سبزیاں اور پھل خشک کریں اور پیسہ کمائیں۔کیسے جانیئے قلم کتاب پر
دنیا جوں جوں جدت اختیار کرتی چلی جا رہی ہے توں توں نت نئے طریقوں سے لوگ آشنا ہو رہے ہیں۔قدیم زمانے سے ہی سبزیوں کو خشک کر نے کا رواج چلا آرہا ہے۔مگر کچھ دہائیوں سے الیکٹرانکس کی بہتات سے لوگ اب یہ چھوڑ چکے ہیں۔بہت کم لوگ ہیں جو ابھی بھی سبزیاں خشک کرتے ہوں۔
سبزیاں خشک کرنا تو دیکھ اور سن رکھا تھا،بھلا ہو ابن فاضل معروف سوشل میڈیا پرسن کا جنہوں نے پھلوں کو خشک کرنے کا مشورہ دے کر لوگوں کو اس طرف مائل کیا ہے پھلوں کو خشک کرنے کا طریقے جو جدید اصطلاح میں فروٹ لیڈر کہلاتاہے۔فروٹ لیدر بنانے کا کام ایران میں کثرت سے کیا جاتاہے،ایرانی پھلوں کو خشک کر کے جرمنی اور فرانس جا کر بیچتے اور کثیر زرمبادلہ کماتے ہیں۔ایرانی عورتیں گھروں میں یہ کام شوق سے کرتیں ہیں۔
فروٹ لیدر بنانے کا طریقہ
فروٹ لیدر بنانے کا طریقہ بہت آسان ہے آپ نے جو بھی سیزن کا پھل ہے اور سستا بھی ہے اس کو لے لیں جیسا کہ آج کل مینگو کا موسم ہے ۔مینگو چھیل کر اس کو گرائنڈ کر کے ٹرے میں پھیلا لینا ہے۔پھر اس آمیزے کو کسی ململ کے کپڑے سے ڈھانپ کر دھوپ میں دو دن تک رکھیں،فروٹ لیدر تیار ہے۔تب تک سکھانا ہے جب چپ چپ نا رہے یعنی ہاتھوں سے نا چپکے نا۔پانچ کلو آم سے ایک کلو فروٹ لیدر تیار ہوگا۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ پانچ سے ایک کلو یہ تو بہت کم ہے تو پریشان مت ہوں جب پانچ کلو خشک ہو کر ایک کلو بنے گا تو اس میں افادیت زیادہ ہوگی اور کم استعمال سے زیادہ فوائد حاصل ہوں گے۔
آج کل ٹماٹر اور سبز مرچیں عام ہیں اور سستی بھی،جونہی بقرہ عید قریب آئے گی یہ آسمان سے باتیں کرے گی،تو سگھڑاپا یہی ہے کہ بارش آنے سے پہلے چھت ٹپکنے سے روکی جائے۔پانچ کلو ٹماٹر لیں اس کا پیسٹ بنا کر سکھا لیں۔کچھ لوگ پیوری بناتے ہیں وہ بھی ٹھیک ہے۔اسی طرح سبز مرچیں سائے میں سکھا کر گرائنڈ کر لیں بہترین پاوڈر تیار ہے جس کے فوائد بہت ہیں،یہ ذیابطس اور معدے کے لیئے مفید بلڈ پریشر نارمل رکھتی ہے،خوش ذائقہ ہے۔
بلوچستان میں سبزیوں کو سکھا کر برآمد کیا جا رہا ہے اب یہ ایک مکمل انڈسٹری کی شکل اختیار کر چکا ہے۔لہسن ادرک پیاز اور سبز مرچ کو خشک کر کے پاؤڈر بنا کر بیچا جا رہا۔اسی طرح مختلف سبزیاں بھی۔۔۔اور ایران کی طرح فروٹ لیدر بنا کر مختلف فروٹس کے کابینیشن کے ساتھ آپ بہت لذیز فروٹ لیدر تیار کر کے کاروبار چلا سکتے ہیں۔لاہور کی ایک خاتون سبز مرچوں کے پاوڈر کا کام کر کے روزگار کام رہی ہے۔انڈیا میں آم کے پاپڑ ملتے ہیں جو کہ خشک آم ہیں۔
اس وقت فلپائن دنیا بھر سے سب سے زیادہ خشک آم درآمد کرتا ہے ان کے آم کافی بدذائقہ ہوتے جبھی وہ دیگر ممالک سے منگواتے ہیں۔جس کی قیمت دس ڈالر تک ہے جبکہ ہمیں سو دو سو روپے کلو کے حساب سے مل جاتے۔
پھل اور سبزیاں خشک کر کے آپ پیسہ کما سکتے ہیں۔اور تو اور کراچی میں جو لوگوں ساحلوں کے قریب رہتے ان کو بتایا جائے کہ جو مچھلی آپ لوگ خشک کرتے ہیں ان کو سکھا کر بیچ بھی سکتے ہیں۔پاکستان میں بہت سے پھل درختوں سے گر کر ضائع ہو جاتے،جامن خوبانی شہتوت ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کو خشک کر کے اپنے بچوں کو کھلائیں اور بیچ کر پیسہ بھی کمائیں۔