372

خود شناس لمحے

تحریر شئیر کریں

زندگی بہت مصروف تھی۔ کسی کے پاس وقت نہ تھا۔ سبھی کسی انجان منزل کی طرف بھاگ رہے تھے۔ پھر دنیا میں ایک وبا آئی۔ وہ لوگ جو گہری نیند سو رہے تھے۔ تھوڑا کسماۓ، آنکھیں کھولیں اور دیکھا کہ یہ کیا ہے۔

زندگی ایک دم سے کیسے بدل گئ تھی؟
یہ لاہور شہر کی ایک صبح تھی۔ جب میری آنکھ زرا جلدی کھل گئ تھی۔ میں نے سوچا کیوں نا واک کے لئے نکلا جاۓ۔ایک ماہ ہو گیا تھا گھر میں بند ہوۓ۔ میں نے ماسک لگایا اور باہر نکل کھڑا ہوا۔ بظاہر عام سی صبح تھی عام لیکن میرے لئے خاص۔ آج کی صبح میں کچھ تھا جو دکھتا نا تھا مگر محسوس ہوتا تھا۔

یہ وبا قدرت کی طرف سے ویک اپ کال تھی۔جو بتانے آئی تھی کہ خطرہ قریب ہے۔اٹھ جاؤ۔۔۔
میرے محسوسات منجمد ہو گۓ تھے جب میں نے پر رونق بازاروں کی رونقیں معدوم دیکھیں تھیں۔مارکیٹس بازارسب چپ کی چادر اوڑھے سو رہے تھے۔سب لوگ گھروں میں مقیم ہو کر رہ گۓ تھے۔زندگی نے ایک دم سے بساط الٹی تھی ایسی لٹی کہ سب کچھ ہی الٹ گیا تھا۔
لایور شہر کی گلیوں اور بازاروں میں اتنا سناٹا۔۔۔میری روح اندر تک کانپ اٹھی ایسے لگتا تھا انھیں کوئی سانپ سونگھ گیا ہو۔جو سارے کے سارے گھروں میں دبکے بیٹھے تھے۔کوئی ہلچل نا تھی زندگی ٹھہرے پانی کی طرح ساکت ہو گئ تھی۔فضاوں میں انجانے سے خوف کی بو رچی بسی تھی۔موت کے ساۓ ہر طرف اپنے پر پھیلاۓ بیٹھے تھے میرے جذبات بہت تیزی سے بدل رہے تھے۔ ایک ماہ گھر میں بند رہنے کے بعد ، میں مغلوب اور افسردہ تھا۔ میں نے سوچا کہ میں باہر جاکر تازگی محسوس کروں گا۔ لیکن کیا وہ افسردگی میرے اندر کینسر کی طرح پھیل رہی تھی۔ میری آنکھیں اس ہجوم کو دیکھنے کے منتظر تھیں جن کے دم سے رونقیں تھیں، جو اب نہیں رہیں تھیں آہ ، یہ رنگ پھر کب لوٹ آئیں گے۔ میرا دل غم سے بھر گیا تھا۔ میری آنکھیں بالکل خالی تھیں۔ میرا دماغ خالی برتن کی طرح تھا جہاں سے ساری خواہشیں بکھر گئیں۔

اچانک مجھے ایسا لگا جیسے مجھے بھی اس وبا نے آن دبوچا ہو اس احساس کے بیدار ہوتے ہی ، میری سانسیں اکھڑنے لگیں تھیں۔ میرا دل دھک دھک کر رہاتھا۔ . یہ احساسات ایک کرونا مریض کے تھے جو آخری مرحلے پر کھڑا زندگی کی جنگ لڑ رہا ہو ۔ اب میں زیادہ نہیں چل سکتا تھا۔ میرے نقش قدم میرا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ . یہ وبا کیوں آ گئ؟ ہم اپنی زندگی میں کتنے خوش اور مصروف تھے۔ اچانک یہ وبا موت کا سایہ بن کر ہمارے سروں پہ۔مسلط کر دی گئ یہ ایسے ہی تھا جیسے موت ہمارے سامنے کھڑی ہو اور اسے کسی بھی لمحے نگل لینے کو بے تاب ہو میرا دماغ ان حقائق کے بارے میں سوچ رہا تھا جس کے بارے میں میں کبھی سوچنا نہیں چاہتا تھا۔ ایسا کیوں ہوا؟ زندگی کی اتنی بڑی حقیقت پر آنکھیں بند کرنا ، کیا یہ زندگی سے فرار نہیں تھا؟ یہ صبح واقعی خاص تھی ، اس نے مجھے زندگی کی سب سے بڑی حقیقت سے روشناس کر دیا تبا۔کچھ لمحے کچھ لفظ کچھ لوگ واقعتا انسان کو روشناس کروا دیتے ہیں۔اور یہ رب سوہنے کی عطا ہوتے ہیں۔انھیں کبھی بھی اگنور نہیں کرنا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں