رسالت میرےایمان کا جزولاینفک
حاجرہ عمران خان
دین اسلام اس دنیا کا سب سے خوبصورت ترین مذہب ہے، اس میں شامل ہر وہ شخص جو مسلمان ہے اور جو بلا تفریق اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ اکرام اجمعین پر بلا امتیاز و بلا تفریق ایمان رکھتا ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل پیرا ہو، وہی سچا مسلمان ہے۔
دین اسلام کو دنیا کے دوسرے مذاہب پر سب سے بڑی برتری اس لیے حاصل ہے کیونکہ اس کی تعلیمات میں دوسرے مذاہب کا احترام سب سے پہلے شامل ہے۔
ایک مسلمان کا ایمان مکمل نہیں ہوتا جب تک کہ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ باقی ایک لاکھ چوبیس ہزارپیغمبروں پر ایمان نہ لائے۔ چاروں الہامی کتابوں پر ایمان لانا بھی ایک مسلمان کا خاصہ ہے۔
جب کوئی شخص ایمان لاتا ہے تو پھر توہین نہیں کرتا۔ احترام کرتا ہے تو پھر عزت بھی دیتا ہے بلکہ خود بھی اس عزت اور احترام کا محافظ بن جاتا ہے۔
رسالت میرےایمان کا جزولاینفک
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس پر ایمان لانا ہر مسلمان پر فرض عین ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس پر ایمان لائے بغیر ایک مسلمان کا ایمان مکمل نہیں ہوتا ۔ایمان تو ایمان محبت کا تقاضا بھی پورا نہیں ہوتا جب تک کہ ہم پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے متولی نہیں بن جاتے ، ہمارا ایمان ادھورا رہ جاتا ہے ۔ اسی لیےناموس رسالت کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔
دنیا کی عظیم ترین شخصیت کہ جن کے بعد اتنی عزت و مرتبت والی شخصیت پیدا ہی نہیں ہوئی اور نہ ہوگی ۔ ہم مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک سے گہری عقیدت رکھتے ہیں۔
یہ عقیدت ہمارے ایمان کا حصہ ہے، ہم سے ہماری عقیدت کوئی نہیں چھین سکتا اور اگر کوئی ایسی گستاخی کرنے کی جرات کرتا ہے تو پھر ہم جان دینا بھی جانتے ہیں اور جان لینا بھی جانتے ہیں ۔
یورپ کی جانب سے اکثر و بیشتر اس قسم کی گستاخیوں کا ارتکاب کیا جاتا ہے جو مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو گھاؤ لگانے کے مترادف ہوتا ہے ۔
ان میں سب سے زیادہ تکلیف اس وقت پہنچائی جاتی ہے جب آقائے دو جہاں، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک میں گستاخی کی رذیل کوشش کی جاتی ہے، کبھی جھوٹے خاکے بنا کر آزادئ اظہار رائے کا کھوکھلا نعرہ لگایا جاتا ہے تو کبھی ان خاکوں کو رسالوں میں چھاپ کر دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کی جاتی ہے۔
یہ بات تو طے ہے کہ خاک میں مل جائیں گے خاکے بنانے والے مگر اپنے مذموم ارادوں میں کبھی پورا نہیں اتر سکیں گے۔ ان کے دلوں میں جلتی آگ ان کے ہی دلوں کو بھسم کر ڈالے گی مگر ان کے دلوں کو کبھی تسکین حاصل نہیں ہوگی۔
ڈنمارک ، ہالینڈ اور فرانس کی جانب سے بارہا مسلمانوں کی دل آزاری کی گئی، لاکھوں کروڑوں لوگوں کو سڑکوں پر نکل آنے کے لیے مجبور کر دیا گیا۔
سوال تو یہ ہے کہ
رسالت میرےایمان کا جزولاینفک رسالت ایمان ہے اس کے۔بغیر ایمان۔مکمل نہیں ،رسالت ام۔لحقوق کا درجہ رکھتی ہے
ان کے دلوں میں اس بغض و عناد کی وجہ کیا ہے؟
کیا یہ نسلی و مذہبی تعصب نہیں ہے؟
دوسروں کو لبرل ازم کا سبق پڑھانے والے خود اس کے الف ب سے بھی واقفیت نہیں رکھتے۔
دوسروں کے مذہبی جذبات کی دل آزاری کرنے والوں کو، خود کو انسانیت کے بلند ترین درجے پر فائز کرتے ہوئے شرم سے ڈوب مرنا چاہیے۔
فرانس کے اخبار ‘ چارلی ہیبدو ‘ نے کئی بار اس طرح کی گھناؤنی
اور مذموم حرکتیں کیں جس کا نتیجہ انہیں اخبار پر حملے کی صورت بھگتنا پڑا۔
کارٹونسٹ کو جہنم وصول بھی کیا گیا۔
پچھلے سال گیرٹ ویلڈر نامی دنیا کے کتے نے فیس بک پر اس طرح کے خاکوں کا مقابلہ مرتب کرنے کی کوشش کی مگر مسلمانوں نے اس مذموم حرکت کو اپنی حکمت عملی سے ناکام بنا دیا۔
فیس بک اور دوسری سوشل سائیٹس پر ‘ ہولو کاسٹ’ کی اس قدر تصاویر شئیر کی گئیں کہ اس سازش کے پیچھے کرتا دھرتاؤں نے فوری طور پر اس سے قدم پیچھے ہٹا لیے۔
اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے بروقت بیان اور ہولو کاسٹ کے ذکر نے کمال اثر دکھایا۔ وزارت خارجہ نے ہالینڈ کے سفارت کار سے بھرپور احتجاج کیا، یہ سب کوششیں رنگ لائیں اور وقتی طور پر اس کو روک دیا گیا۔
خود کو انسانیت کے اعلی ترین درجے پر فائز سمجھنے والا یورپ اگر بغور اپنا جائزہ لے تو اسے اپنا انسانی قد بے حد پست دکھائی دے گا۔
اسے اپنا اخلاقی انحطاط صاف نظر آجائے گا۔
اس کے روح و قلب میں بسا ہوا کرودھ اور نسلی عصبیت کھل کر سامنے آجائے گی۔ اس کا ثبوت ان کی وہ ذہنی پسماندگی ہے جس کا اظہار وہ بار بار کرتے رہتے ہیں۔ آج ایک پھر فرانس کے صدر میکرون نے اسی اخلاقی گراوٹ اور ذہنی پسماندگی کا اظہار کیا ہے۔ بظاہر یورپ ایک ترقی یافتہ خطہ ہے مگر اخلاقی انحطاط میں اس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ اس بات کو فرانس کے صدر نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے۔
فرانس کے ایک سکول میں ٹیچر نے اخبار ‘ چارلی ہیبڈو ‘ میں شائع ہونے والے کارٹون اپنی کلاس میں دکھائے، جس سے کلاس میں بیٹھے مسلمان طلبا و طالبات کے جذبات کو بری طرح دھچکا لگا، استاد نے سوچا کہ کیونکہ مسلمان اس کے طالب علم ہیں تو وہ با آسانی ان کو دبا لے گا ، طلباء نے نہ جانے کیسے اپنے جذبات پر بندھ باندھا ہوگا۔ ان کے استاد نے انہیں آزادئ اظہار رائے کا نام نہاد لیکچر دیتے ہوئے ان گستاخانہ خاکوں کی تشہیر کی، جس پر نہ صرف مسلم سٹوڈنٹس بلکہ غیر مسلم سٹوڈنٹس نے بھی احتجاج کیا اور اسے وارننگ دی کہ آپ مسلمان سٹوڈنٹس کی دل آزاری کا باعث بن رہے ہیں مگر ٹیچر نے کہا جس کو میرے اس عمل سے تکلیف پہنچ ۔رہی ہے وہ کلاس چھوڑ کر جا سکتا ہے۔
ایسے استاد کی اخلاقی گراوٹ کی کیا حد ہوگی جو آزادئ اظہار رائے کے چکر میں انسانیت کے درجے سے ہی گر گیا۔
کاش جتنا وقت اس نے اپنے دل میں اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بغض بھرنے میں صرف کیا اتنا وقت وہ اسلام کے مطالعہ میں گزار دیتا تو اس پر علم و شعور کے جانے کون کون سے دریچے کھول دیتا۔
طلباء نے اپنے گھروں میں بتایا جس پر کچھ بچوں کے والدین نے سکول انتظامیہ کو شکایات کیں مگر اس کا حل ندارد۔
ایک شخص نے کچھ طلباء کو تین ساڑھے تین سو یوروز دیکر اس ٹیچر کا نام اگلوا لیا،
عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے ہر خطے میں موجود ہیں، اس شخص نے اس گستاخ ٹیچر کو قتل کر ڈالا ، فرانس کی پولیس نے قتل کرنے والے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم میں نو گولیاں اتاریں اور اسے شہید کردیا۔
اب اصل کھیل شروع ہوا۔ یورپ ایک مذہب بیزار خطہ ہے ، عیسائیت سے دوری نے وہاں کے لوگوں کو اخلاقی طور پر بھی گراوٹ کا شکار کردیا ہے۔ اکثر لوگوں نے مذہب اسلام میں پناہ ڈھونڈنی شروع کردی ہے۔
مسلمان بچے بھی زیادہ پیدا کرتے ہیں۔
یورپ میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے کچھ لبرلز خائف بھی ہیں۔
ان ہی میں ایک شخص فرانس کا صدر میکرون بھی ہے، اس دماغی توازن سے فارغ شخص میکرون نے گستاخ رسول کے فیونرل میں نہ صرف شرکت کی بلکہ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پوری دنیا میں دہشت گردی کی ذمہ داری مذہب اسلام اور اس کو ماننے والوں کے سر تھوپ دی۔ اس دماغی عارضے میں مبتلا شخص نے یہ نہیں سوچا کہ عراق، افغانستان، شام میں انسانیت کو قتل کرنے والے مسلمان ہیں یا یہ لوگ خود اس کے ذمہ دار ہیں۔ صدر میکرون کے خطاب نے جیسے بارود کے ڈھیر میں آگ لگا دی۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ وہ دنیا کو ایک بڑی آبادی کی نسل کشی کے لیے ابھار رہا ہے۔ اس کے اس اقدام سے مسلمانوں کی بڑی تعداد کا یورپ میں رہنا محال ہوجائے گا۔ وہ منفی قوتوں کو مسلمانوں کے خلاف ابھارنے پر مجبور کر رہا تھا تاکہ وہ منفی قوتیں مسلمانوں پر زندگی کا دائرہ تنگ کردیں۔
ترکی کے صدر طیب اردگان نے اسے ذہنی مریض قرار دیا۔
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے مدلل انداز میں صدر میکرون کی گوشمالی کی،
اس کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔
افغانستان سے طالبان نے بھی اس کے خلاف آواز بلند کی۔
ایران کے قومی اخبار نے صدر میکرون کا کارٹون شائع کیا۔
عرب ممالک سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں نے فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کردیا،
مسلمانوں نے بڑے بڑے سٹوروں سے ان کی پروڈکٹ کو اٹھا کر باہر پھینک دیا۔
ایک ہی دن میں فرانسیسی صدر کے کس بل نکل گئے۔
اس نے عرب مسلمانوں سے کہا کہ ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ نہ کیا جائے۔
تکبر اور غرور کا مارا اس شخص نے نہ تو کوئی اپیل کی اور نہ ہی اس نے مسلمانوں سے مانگنے کی اخلاقی جرات کی ۔
اگلے روزٹویٹ کر کے پھر سے مسلمانوں کے جذبات ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی مگر معافی پھر بھی نہیں مانگی۔
یہ درست ہے کہ مسلمان کمزور قوم بن چکی، ہم نے خود کو دنیا کے عیش و عشرت کے حوالے کر دیا، ہم مذہبی طور پر کمزور ہوگئے، مگر ایک چیز جسے یورپ اور دنیا کی کوئی طاقت نہیں چھین سکی وہ ہے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور نہ ہی کوئی ہمارے دلوں سے آقائے نامدار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو الگ کر سکتا ہے۔
ہم مسلمان زندگی کی ہر سانس کے ساتھ اپنے ایمان کی حفاظت مانگتے ہیں۔مرنے کے بعد بھی ایمان پر اٹھائے جانے کی دعائیں کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہمارا جزو ایمان ہے ہم جان دے سکتے ہیں ایمان نہیں ، اتنی چھوٹی سی بات ان بڑی عقل والوں کے دماغ میں نہیں
آسکتی تو ہمیں ان کی عقلوں پر حیرت ہے۔ ۔۔۔
رہ گئی مسلمانوں کی طاقت تو ہم شاید عسکری و معاشی طور پر کمزور ہوں گے مگر ہم نہ تو عددی طور پر کمزور ہیں اور نہ ہی ایمانی طور پر۔ ہم آج اگر ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرتے ہیں تو ان کی معیشت منہ کے بل گر جائے گی جس کا نظارہ دنیا کر رہی ہے۔
ایک ہی دن میں فرانسیسی صدر میکرون گھٹنوں کے بل گر جاتا ہے۔
دراصل جس طرح اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان ہمارا سب کچھ ہے اسی طرح ان مذہب سے بیزار لبرلز کے لیے پیسہ ہی سب کچھ ہے۔ ان کی معیشت وہ طوطا ہے جس میں ان کی جان بستی ہے ۔ ادھر ہم بھی دنیا کا تیس سے چالیس فیصد ہیں ، اگر ہم ان کا بائیکاٹ کردیں تو ان کی شاندار صنعت کاری منہ کے بل گرجائے ۔۔۔۔۔یہی ہماری طاقت ہے ، کیونکہ شاید ہم انہیں جنگ میں نہ ہرا سکیں مگر ان کی دکھتی رگ ان کی معیشت کو ضرور برباد کرسکتے ہیں۔ انشاء اللہ ۔
دنیا بھر نے صدر میکرون کی مذمت کی مگر جس جگہ سے آواز بلند ہونی چاہیے تھی خانہ کعبہ کا وہ منبر و محراب خاموش ہے۔ جس جگہ سے ایک للکار نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو متحد و متفق کرنا تھا۔ وہاں گہری خاموشی چھائی ہوئی ہے، شاید سعودی عرب کے حکمران اسرائیل کی گود میں لیٹے معیشت کا فیڈر پی رہے ہیں۔ ان کے منبر تو اپنے حکمرانوں کے فرمان کے تابع ہیں مگر ہم عجمی و سنی مسلمان اپنے رب اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والوں کی جان لے بھی سکتے ہیں اور جان دے بھی سکتے ہیں ۔ کیونکہ ہمارا ایمان ابھی سلامت ہے۔ الحمد اللہ
رسالت میرےایمان کا جزولاینفک