سردیوں میں کبھی کمبل اوڑھتے ہوئے، کبھی ریشمی کپڑے اتارتے ہوئے اور کبھی اونی چارپائی سے اٹھتے وقت اچانک بجلی کا ہلکا سا جھٹکا محسوس ہوتا ہے۔ بعض اوقات کپڑوں سے چٹخنے کی آواز آتی ہے یا اندھیرے میں ہلکی سی چنگاری بھی دکھائی دیتی ہے۔ بچوں کے لیے یہ منظر حیرت انگیز ہوتا ہے، جبکہ بڑوں کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟
اس کی بنیادی وجہ ساکن بجلی (Static Electricity) ہے۔ یہ ایک عام سائنسی مظہر ہے جو سرد اور خشک موسم میں زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔ آئیے آسان الفاظ میں سمجھتے ہیں کہ یہ کیفیت کیوں پیدا ہوتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔
ساکن بجلی کیا ہے؟
ساکن بجلی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دو مختلف مادے آپس میں رگڑ کھاتے ہیں یا ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں اور ان کے درمیان برقی بار کی منتقلی ہوتی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں کسی چیز پر برقی بار جمع ہو سکتا ہے۔
مثال کے طور پر، جب ہم اونی کمبل اوڑھتے ہیں، اسے جسم سے ہٹاتے ہیں یا ریشمی اور مصنوعی ریشوں والے کپڑے پہنتے اور اتارتے ہیں تو رگڑ کی وجہ سے برقی بار جمع ہو سکتا ہے۔
جب یہ جمع شدہ بار کسی دوسری چیز، خصوصاً دھات، کے ساتھ رابطے کے وقت اچانک منتقل ہوتا ہے تو ہمیں ہلکا سا جھٹکا محسوس ہو سکتا ہے۔ اسی کیفیت کو ساکن بجلی کا جھٹکا کہتے ہیں۔
سردیوں میں زیادہ کیوں؟
سردیوں میں ہوا کی نمی اکثر کم ہو جاتی ہے، خصوصاً ایسے کمروں میں جہاں ہیٹر چلتا ہو یا ہوا بہت خشک ہو۔ خشک ماحول میں برقی بار آسانی سے ختم نہیں ہوتا، اس لیے وہ کپڑوں، کمبلوں یا جسم پر جمع ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ سردیوں میں ہم گرم رہنے کے لیے کئی تہوں میں کپڑے پہنتے ہیں۔ کپڑوں کا ایک دوسرے سے رگڑ کھانا بھی برقی بار پیدا ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔
یعنی سردی بذاتِ خود بجلی پیدا نہیں کرتی، بلکہ خشک ہوا اور مختلف سطحوں کے درمیان رگڑ ساکن بجلی کے جمع ہونے کے امکانات بڑھا دیتی ہیں۔
کمبل سے جھٹکا کیوں؟
اونی کمبل استعمال کرتے وقت وہ ہمارے جسم، لباس اور بستر کے ساتھ بار بار رگڑ کھاتا ہے۔ اس دوران برقی بار جمع ہو سکتا ہے۔
جب ہم کمبل کو تیزی سے ہٹاتے ہیں یا اس میں سے ہاتھ باہر نکالتے ہیں تو بعض حالات میں بار اچانک خارج ہوتا ہے۔ اس وقت انگلیوں پر چبھن، ہلکی سی چنگاری یا جھٹکا محسوس ہو سکتا ہے۔
ہر کمبل سے یکساں جھٹکا نہیں لگتا۔ اس کا انحصار کمبل کے ریشوں، دوسرے کپڑوں، رگڑ اور کمرے کی نمی پر ہوتا ہے۔
ریشمی کپڑوں سے کرنٹ کیوں؟
ریشم، اون اور مصنوعی ریشوں سے تیار کیے گئے کپڑوں میں مخصوص حالات کے تحت ساکن بجلی جمع ہو سکتی ہے۔ خصوصاً جب کپڑے خشک ہوں اور انہیں جسم سے بار بار رگڑا جائے یا اتارا جائے تو یہ کیفیت زیادہ محسوس ہو سکتی ہے۔
کبھی کپڑا جسم کے ساتھ چپکنے لگتا ہے، بال کھڑے ہو جاتے ہیں یا کپڑے اتارتے وقت چٹخنے کی آواز آتی ہے۔ یہ بھی ساکن بجلی کی عام علامات ہیں۔
البتہ ہر ریشمی کپڑے میں یہ مسئلہ یکساں نہیں ہوتا۔ کپڑے کی ساخت اور اس کے ساتھ استعمال ہونے والے دوسرے ریشوں کا بھی اثر ہوتا ہے۔
اونی چارپائی سے جھٹکا
اونی یا اون والے کپڑے سے بنی چارپائی، گدے یا بستر پر بیٹھنے، اٹھنے اور کروٹ بدلنے سے مختلف سطحوں کے درمیان رگڑ پیدا ہوتی ہے۔ اگر ماحول خشک ہو تو جسم اور لباس پر برقی بار جمع ہو سکتا ہے۔
جب اس کے بعد ہم کسی دھاتی چیز کو چھوتے ہیں تو بار اچانک منتقل ہو سکتا ہے اور ہمیں بجلی کا ہلکا سا جھٹکا محسوس ہوتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ چارپائی میں لازماً بجلی کی تار موجود ہے۔ تاہم اگر جھٹکا بار بار کسی خاص دھاتی فریم، بجلی کے آلے یا تار کے قریب محسوس ہو تو اسے معمول کی ساکن بجلی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
بچوں کو کیسے سمجھائیں؟
بچوں کو ساکن بجلی سمجھانے کے لیے ایک آسان اور محفوظ تجربہ کیا جا سکتا ہے۔
ایک غبارہ لیں اور اسے خشک بالوں یا اونی کپڑے پر آہستہ سے رگڑیں۔ پھر اسے کاغذ کے چند چھوٹے، ہلکے ٹکڑوں کے قریب لے جائیں۔ اکثر حالات میں کاغذ کے ٹکڑے غبارے کی طرف کھنچنے لگیں گے۔
بچے اس تجربے سے سمجھ سکتے ہیں کہ بعض اوقات رگڑ کے بعد چیزوں میں ایسا برقی اثر پیدا ہوتا ہے جس سے وہ ہلکی اشیا کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہیں۔
یہ تجربہ بالغ کی نگرانی میں کریں اور غبارے کو برقی ساکٹ، تاروں یا حساس الیکٹرانک آلات کے قریب نہ لے جائیں۔
جھٹکوں سے کیسے بچیں؟
سردیوں میں ساکن بجلی کم کرنے کے لیے چند آسان تدابیر مفید ہو سکتی ہیں۔
1۔ کمرے کی نمی مناسب رکھیں۔ اگر کمرے کی ہوا بہت خشک ہو تو مناسب ہیومیڈیفائر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ نمی کی سطح جانچنے کے لیے ہائگرو میٹر مددگار ہوتا ہے۔
2۔ سوتی کپڑوں کو ترجیح دیں۔ جہاں ممکن ہو، سوتی کپڑے استعمال کریں۔ اس سے بعض حالات میں ساکن بجلی جمع ہونے کا امکان کم ہو سکتا ہے، اگرچہ یہ مکمل ضمانت نہیں۔
3۔ کمبل آہستہ ہٹائیں۔ کمبل کو تیزی سے کھینچنے اور کپڑوں کو جھٹکے سے اتارنے کے بجائے آہستہ حرکت کریں۔
4۔ جلد کی خشکی کا خیال رکھیں۔ جلد خشک ہو تو مناسب موئسچرائزر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے جلد کی خشکی کم ہوگی، اگرچہ یہ ہر قسم کے ساکن برقی جھٹکے کو ختم نہیں کرتا۔
5۔ کپڑوں کی صفائی کے طریقے دیکھیں۔ کپڑے دھونے اور خشک کرنے کے دوران ریشوں کی قسم کے مطابق مناسب طریقہ اختیار کریں۔ مصنوعی ریشوں والے کپڑوں میں بعض اوقات ساکن بجلی زیادہ جمع ہو سکتی ہے۔
کیا یہ خطرناک ہے؟
کمبل یا کپڑوں سے محسوس ہونے والا مختصر اور ہلکا جھٹکا عموماً ساکن بجلی کی وجہ سے ہوتا ہے اور عام طور پر نقصان دہ نہیں ہوتا۔
لیکن ہر برقی جھٹکے کو ساکن بجلی قرار دینا درست نہیں۔ اگر جھٹکا کسی سوئچ، ساکٹ، ہیٹر، دھاتی بستر یا بجلی سے چلنے والے آلے کو چھونے پر لگے، بار بار محسوس ہو یا اس کے ساتھ جلنے کی بو، چنگاریوں یا تاروں کی خرابی کے آثار ہوں تو اس آلے کا استعمال روک دیں اور مستند الیکٹریشن سے معائنہ کروائیں۔
بچوں کو بجلی کے ساکٹ، کھلی تاروں اور خراب برقی آلات سے دور رکھیں۔ بجلی کی خرابی کی جانچ خود کرنے کی کوشش نہ کریں۔
خلاصہ
سردیوں میں کمبل، ریشمی کپڑوں اور اونی چارپائی سے کرنٹ محسوس ہونے کی عام وجہ ساکن بجلی ہے۔ خشک ہوا، کپڑوں کی رگڑ اور مختلف ریشوں کی خصوصیات اس کے پیدا ہونے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
کمرے کی نمی مناسب رکھنے، کپڑوں کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنے اور کمبل کو آہستہ ہٹانے سے یہ کیفیت کم ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر جھٹکے کسی برقی آلے یا دھاتی فریم سے مسلسل لگ رہے ہوں تو احتیاط ضروری ہے۔
بچوں کو روزمرہ زندگی کے ایسے سائنسی مظاہر سمجھانا ان میں سوال کرنے، مشاہدہ کرنے اور علم حاصل کرنے کا شوق پیدا کرتا ہے۔
مستند حوالہ جات
1. Library of Congress — How does static electricity work?
2. McGill University, Office for Science and Society — How can I stop getting static shocks?
3. Dawn — Insight: Why we get ‘shocks’ in winter
یہ ذرائع ساکن بجلی، خشک ہوا اور سردیوں میں برقی جھٹکوں کی وجوہات کی وضاحت کرتے ہیں۔