600

لکھاریوں کے لیے رہنما تحریر

تحریر شئیر کریں

لکھاریوں کے لیے رہنما تحریر

تحریر: قاری عبدالرحمن (ندیم تابانی)

(بچوں کا اسلام پڑھنے والے ، قاری عبدالرحمن صاحب سے ضرور واقف ہوں گے، اشتیاق احمد مرحوم کو “بچوں کا اسلام”کی ادارت کے لیے راضی کرنے والے یہی تھے، یہ اس وقت روزنامہ “اسلام” کے ایڈیٹر بھی تھے۔۔۔ان کا یہ مضمون تمام لکھنے والوں کے لیے بے حد مفید ہے،)
1983ء میں ہم نے لکھنا شروع کیا ، جب کہ 1996ء سے تاحال مدیر یا اس کے ہم وزن عہدوں پر کام کا موقع ملا۔ اس میں انتظامی ادارت بھی شامل ہے اور صحافتی و ادبی ادارت بھی۔ بہت سی تلخ و شیریں یادیں ہیں لیکن یہاں کوئی واقعہ یا کہانی سنانے کی بجائے اپنے مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں لکھاری حضرات و خواتین کے لیے کچھ مشورے عرض کرنا چاہ رہے ہیں ۔

٭ جس رسالے ، اخبار یا میگزین کے لیے لکھ رہے ہیں اس کا مزاج ، پالیسی اور اسلوب ضرور دیکھیں ۔

٭ضروری نہیں کہ ہر تحریر ہر جگہ شائع ہو سکے۔

٭کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مدیر حضرات تحریر میں ترمیم و اضافہ کرکے قابل اشاعت بنانے کی بجائے تحریر نہ شائع کرنا بہتر سمجھتے ہیں۔

٭لگی بندھی ، ایک جیسے خیالات اور آئیڈیے پر لکھی جانے والی تحریریں کم جگہ پاتی ہیں ۔ ہمیشہ کچھ نیا پن اور تنوع پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

٭ کہانی جتنی مختصر اور اچھوتے موضوع پر ہوگی، جلد جگہ پائے گی۔

٭اپنی تحریر بھیجنے سے پہلے کم از کم تین بار پڑھنے کی عادت ہونی چاہیے۔ اس سے اپنی غلطیوں کی اصلاح کا موقع بھی مل جاتا ہے اور مدیر کا کام بھی آسان ہوجاتا ہے۔

٭ شروع ہی میں قسط وار ناول ، ناولٹ ، لمبی کہانیاں لکھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ جب نام بن جاتا ہے تو مدیر حضرات خود ہی فرمائش کرتے ہیں۔

٭ نثر میں اچھی مہارت کا یہ مطلب نہیں کہ آپ شاعری بھی کر سکتے ہیں اور ضرور ہی کریں
۔ یا اگر آپ شاعر ہیں تو کہانی افسانہ بھی یقینا لکھ سکتے ہیں اور لازما لکھنا چاہیے۔

٭ تحریر کی ہر صنف میں کوشش کرنے میں حرج نہیں لیکن توجہ اسی پہ رکھنی چاہیے جس میں مہارت ہو۔ ہر کام ہر ایک کے کرنے کا نہیں ہوتا۔

٭ مدیران کی کچھ عدم توجہی اور خامیاں اپنی جگہ لیکن دل چسپ تحریریں نہ چھاپ اور چُھپا کر انہیں کچھ نہیں ملتا۔ اس لیے بد گمانی سے گریز اور پرہیز صحت کے لیے بھی مفید ہے اور ادبی ترقی کے لیے بھی۔

٭ بڑے لکھاری بلکہ نامی گرامی ادیب حضرات سے بھی گزارش ہے کہ مدیر کو پالیسی کے مطابق کانٹ چھانٹ کا حق بھی حاصل ہوتا ہے اور معلومات واملا کی درستی کا بھی۔ ناراضی کی بجائے معاملہ فہمی کی کوشش کرنی چاہیے۔

٭ اپنے لکھے کو حرفِ آخر سمجھنے کی بجائے ترمیم و اضافے اور تبدیلی پر غور کرنا چاہیے۔

٭ آپ کو گلے شکوے کا حق حاصل ہے لیکن گلے شکوے کے لیے بد کلامی ، بد مزاجی اور بد اخلاقی ضروری نہیں۔ ہر گلہ شکوہ بہت تحمل اور خوش اخلاقی کے ساتھ بہترین الفاظ استعمال کر کے بھی کیا جا سکتا ہے۔

٭کسی دوسرے کا آئیڈیا یا کہانی چرانا ، پرانے رسالوں سے کوئی کہانی منتخب کر کے قطع و برید کے ساتھ پالش کرکے بھجوانا بھی چوری جیسی ایک حرکت ہوتی ہے۔ اس سے گریز کرنا چاہیے۔

٭ نقل شدہ کہانی یا چوری کیا ہوا آئیڈیا پکڑا نہ جاسکے تو اس پر خوش ہونے اور مدیر کو بے خبر و بے وقوف سمجھنے کی بجائے اللہ کے ہاں جواب دہی کا خیال ضرور رکھنا چاہیے۔

٭ کسی انعامی مقابلے میں حصہ لینا ہو تو اس کے قواعد و ضوابط کو اچھی طرح پڑھ لینا چاہیے اور اس کے مطابق لکھنا چاہیے۔

٭ اپنی تحریر کی نقل اپنے پاس ضرور رکھنی چاہیے۔ کسی رسالے میں تحریر شائع نہیں ہوتی یا نہیں ہو سکتی تو تحریر واپس کرنے کا تقاضا کرنے کی بجائے اپنے پاس موجود نقل کو کام میں لانا چاہیے۔

٭لکھاریوں سے اپنی ایک دو تحریریں نہیں سنبھالی جاتیں۔ اور مدیر کو ریکارڈ کیپر سمجھ کر اس کے ذمے یہ فرض سمجھتے ہیں کہ کسی وجہ سے اشاعت کے لیے منتخب نہ ہونے والی ہر تحریر کا حساب رکھے اور جواب دے۔

٭عموما کام کے اوقات صبح نو سے شام 5 بجے تک ہوتے ہیں ، اگر مدیران گرامی نے رابطے کے لیے اوقات مقرر نہ کیے ہوں تو ان دفتری اوقات میں ہی رابطہ کرنا چاہیے۔

٭ موبائل یا وٹس ایپ پر کال سے گریز کرنا چاہیے۔ میسج کرنا کافی سمجھیے۔ کوئی جواب نہیں دے رہا تو اس کا مطلب ہے وہ جواب نہیں دینا چاہ رہا۔ یا مصروف ہے ۔ دو سے تین بار کوشش کرنا کافی سمجھنا چاہیے، مسلسل کال اور بار بار میسج کر کے خود الجھن کا شکار ہوں، نہ اسے شرمندہ کرنے کی کوشش کریں۔

٭ آپ کی تحریر آپ کی ملکیت ہے، جسے جب جہاں جیسے چاہیں استعمال کرنا آپ کا حق ہے ۔ البتہ دینی احکام اور اخلاقی اقدار کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔

٭ آپ اچھا لکھنا جانتے ہیں یہ بہت بڑی خوبی ہے لیکن اس پر اِترانے اور اس کا منفی استعمال کرنے کی بجائے اللہ کا شکر ادا کرنا اور مثبت استعمال پر توجہ دینا چاہیے۔

بشکریہ چلڈرن لیٹریری سوسائٹی

لکھاریوں کے لیے رہنما تحریر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں