304

راجہ گدھ سے کیا سیکھا؟

تحریر شئیر کریں

راجہ گدھ سے کیا سیکھا؟

یہ کتاب پڑھنے کے بعد مجھے زندگی کی ہر پریشانی کا حل مل گیا۔
یہ کتاب کا موضوع ہے حرام کھانا۔
لیکن اس میں اور بھی بہت سی برائیوں کا ذکر ہے۔
دھوکہ دینا، غلط بیانی کرنا۔

یہ سب انسان کی روح کو بگاڑ دیتی ہیں، انسان کے جسم کو کھا جاتی ہیں۔

بانو قدسیہ لکھتی ہیں انسان کی سرشت میں حرام کھانا نہیں لکھا اور اسی لیے جب وہ حرام کھاتا ہے یا حرام کام کرتا ہے تو یہ حرام کے لقمے انسان کی روح اور جسم دونوں کو بیکار کرنا شروع کردیتے ہیں۔

حرام بہت ساری چیزیں ہیں لیکن اس کے باوجود بہت سے لوگ حرام نہ کھا کر بھی بیمار ہیں۔ کچھ جسمانی طور پر اور کچھ ذہنی طور پر۔

میں نے جو سمجھا وہ یہ ہے کہ گناہوں کی عادت ہمیں بیمار کرتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ بیماری ہمیں گناہ کو گناہ نہ سمجھنے سے لگتی ہے۔

ہم میں سے اکثر لوگ اپنے گناہ کو جسٹیفائے کرتے نظر آئیں گے۔ کہیں گے کہ کوئی بات نہیں اگر ہم گانے سنتے ہیں تو کیا ہوا ہم نماز بھی پڑھتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک تو شعوری طور پر گناہ کر رہے پیں اور دوسرا گناہ کو گناہ کے درجے سے اتار رہے ہیں۔

دو سال پہلے ایک پریکٹس شروع کی تھی جو اب میری عادت بن گئی ہے کہ اگر میں گناہ کا کام کروں تو بھی مین شعوری طور پر اس کو گناہ تصور کرتی ہوں اور اس پر شرمندہ بھی ہوتی ہوں اور اس کی معافی بھی طلب کرتی ہوں۔

اس عادت کو اپنانے کے لیے سب سے پہلے میں نے گانے سننا چھوڑے تھے۔ اب بھی اگر کانوں میں کوئی گانے کی آواز آئے یا خود گانے لگوں تو میں خود کو یہ ضرور کہتی ہوں یہ کام کر تو لیا ہے مگر یہ ایک گناہ ہے۔ یقین جانیں گناہ کو گناہ سمجھنے سے گناہ چھوڑنا آسان ہوجاتا ہے۔

اسی طرح شعوری طور پر اس عادت کو اپناتے اپناتے اب یہاں تک پہنچی ہوں کہ کہیں کوئی کمنٹ کر دوں تو دو بار سوچتی ہوں کہ دل تو نہیں دکھایا؟ کیا کمنٹ کرنا فرض ہے؟ کیا تعریف ممکن نہ تھی؟ کیا ضروری تھا صرف غلطی بتانا؟
کبھی جھوٹ بولنے کا سوچوں تو مجھے بے چینی گھیر لیتی ہے۔ اگر بول دوں تو کسی نہ کسی طرح بے چین ہو کر سچ بتانا پڑ جاتا ہے۔
جب دوسروں کے متعلق گفتگو کروں تو سب سے پہلے سوچتی ہوں کہیں یہ غیبت تو نہیں؟

اسی طرح اپنے ہر ہر عمل کو اس سختی سے جانچتی ہوں جس سختی سے کبھی دوسروں کو جانچا کرتی تھی۔

اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو رہا ہے کہ شخصیت نکھر رہی ہے۔ اللہ سے لگاؤ بڑھ رہا ہے۔ گناہ چھوٹ رہے ہیں۔ نیکیاں بڑھ رہی ہیں۔

یہ ایک سخت مشکل کام ہے کہ ہر قدم پر کوئی نہ کوئی گناہ کھڑا ہے۔ موبائل پکڑو تو ہر وڈیو میں میوزک ہے، ہر تصویر میں مرد کھڑا ہے، گھر میں ٹی وی ہے، باہر نکلو تو ویسے ہی کوئی نہ کوئی خواہش جاگ اٹھتی ہے وہ بھی بے معنی بے مقصد، اشیاء ہیں تو ہر شے ضرورت سے زائد ہے۔

ایسے میں خود کو سمیٹنا، ایک دائرے میں لانا، ایک باؤنڈری کے اندر محدود رکھنا بے حد مشکل کام ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔

یہاں باؤنڈری سے متعلق بھی کچھ اضافہ کروں گی جو پچھلے دنوں سائرہ سے سیکھنے کو ملا۔ جو خود کو باؤنڈ کرنے سے ہی متعلق تھا۔

پچھلے سال باؤنڈری میکنگ پر کام کیا تھا۔ مختلف تحاریر بھی لکھیں کہ یہ کیا ہوتی ہیں، کیسے بنائی جاتی ہیں۔ باؤنڈری کا مقصد ہوتا ہے ایک حد میں رہنا۔ دوسروں کو ایک حد میں رکھنا۔ لیکن ہم دوسروں کو ایک حد میں رکھنے کامیاب ہوجاتے ہیں اپنا خیال رکھنے کے لیے باؤنڈری بنا دیتے ہیں کہ اس وقت یہ کام کرنا ہے۔ لیکن ایک باؤنڈری ہمیں اپنے لیے ایسے بھی بنانا ضروری ہے جو کہ ہمیں بتائے کہ ہمیں یہ یہ اور فلاں فلاں کام نہیں کرنا ہے۔
یہ ایسے ہی ہو گا جیسے کہ کوئی انسان اپنی ٹو ڈو لسٹ تیار کرے اور ساتھ ہی ناٹ ٹو ڈو لسٹ بھی تیار کرے۔
تبھی تو ہم سہولت سے بہتر سے بہتر شخصیت میں ڈھل سکتے ہیں۔
شاید ہماری زندگی میں مسائل اس لیے بھی ہیں کہ ہم یہ تو تلاش کرتے ہیں کہ ایک مسئلے کو ختم کرنے کے لیے کیا کرنا ہے، لیکن یہ تلاش نہیں کرتے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کیا نہیں کرنا ہے۔

امید کرتی ہوں میرے ساتھ آپ سب کا سفر بہت مفید ہو گا۔
اللہ ہم سب کو ڈھیروں ڈھیر سمجھ عطا فرمائیں۔ آمین ثمہ آمین

جزاک اللہ خیرا کثیرا
✍️ طوبیٰ منظور

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں