آج مردوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے موازنہ کیجیے مرد اور عورت کی زندگی کا کون کتنا فائدے میں ہے
مرد اور عورت کی زندگی کا حقیقی معنوں میں موازنہ کیا جائے تو عورت کا ہلڑہ بھاری نظر آئے گا۔
مرد پہ کمانے کی ذمہ۔داری رکھی گئ ہے جو عورتیں کمانے کے لیے نکلتی ان۔کو اندازہ ہوگا کہ کتنی بڑی ذمہ داری ہے جبکہ عورت پہ ایسی کوئی ذمہ داری ڈالی ہی نہیں گئ وہ تاحیات اپنی ذات کے لیے بھی اپنی ذمہ دار نہیں بلکہ بیٹی ہوتے ہوئے باپ کی بہن ہوتے ہوئے بھائی کی اور ماں ہوتے ہوئے بیٹے کی ذمہ داری ہے وہ اس کا نگہبان بھی ہے اور اخراجات کا ذمہ دار بھی
مرد جوان بعد میں ہوتا ہے جبکہ ذمہ داریوں کی گھٹڑی اس کے سر پہ پہلے رکھ دی جاتی پھر وقت کے ساتھ گھٹڑی کا یہ بوجھ بڑھتا چلا جاتا ہے بیٹے سے شوہر اور شوہر سے باپ تک کا سفر ذمہ داریوں کی داستان ہے یہاں اسے کوئی ریلیف نہیں ،اس نے کرنا ہی کرنا ہے وہ منہ نہیں کھول سکتا اپنے حقوق کے لیے آواز نہیں اٹھا سکتا رو نہیں سکتا رشتوں دستبردار نہیں ہو سکتا
بلکہ کمانے کی مشین بنے چلتا جاتا ہے یہاں تک کہ بڑھاپے کی دہلیز پہ آن پہنچتا ہے بیماریاں چمٹ جاتی ہیں موت کا خوف ہمہ وقت منہ کھولے اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے جوان اولاد اچھی ہو تو بوجھ بانٹ لیتی نہیں تو طعنے دے دے کر کہ ہمارے لیے کیا کیا قبر تک پہنچا دیتی ہے
اللہ نے عورت کو جائیداد میں حصہ دے کر مہر کا حق دار بنا کر ماں۔بیٹی ہونے کے ناطے وراثت کا حق دار بنایا ہے جبکہ اس پر کوئی مالی ذمہ۔داری بھی نہیں نا اپنی نا دوسروں کی۔۔۔مرد حصہ دار ہے تو ذمہ دار بھی ہے یہاں بھی عورت کا پلڑا بھاری ہے
مردوں کا عالمی دن