فتنوں کے دور میں بچاو کیسے ممکن؟؟۔
موجودہ دور یقینا فتنوں کے عروج کا دور ہے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کے بارے میں جو خبریں دی تھیں وہ ساری ظاہر ہونا شروع ہو گئیں ہیں زیر نظر آرٹیکل میں فتنوں کے دور کی علامتوں اور بچاو پہ بات کی جائے گی۔
فتنوں کے دور کی نمایاں علامات
فتنے بارش کے قطروں کی طرح ہمارے اوپر نازل ہو رہے ہیں ہر صاحب ایمان چاہتا ہے کہ وہ ان فتنوں سے بچ سکے ایسا ممکن بھی ہے مگر کیسے اس سے پہلے فتنوں کی۔نشانیاں بتائی جائیں گیں۔۔۔
ان فتنوں کے بارے میں آگاہی دینے کا کیا مقصد ہو سکتا ہے سادہ سی بات ہے جب کسی آبادی میں سیلاب آیا ہو کوئی سڑک زیر تعمیر ہوتی ہے تو اس کے آگے بڑا سالکھ کر لگا دیا جاتا ہے کہ آگے خطرہ ہے تاکہ جانے والوں کو کوئی پریشانی نا ہو،بالکل فتنوں کے بارے میں نبی کریم صل اللہ۔علیہ وسلم نے ہمیں آگاہی اس لیے دی ہے کہ ہم اپنا بچاو کر سکیں۔۔اس امت کے سب سے بڑت فتنے دجال کے بارے میں۔جب صحابہ کو بتایا گیا۔تو انکی یہ کیفیت تھی کہ وہ باہر نکلیں گے تو آگے سے انھیں دجال مل جائے گا۔
جھوٹ عام ہو جائے گا اب دیکھ لیں ہمارے چاروں طرف کتنا جھوٹ ہے اگر ہم۔چھوٹ کو ترک کر دیں تو ہم فتنوں سے بچ سکتے ہیں۔
زنا عام ہو جانا
زنا کا عام ہو جانا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے مردو عورت کا احتلاط اتنی عام سی بات ہے کہ اب آنکھوں کو معیوب ہی نہیں لگتی اس آزادانہ احتلاط کا نتیجہ زنا کی صورت میں نکلا ہے اگر فتنوں سے بچنا ہے تو جھوٹ کی۔طرح زنا سے بھی بچنا ہوگا ،فرمایا گیا زنا کے قریب بھی مت جاو کرنا تو دور کی بات ہے
سود کا عام ہوجانا
سود ہر آدمی کے حلق تک پہنچے گا جو نہیں کھا ئیں گے تب بھی وہ اس کا کچھ نا کچھ حصہ وصول ضرور کریں گے جدید دور میں کتنے نام بدل بدل کر سود ہمارے رگوں میں پہنچ ریا ہے چھوٹی سی مثال موبائل پر بیلنس ادھار لینا ہے جس پر بھی سود کٹتا ہے۔
آس کے علاوہ جو علامات عام دکھائی دے رہی ہیں وہ یہ ہیں
سیلاب اور زلزلے کثرت سے آئیں گے
ناچ گانے کا گھر گھر پہنچنا
عورت اپنی سواری چلائے گی
حکمران عدل سے محروم ہو جائیں گے۔۔۔
قتل عام ہو جائے گا
لونڈی آقا کو جنے گی
ماوں کی نافرمانی کی جائے گی
یہ سب وہ علامات ہیں جو ہم اپنے ارد گرد دیکھ رہے ہیں اور بھگت رہے ہیں
فتنوں سےبچاو کیسے ممکن ہے؟
نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے علامات کے ساتھ بچاو بھی بتایا وہ یہ ہے
قرآن وسنت کو مضبوطی سے تھام لو یہ کبھی بھٹکنے نہیں دے گا۔
خود کو محدود کر لو
فتنوں کے دور میں ہر بیٹھا ہوا چلتے ہوئے سے بہتر ہوگا مطلب اپنے آپ کو in active کر لو ،محدود ہو جاو۔ اپنا کام کرو اور گھر چلے جاو بیکار کی چیزوں میں وقت ضائع نا کرو،
پہاڑوں میں پناہ لینا
نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کے دور میں بچاو کا ایک طریقہ یہ بھی بتایا وہ یہ کہ بکریاں لو اور پہاڑوں پہ چلے جاو۔
جماعت سے الگ نا ہونا
جماعت کی بڑی اہمیت ہے آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں کی جماعت سے الگ نا ہونا،آپ دیکھیں کے شیر اکیلی گائے پر حملہ آور ہوتا ہے مگر وہ۔کبھی ریورژ پر حملہ نہیں کرتا یہی طریقہ شیطان کا بھی ہے وہ اکیلے آدمی کو ورغلاتا ہے جماعت کو۔نہیں۔فتنوں کے دور میں بھی ایسی جماعت موجود ہو گی جو حق پر ہو گی اور اہل ایمان انھیں پہچانتے ہوں گے۔اگر فتنوں سے بچنا ہے تو جماعت سے جڑ کر رہنا بھی ایک حل ہے۔
فتنوں کے دور میں بچاو کیسے ممکن؟؟۔