حقیقی کامیابی کیا ہے؟ⁿ
لفظ قانون انسان کو سکھاتا ہے کہ اس نے اپنی حد میں رہنا ہے۔اگر اس حد کو پھلانگنے کی کوشش کی تو بغاوت ہوگی۔قانون بہت سے ہوتے ہیں جیسا کہ حرکت کا قانون ،کشش ثقل کا قانون اور توانائی کا قانون اور ایک قانون چلتے چلے جانے کا قانون بھی ہے۔رائیگانی کا قانون جس کے بارے میں انسان بہت کم جانتا ہاں باقی مخلوقات خوب جانتی اور ادراک رکھتیں کہ ساری محنتیں سارے اجر ساری کوششوں کی وصولی اس دنیا میں ممکن نہیں۔
انسان کے علاوہ باقی مخلوقات جانتیں ہیں کہ سارے تیر اپنے ہدف تک نہیں پہنچتے،ساری گولیاں نشانے پہ نہیں لگتیں۔سارے کوہ پیما ایورسٹ کو فتح نہیں کر پاتے۔سارے قدم اپنے منزلوں تک نہیں پہنچتے۔
شیر طاقتور ہے مگر جب وہ شکار پہ نکلتا ہے تو ہر دفعہ اسے شکار نہیں ملتا۔اگر چار بار شکار پہ جاتا تو صرف ایک بار کامیابی اس کے قدم چومتی ہے تین بار ناکام لوٹتا ہے۔یہ تو حال ہے جنگل کے بادشاہ کا۔مگر کتنی انوکھی بات ہے کی جنگل کا بادشاہ ہوتے ہوۓ بھی وہ اس کا واویلا نہیں کرتا شور نہیں مچاتا،ڈپریشن میں مبتلا ہو کے شکار پہ جانا نہیں چھوڑتا۔بلکہ وہ مزید کوششوں پہ کوششیں جاری رکھتا ہے۔یہی فطرت کا قانون ہے۔جس کو چلتے رہنا بھی کہتے ہیں۔
درختوں کو دیکھ لیں سو میں سے ستر درختوں کے بیج پرندے اچک لیتے ہیں۔جہاں تک مچھلیوں کی بات ہے تو تین گنا انڈے سمندر کی دیگر مخلوق کھا جاتی ہے۔آدھے سے زیادہ ریچھ بچپن میں ہی مر جاتے ہیں۔سانپ کتنے پیدا ہوتے ان میں سے تین حصے مر جاتے یا مار دیے جاتے۔آدھی سے زیادہ بارشیں سمندروں کے پانی کی نذر ہو جاتیں ہیں ہیں۔
جدید ریسرچ بتاتی ہے کہ نباتات حیوانات اور دیگر مخلوقات قدرت کے رائیگانی کے قانون سے واقف بھی ہے اور شاکر بھی۔وہ اس قانون کے حوالے سے کوئی اعتراض نہیں کرتے۔کبھی اسراپااحتجاج نہیں ہوتے صبر اور شکر سے اپنے آنے والے کل کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔
رائیگانی اور بے ثمر کوششوں کا قانون کہتا ہے کہ ساری کوششوں کا پھل نہیں ملنے والا۔زیادہ کوشش کرنا ہوگی۔زیادہ مواقع ڈھونڈنا ہوں گے۔زیادہ خوار ہونا ہوگا۔زیادہ مواقع گوانا ہوں گے۔سو درخت لگاۓ گے تو ایک ہاں کوئی ایک بیج کونپل بنے گا پھر شگوفے آئیں گے پھر تنے میں بدلے گا تب جا کر درخت بنے گا۔
کتنی عجیب بات ہے اشرف المخلوقات اس قانون کو جانتا ہے پھر بھی واویلا کرتا ہے۔اپنا گریبان چاک کرتا ہے۔یہ مرض کسی حیوان کو کبھی نہیں ہوا صرف حضرت انسان کو ہوتا ہے۔وہ ناکامی کا ٹیگ لگا کر کہتا ہے دیکھو میں ناکام ہوگیا۔ناکام انسان تب ہوتا جب ہار مان لیتا۔ورنہ ناکامی تو بذات خود کامیابی کا راستہ ہوتی۔
ایک بار دو بار تین چار پانچ یا اس سے بھی زیادہ بار کوشش کشش اور کوشش کرو گے تب برگ و بار آۓ گے۔تب کامیابی قدم چومے گی۔یہی قانون فطرت ہے۔جس میں تھمنا نہیں رکنا نہیں بس چلتے ہی جانا اللہ کے آگے سر جھکاۓ یہی حقیقی کامیابی ہے۔
حقیقی کامیابی کیا ہے؟