۔۔۔۔شکرگزاری پیدا کرنے کے طریقے سیکھیے وہ بھی قلم کتاب پر
شکرگزاری اللہ کی نعمتوں کی بڑھوتری کاسبب ہے۔شکرگزاری اللہ کے بندوں کے اوصاف میں سے ہے۔شکرگزاری بہترین وصف ہے۔شکرگزاری خوشی کو جنم دیتی ہے۔تو کیوں نا اس بہترین خوبی کو اپنے اندر پیدا کریں تاکہ خوشوں اور نعمتوں سے مالا مال ہو سکیں۔
ہفتہ شکرگزاری منائیں:
۔۔۔۔۔۔۔
ہفتہ شکر گزاری منانے کا مقصد ہے کہ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا سیکھیں۔اللہ کے ہر کام میں مصلحت اور حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔تو ہمارے ساتھ جتنا بھی برا ہو رہا ہوتا ہے اس میں بھی خیر کا پہلو موجود ہوتا ہے جو ہمیں تو نہیں مگر ستر ماؤں سے زیادہ شفیق اللہ اس بات کو جانتے ہیں۔پھر کاہے کی شکایت اور کاہے کا شکوہ
قرآن کی آیت کاترجمہ
ممکن ہے تجھے ایک بات ناپسند ہو مگر وہ تمہارے حق میں بہتر ہو۔
۔۔۔۔۔
شکر کے تین درجات ہیں۔
زبان سے
دل سے
عمل سے
اس ویک کو منانے کا مقصد یہ بھی ہے کہ آپ ان تینوں درجات میں سے کس درجے پہ ہیں اور آپ کو ابھی کتنا اور سیکھنا ہے۔یہ سب سیکھایا جاۓگا۔کیونکہ ہم زبان سے تو شکر ادا کر رہے ہوتے ہیں مگر ہمارا حال اس کی نفی کر رہا ہوتا ہے۔کلمہ شکر اور شکر میں فرق ہے۔جب زبان اور دل کی کیفیت ایک ہو اور عمل سے پته چلے که یه الله کا شاکر بنده هے تب حقیقی معنوں میں آب الله کے شکرگزار هوں گے۔اس کی مثال یہ بھی ہے کہ جب کوئی روزہ دار روزہ افطار کرتے ہوۓ پہلے پانی کے گھونٹ پہ جو کیفیت محسوس کرتا ہے۔واہ مزہ آ گیا۔یہ حقیقی شکر ہے۔
۔۔۔۔
طریقہ کار:
اٹھتے بیٹھتے شکر ادا کریں۔الحمد للہ الحمد للہ الحمدللہ
۔۔۔۔
اپنا شکر بڈی shukar Buddy
تلاش کریں اور ہر دن میں اللہ نے جو انعام آپ پہ کیے ہیں ان کا تذکرہ کریں۔یہ شکر بڈی آپ کی فرینڈ بہن بھائی کوئی بھی ہو سکتا ہے۔روزانہ دس منٹ شکر پہ بات چیت کریں۔
۔۔۔۔
شکر نعمتوں کو بڑھاتا ہے۔اس سے بچوں کے اندر منفی جذبات کم کیے جا سکتے ہیں۔
شکر ایکٹیویٹی:
۔۔۔۔
بچوں سے پیپر پہ لکھوائیں کہ ان کو کیا کیا شکایتیں ہیں۔جب وہ لکھ لیں تو ان سے کہا جاۓ کہ اس میں شکر کا پہلو تلاش کریں۔یہ چیز ان میں شکر اور بہت سی مثبت انرجی پیدا کرے گی۔جو ان کو دین و دنیا میں کامیابی کا راستوں پہ گامزن کرے گی۔
المیہ یہ ہے کہ ہم مسلمان جن کا دین شکر کی تلقین کرتا ہے اس اسم اعظم کو بھولے بیٹھے ہیں جو نعمتوں کی بڑھوتری کا سبب ہے۔جب کہ ویسٹ میں بچوں کو سکول میں روزانہ کلاس میں پانچ باتوں پہ شکر ادا کرنے کو کہا جاتا ہے۔تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس ایکٹیویٹی سے بچوں کے اندر حسد اور نفرت جیسے جذبات کم پاۓ گۓ۔
۔۔۔۔۔۔
دعا سے شکر طلب کریں:
اللہ اپنے بندوں قرآن میں شکوہ کرتا ہے قلیل من عبادی الشکور
ترجمہ:بندوں میں سے تھوڑے ہیں جو شکر کرتے ہیں۔”اس کاترجمہ یوں بھی ہو سکتا ۔کہ شکر تھوڑا ہے جو تم کرتے ہو۔
نبی کریم ﷺ کی بڑی خوبصورت حدیث ہے آپ ﷺ نے معاذ بن جبل سے کہا میں تم سے محبت رکھتا ہوں پھر آپ ﷺ نے فرمایا ہر نماز کے بعد پڑھا کرو
“ رب اعنی علی ذکرک وشکرک“اے میرے رب مجھے توفیق دے کہ میں تیرا ذکر اور شکر کروں۔
یہ بھی پڑھیے
سورہ رحمن ناشکری کا علاج
۔۔۔۔
سورہ رحمن شکر کا بہترین سنگم ہے۔اس کو سمجھ کر پڑھیں اپنے بچوں کو پڑھائیں کہ اللہ نے ایک ہی سورت میں متعدد بار فبای آلاء ربکما تکذبان کی گردان سے کیا سمجھانا چاہ رہے ہیں۔سورہ رحمن کا سننا بھی شکر کی بہترین کیفیت پیدا کرتا ہے۔اور متعدد جسمانی اور روحانی بیماریوں کا علاج بھی ہے ان میں سے ایک ناشکری ہے جو ہماری نسل۔میں رچ بس گئ ہے۔پروفیسر رف رف پاکستان کے بہترین موٹیویشنل سپیکر اور عالم دین ہیں۔قرآن کی ایسی نوکھی انوکھی تدبیریں سیکھنے کے لیے لے کے آتے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔ اللہ ان کے عمل اور ایمان میں اضافہ کرے یوٹیوب پہ ان کا ایک لیکچر ہے سورہ رحمن پہ وہ سن لیں تو سننے کے بعد آپ وہ نہیں رہیں گے جو سننے سے پہلے تھے۔
شکرگزاری پیدا کرنے کے طریقے ڈھونڈیں سیکھیں اور عملی طور پر اطلاق کریں۔