425

سعودی عرب کی نصابی کتب میں یہودیوں کے خلاف مواد نکالا جارہا ہے.

تحریر شئیر کریں

جب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کروانے کی مہم تیز ہوئی ہے۔عالمی سطح پر یہودیوں کو پاکدامن ثابت کرنے کی مہم بھی زوروں پہ ہے۔جیساکہ سعودی عرب اور یو اے ای کی بات ہے وہ اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں۔اور تسلیم کرنے کے بعد سعودیہ اپنی نصابی کتب میں سے یہودیوں کے خلاف مواد نکال رہا۔جو دراصل ایک کھٹن حقیقت ہے۔
جہاد اسلام کے حوالے سے تعلیمات کو بھی حذف کیا جا رہا ہے۔حالانکہ جہاد اسلام کے اہم رکان میں سے ہے۔اور اسلامی تعلیمات کا مستقل جزو ہے۔سعودی عرب جیسے ملک کا یہ اقدام کسی بھی طور درست نہیں۔اسرائیل سے محبت کی پینگیں اسے بہت دور لے کر جا رہیں ہیں ۔نبی اکرم ﷺ چودہ سوسال پہلے ان کی اس تباہی و بربادی کا بتا چکے ہیں ۔جس کی ابتداء ہو چکی ہے۔

جہاں تک نصاب کی تبدیلی کی بات ہے۔اسرائیل کے منصوبے اور وہ کس طرح سے اپنی ریاست کو پوری دنیا میں پھیلانا چاہتا ہے۔یہ سب حقائق اسرائیل کی مکاریوں اور فریب کی داستان ہے جس سے ہٹ کر ان کو ترقی اور مفاہمت جیسے الفاظ میں بدلا جا رہا ہے۔
سعودی عرب یہ کیسے بھول گیا کہ ا ن کے آباء کی اسرائیل کے حوالے سے کیا راۓ تھی۔شاہ فیصل کے تاریخی کلمات جو انھوں نے کہیے۔۔۔

“اگر تمام عرب ممالک بھی مل کر فلسطین کی تقسیم اور اسرائیل کو تسلیم کرنے پہ راضی ہو جائیں تو ہم اس اتحاد میں شامل نہیں ہوں گے”

یہ بھی پڑھیے

کیا عرب لیگ کے 22 ممالک اسرائیل کو تسلیم کر لیں گے؟

کچھ لوگ ہیروں جواہروں سے بھی زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔شاہ فیصل کی سوچ انکے جذبات صحیح اسلامی تعلیمات کا مظہر تھے۔ان کی یہی سوچ دشمنوں کو ایک آنکھ نا بھاتی تھی۔نتیجتا وہ شہید کر دیے گۓ۔انکے جانے سے اسلام دشمنہ طاقتوں کے راستے کا کانٹا نکل گیا اور ان کے لیے سودیہ کے ی دروازے ہمیشہ کے لیےکھل گۓ۔شاہ فیصل کے جانے کے بعد سعودی عرب کی قسمت میں پھر کبھی کوئی غیور لیڈر نا آیا اور ان کے زوال کا دور شروع ہو گیا جو تا حال جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں