلی سٹیج پر ہی کیور کر لیا جاتا ہے

کوڑھ کی بیماری بڑی جان لیوا ہے اس میں۔مریض کے جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے اور گل کر گرنے لگتا ہے پورے جسم میں بدبو پھیل جاتی ہے اس حوالے سے بہت سی توہمات مشہور ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ بیماری انسانی پٹھوں اور بافتوں میں جنم لیتی ہے ۔
سوال یہ ہے کہ

جزام کا مرض کیوں ہوتا ہے؟

تو ایک تحقیق کے مطابق قوت مدافعت کی کمی سے یہ مرض جنم لیتا ہے اس کے دیگر عوامل بھی ہیں جیسا کہ آلودگی ناقص غذا کا استعمال اور آلودہ پانی شامل ہیں۔

جزام ایک سے دوسرے شخص کو لگ سکتا ہے اس کی وجہ اس بیماری کے جراثیم سانس کے زریعے منتقل ہوتے ہیں اس لیے بآسانی لگ جاتے ہیں اسے چھوت کا مرض اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ چھونے سے بھی لگ سکتا ہے

ابتدائی علامات کیا ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جسم میں سفید یا سرخ دھبہ نمودار ہو اور اس میں خارش اور جلن کا احساس نا ہو اور یہ کافی دن سے ہو اور ختم نا ہو رہا ہو اس کے ساتھ ساتھ بازوں اور ٹانگوں کی نسوں میں تکلیف ہوتو ڈاکڑ سے رجوع کریں۔

علاج ممکن ہے

کوڈھ جزام قابل علاج مرض ہے جو کبھی لا علاج ہوا کرتا تھا مگر پاکستان اب ان ممالک میں شامل ہے جو لیپروسی کنٹرولڈ میں شامل ہے ڈاکڑ رتھ فاو کی محنت اور کوششوں سے پاکستان نے اس بیماری پر قابو پالیا ہے صرف سالانہ تین سو مریض اس کیس کے سامنے آتے ہیں الحمدللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں