جیل میں قیدیوں کے لیے فیملی ہومز تیار کر لیے گۓ ہیں۔یہ مراعت سزا یافتہ قیدہوں کے لیے مخصوص رکھی گئ ہے جس میں ہر سزا یافتہ قیدی کے ساتھ ہر تین ماہ بعد تین دن کے لیے اس کی بیوی اور پانچ سال تک کا بچہ قیام کر سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جیلوں کے اندر فیملی ہومز تیار کر لیے گۓ ہیں۔اس ضمن میں لاہور ملتا ن اور فیصل آباد شا۔ل ہیں۔باقی شہروں میں تیار ہونا باقی ہیں۔یہ منصوبہ التوا کا شکار ہوا ورنہ 2010 ء میں یہ تیار ہونا تھا۔فیملی ایک کمرہ کچن اور بارھ روم پر مشتمل ہوگا۔
فیملی ہومز کے استعمال کے لیے قیدی یا اسکی بیوی کو درخواست دینا ہوگی۔متعلقہ ڈپٹی کمیشنر نکاح نامے کی تصدیق کے بعد اجازت دے گا۔
حکومت کو چاہیے کہ فیملی ہومز کا منصوبہ صاف اور شفاف بناۓ۔اتنا کہ لوگ اپنی بیویوں کو بے خوف و خطر جیلوں میں بلا سکیں۔ہمارے ہاں عدالت جیل اور ہسپتالوں سے پناہ مانگی جاتی ہے۔کیوں ؟یہ سب ہم جانتے ہیں۔