858

دہی اور اس کی لسی کی غذائی اہمیت اور فوائد

تحریر شئیر کریں

دہی اور اس کی لسی کی غذائی اہمیت اور فوائد ملاحظ کیجیے۔

ایک تحقیق کے مطا بق “دنیا میں سب سے زیادہ دہی فرانس میں کھایا جاتا ہے جس کہ شرح اکیس کلو گرام فی کس سالانہ ہے جبکہ سب سے کم دہی کھانے میں پاکستان کا نمبر آتا ہے جو سالانہ فی کس چار سو گرام کھاتے ہیں۔

جہاں دہی اور اسکی لسی کی غذائی اہمیت اور فوائد کی کی بات ہے تو اس سے پہلے دہی کی تاریخ دیکھتے ہیں کہ
دہی سب سے پہلے ترکی میں جمایا گیا اور پھر اس کی لسی بنائی گئ۔ترکوں کے ہاں آج بھی لسی پی جاتی ہے۔جو کہ ایک صحت مند روایت ہے۔دہی کے بارے میں ؓحکیم حاذق کا قول ہے دنیا والے اگر دہی کی
افادیت کے بارے جان جاتے تو پانی پت کی چوتھی لڑائی کسی اور بات پہ نہیں بلکہ دہی پہ ہوتی”
حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ دہی کی لسی میں ایسے جراثیم ہوتے ہیں جو زندگی ختم کرنے والے جراثیم کا خاتمہ کرتے ہیں۔”

دہی کی افادیت مسلم ہے یہ بلڈ پریشر اور شوگر میں مفید ہے۔معدے کے امراض میں بھی اکسیر ہے۔یہ خون کو صاف کرتی اور گندے مادوں کو خارج کرتی ہے۔دل کے امراض میں بھی مفید ہے۔دماغ کو ٹھنڈک پہنچاتی اور دل کو تقویت دیتی ہے۔یہ راحت بخش مشروب ہے۔راحت جاں لسی کہنا زیادہ ٹھیک ہے۔مشروب مشرق بھی کہا جا سکتا کیونکہ دو دہائیاں پہلے تقریبا ہر گھر میں صبح صبح ناشتے سے پہلے لسی بلوئی جاتی اور پی جاتی تھی۔جو لوگ خود نہیں بلوتے تھے وہ ہمسایے کے گھر سے لے اتے تھے اور لوگ خوشی خوشی دے بھی دیا کرتے تھے۔جیسے ہی لوگوں کو چاۓ کی لت لگی تو لسی کی روایت ختم ہوتی گئ۔لوگ اتنی چاۓ پینے لگے کہ دودھ کی کھپت چاۓ پہ ہونے لگی اور لسی کے لیے مزاج رہا نا دودھ۔۔۔۔میرے نانا کہا کرتے تھے کہ انگریز نے چاۓ دشمنی میں لگائی۔۔۔۔یعنی چاۓ انگریز دشمنی کی واضح مثال ہے۔وہ خود تو چلے گےانگریزی اور چاۓ چھوڑ گۓ۔نانا کی یہ بات سچ لگتی ہے۔لسی بمقابلہ چاۓ دیکھیں تو چاۓ سراسر نقصان اور لسی سراسر فائدے مند ہے۔حکماء کو یہاں تک کہتے سنا ہے کہ ایک پیالی چاۓ پینے سے ایک سال عمر کم ہو جاتی ہے۔یہ خون کو جلاتی،معدے کا بیڑاغرق کرتی اور کیلثیم کلر ہے۔دہی اور اسکی لسی کی غذائی اہمیت کا معترف آج کی جدید سائنس بھی ہے۔

انگریز ہمیں تو چاۓ پہ لگا کر دائمی دشمنی کا بیج بو گے جبکہ خود دہی کو خشک کر کے ہر کھانے کے ساتھ اس کا پاؤڈر استعمال کر تے ییں تاکہ دہی کے فوائد زیادہ سے زیاد حآصل کر سکیں۔دہی کا پاؤدر دس ڈالر فی کلو کے حساب سے بکتا ہے۔اس وقت 70 ار ب ڈالر کا پاؤڈر دنیا میں بکتا ہے یہ پاؤڈرچین بھارت اور ہالینڈ بناتے اور دنیا کو فراہم کرتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے خشک دودھ بنانے والے پلانٹ پہ دہی کا پاؤڈر بھی اسانی سے بنایا جا سکتا ہے ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ جب انسان پڑھ لکھ جاۓ اور جان جاۓ کہ فلاں چیز کھانے میں مفید ہے اور فلاں نہیں تو جو چیز مفید نہیں اس کو چھوڑ کر مفید چیز کا استعمال شروع کر دیا جاۓ۔پاکستان میں ہر دوسرا بندہ معدے کی بیماری میں مبتلا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ دہی اور لسی کی روایت کو ازسر نو زندہ کیا جاۓ۔اور جہاں دیگر چیزوں میں انگریز کی نقالی کی جاتی ہے اس کام میں بھی کر لی جاۓ تو صحت کے لیے غنیمت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں