418

رویے تبدیل کیے جا سکتے

تحریر شئیر کریں

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا رویے تبدیل کیے جا سکتے ہیں؟

اس سوال کے جواب میں پہلی بات تو یہ ہے کہ کوئی رویہ برلنے سے پہلے اس رویے کو سمجھنا ، اس کا تجزیہ کرنا اور اس کے اسباب تلاش کرنے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔

جو رویہ ہمارے لئے پریشان کن ہے ، آخر وہ رویہ بنا تو بنا کیسے؟ آخر کیا وجہ ہوگی ؟؟؟

کوئی بچپن کا گہرا اثر؟

یا کوئی محرومی ؟

یا کوئی بیماری؟

یا کوئی معذوری؟

یا کوئی غلط نظریہ؟

یا کوئی ٹیڑھا مائنڈ سیٹ؟

یا غلط معلومات؟

یا غلط فہمی؟

یا کوئی پیچیدہ نفسیاتی بیماری؟

یا کسی شخصیت کی گہری چھاپ؟

۔
۔
۔ وغیرہ

اگر ہم اس وجہ کو جان لیں تو ہم اس رویے کو بہت امید ہے کہ مارجن دیتے ہوئے قبول کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے ، یا کم از کم اس پر پریشان ہونا چھوڑ دیں گے۔
یا اگر تبدیل کرنے کو ٹھان ہی لیں تو پھر اس سبب کو دور کرنے کی کوشش کریں گے جو رویے کی بنیاد بنا، تاکہ پائیدار تبدیلی لا سکیں۔ کاونسلنگ وغیرہ اسی لئے کروائی جاتی ہے کہ اندر سے اس جڑ کو اکھیڑا جائے یا درست کیا جائے جو کہ کسی پریشان کن رویے کا باعث بنی ہے۔

اگر ہم بغیر سمجھے ، بغیر تجزیہ کیے، بغیر مارجن دیے محض جھنجھلا ہٹ، انتقام، جلد بازی، سطحیت، بے صبری اور رد عمل میں آ کر لوگوں کے رویے درست کرنے لگیں تو کبھی درست نہ کر پائیں گے۔ ہر چیز کے درست کرنے کا ایک اپنا طریقہ کار ہے، اگر اس کو نہ اپنایا جائے تو معاملہ مزید خراب ہو جاتا ہے ۔

جیسے آپ کے اور میرے ہاتھ میں یہ سمارٹ موبائل ہیں ۔ ان پر کبھی ہم اپنی مرضی سے لاک لگا دیتے ہیں ، اگر یہ پاس ورڈ بھول جائیں ، یا پھر کوئی اور اس کو پے درپے غلط طریقے سے کھولنے کی کوشش کرے تو فون اندر سے لاک ہو جاتا ہے ، بعض اوقات اس بے رحمی سے کھولنے کی کوشش میں وہ اتنا جام ہو جاتا ہے کہ کہ وہ ہم سے پھر کبھی درست نہیں ہوتا، بلکہ اس کو کسی ماہر کے حوالے کرنا پڑتا ہے۔

اسی طرح ہم جب درست وجہ کو سمجھے اور نشانہ لگائے بغیر الٹے سیدھے طریقوں سے کسی کی شخصیت کو زبردستی کھولنے اور درست کرنے کی کوشش کریں گے تو وہ مزید جام ہو سکتی ہیں ، اتنی جام کہ پھر ہم کبھی اس کو تبدیل نہ کر پائیں، بلکہ ہر کوشش ہمیں اپنے مقصد سے مزید دور کر دے گ

اور جہاں تک سوال اپنے رویے کو تبدیل کرنے کا ہے ، تو یہ بات دوسرے کو بدلنے کی نسبت بہت آسان ہے ۔

ہم خاموشی سے اپنے اندر کا سفر طے کر سکتے ہیں،

ہم خود کو جانتے ہیں ، ہم خود کو سمجھ سکتے ہیں،

رویے کیسے تشکیل پاتے ہیں؟

ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ مسئلہ کہاں پیدا ہوا اور میں کیوں ایسے ہوئی؟ میرا یہ رویہ ایسا کیوں ہے ؟

ہم اپنے من میں فلٹر لگا کر اپنی شخصیت میں ماحول کے برے اثرات کو آنے سے روک سکتے ہیں ،

ہم برے ماحول سے بھی اچھائی کو اخذ کر سکتے ہیں جیسا کہ ہمارے پیارے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے کیا،

ہم علم حاصل کرکے ، مضبوط نظریہ اپنا کر اور اللہ تعالی سے دعائیں کر کے اپنے گہرے اور عادی رویوں کو بھی تبدیل کرسکتے ہیں۔

تو جو ہم کر سکتے ہیں ، اس پر بسم اللہ کیجئے!

دوسروں سے پہلے اپنے وہ روئیے جو toxic اور پریشان کن ہیں، ان کی نشاندہی کیجئے، ان کے اسباب کی نشاندہی کیجئے، اور پھر ان کو بدلنے کی کوشش کیجئے۔

یہ ہمارے بس میں ہے ، یقین کیجیے!!!

رویے تبدیل کیےجا سکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں