قوموں کی تقدیریں بدلی جا سکتیں ہیں اگرہم اپنے رویوں میں تبدیلی لے آئیں تو ں
“لوگ اٌلجھے دھاگوں کی طرح ہوتے ھیں.بس سلجھانے والے ہاتھ چاہیۓ ہوتے ہیں.
ذرا سی توجہ اور کوشش سے وہ خودبخودسٌلجھتے چلے جاتے ھیں.”پروفیسر ایم اے رفرف)
جبکہ ہمارے ہاں دھونس اور نام نہاد حق پر مبنی مداخلت اصلاح کے عمل کو کمزورکر دیتی ہے۔اصلاح تنقید سے نہیں ہوتی۔۔اصلاح نام ہے خیرخواہی کا۔جب آپ اپنے عمل سے کسی کو احساس دلائیں گے کہ آپ ہمارے لیے کس قدر اہم ہیں۔تو اثر پزیری کا عمل تیز ہوجاۓ گا۔
جب اگلاآپ کے اخلاص کو محسوس کرے گا تو خود بخود بدلنا شروع ہوجاۓ گا۔اخلاص اور بے پناہ محبت شرط اولین ہے۔نبی کریم ﷺ کے جان نثار صحابہ جو اسلام لانے سے پہلے آپ ﷺ۔کے جانی دشمن تھے۔آپ ﷺ۔کے اخلاق دیکھ کر جان چھڑکنے لگ گۓ۔صحابہ کا کہنا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کو یہی لگتا کہ مجھ سے زیادہ آپ ﷺ کسی اور سے محبت نہیں کرتے۔۔
آج ہمارے ہاں دعوتہ الی اللہ اس لیے اثرانداز نہیں ہو رہی جیسا کہ ہونی چاہیے تھی۔۔اس کی بڑی وجہ اخلاص اور خیرخواہی پر مبنی اخلاق کی کمی ہے۔واصف علی واصف کا کہنا ہے کہ جسے کلمے کا سبق پڑھاؤ اسے پہلے روٹی میں شریک کرو۔۔۔یہی خیر خواہی ہے۔
ہمارے ہاں جب سے تنقید براۓ تنقید کا کلچر پروان چڑھ رہا ہے تب سے اخلاقیات کا جنازہ نکل رہا ہے۔زندگیوں میں اخلاص ختم ہو کر رہ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ہمارے رویے موجودہ حالات کے تناظر میں
پھر بھی یہ شکوہ ہے بڑوں کو کہ بچے ہماری بات نہیں مانتے۔حالانکہ رویہ وہ پہلی چیز ہے جو دوسرے پہ سب سے زیادہ اثرانداز ہوتی ہے۔رویوں کا مہلک زہر ہماری نسل کو کھا گیا ہے۔ہمارے بڑے یہ بات سمجھنے اور سننے کو تیار نہیں۔زرا سی محبت لہجے کی تپش اور نرمی ان کو پھر سے جوڑ سکتی ہے۔اس۔خلیج کو پاٹ سکتی ہے جو ینگ جنریشن اور بزرگوں کے درمیان حائل ہو چکی ہے۔
بڑے افسوس کے ساتھ یہ جملہ لکھ رہی ہوں کہ ہمارے علماء تک اپنی تنقیدی رویے کو بدلنے پہ تیار نہیں ہیں۔پھر شکوہ کناں بھی ہیں لوگ حق بات نہیں سنتے۔۔لوگ سنتے ہیں مگر آپ کے پاس سنوانے کا طریقہ نہیں۔اصلاح کا جذبہ رکھنے والوں کے لہجے اخلاص سے عاری ہوں تو تبلیغ الٹ اثر کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ لوگ علماء کی بات نہیں سنتے۔۔کوسوں دور بھاگتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے ہمارے بڑوں کو اور علماء اور ٹیچرز ہماری ماؤں کو اپنے رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔کمیونیکیشن کے نۓ طریقے سیکھنے ہوں گے۔یقین کریں کہ قوموں کی تقدیریں بدلیں جا سکتیں ہیں اگر آپ اپنے رویوں میں تبدیلی لے آئیں تو۔۔۔۔۔