388

سمندری پانی اب آدھے گھنٹے میں صاف

تحریر شئیر کریں

۔۔۔۔۔۔
سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے کی تگ ودو برسوں سے جاری تھی جو اب حقیقت بن کر دنیا کے سامنے آ چکی ہے۔سائنسدانوں نے ایسا فلٹر تیار کیا ہے جو محض آدھے گھنٹے کے اندر اندر سمندری پانی کو فلٹر کر کے پینے کے قابل بنا سکتا ہے۔اور یہ چلتا بھی شمسی توانائی سے ہے۔یقنا یہ بہت بڑی پیش رفت ہے جو پانی کی کمی کو پورے کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
۔۔۔۔۔

کام کرنے کا طریقہ
۔۔۔۔
اس فلٹر کے کام کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ یہ روزانہ سینکڑوں لیٹر پانی پینے کے قابل بنا کر لوگوں کی ضرورت پوری کر سکتا ہے۔یہ استعمال میں آسان اور سستا بھی ہے۔صاف کرنے کے عمل کے دوران فلٹر پہلے نمک کو کم کرتا ہے پھر اسے دھوپ میں رکھتا ہے تاکہ دوبارہ قابل تخلیق بنایا جا سکے۔اس کام میں چار منٹ سے بھی کم وقت استعمال ہوتا ہے اور اس دوران فلٹر نمک جزب کرنے کے لیے پھر سے ریڈی ہو جاتا ہے۔اور اس پانی کا معیار عالمی ادارہ صحت کے معیار کے عین مطابق ہے۔عالمی ادارہ صحت اس پانی کو عمدہ تصور کرتی ہے جس میں ایک لیٹر پانی میں کل تحلیل شدہ مادے 600 ملی گرام کے لگ بھگ ٹی ڈی ایس موجود ہو۔جبکہ اس طریقے میں ٹی ڈی ایس 500 کے لگ بھگ رہ جاتا ہے جو کہ بہترین ہے۔
۔۔۔۔۔۔
پروفیسر وانگ جوموناش یونیورسٹی کے شعبہ کمیکل سے تعلق رکھتے ہیں۔کہتے ہیں کہ اس طریقے میں کھارے پانی کو ٹیوب سے گزارا جاتا ہے۔گزرنے کے عمل کے دوران بغیر روشنی کے نمکیات کو جزب کر لیا جاتا ہے۔جس سے پانی صاف ہو جاتا ہے۔یہ انتہائی آسان اور کمیکل کو استعمال کیے بغیر پانی کو صاف کرتا ہے لہذا یہ آنے والے وقتوں میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے قابل بھروسہ طریقہ عمل ہے۔
۔۔۔۔۔۔
پروفیسر وانگ کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو ابھی عوامی سطح تک لانے کے لیے اور عام انسان کے لیے سستا بنانے میں ابھی وقت درکا ر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں