منفرد بنیں
الگ اپنا —-ایک انداز بنائیں
دوسروں کے جیسا بننے کا شوق نہیں پالنا چاہیے۔ورنہ آپ اس بھیڑ میں کھو جائیں گے جس کا نام دنیا ہے۔
دنیا میں وہ لوگ امر ہوۓ۔جنہوں نے اپنی الگ سے پہچان بنائی۔منفرد کام کیے،دنیا کو کچھ دیا۔یہ سب وہ لوگ جو صدیوں بعد بھی زندہ ہیں۔انکے جداگانہ انداز نے ان کو زندہ رکھا۔انکا کام انکی پہچان بنا۔
آج لوگ بھیڑ چال میں ڈاکٹر انجینر تو بن جاتے ہیں مگر اپنی انفرادیت اور پہچان کھو دیتے ہیں۔خودی نام ہے اپنی الگ سے پہچان بنانے کا،خودی نام
ہے آپ کے ہونے کا، جب آپ خودی سے نا آشنا رہتے رہتے
اس دنیا سے چلے جاتے ہیں تو پھر دنیا بھی آپ کو فراموش کر دیتی ہے۔جب آپ کو خود اپنی خودی کا احساس نہیں تو دوسروں کو کیونکر ہوگا۔
خود شناس بنیں۔آپ کو اللہ نے ایک الگ پہچان کے ساتھ پیدا کیا ہے۔کسی نا کسی کام کی صلاحیت دی ہے۔اسے تلاش کریں۔آج علامہ اقبال قائد اعظم اور ڈاکٹر عبدالقدیر اپنے منفر د کام کی وجہ سے نمایاں ہیں۔شاعر تو بہت سے مل جائیں گے مگر علامہ اقبال کوئی نہیں ملے گا۔یہ ہونی چاہیے آپ کی پہچان۔آج کی نسل کو نقل نے مار دیا ہے۔ہر بندہ دوسرے کو کاپی کرتا دکھائی دیتا ہے۔کچھ منفرد اور نیا کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔ایسا اس لیے ہے کہ لوگوں نے خود پہ بھروسہ کرنا چھوڑ دیا ہے۔اسکی بڑی وجہ ہمارا تعلیمی نظام ہے جو قوت یقین اور خود اعتمادی جیسی خوبیوں سے عاری نسل بنا رہا ہے۔جو جب تعلیم سے فارغ ہوتی ہے تو نوکری کی تلاش مقصد بن جاتی ہے۔مل جاۓ تو باقی زندگی فل سٹاپ۔۔نا ملے تو جرائم اور ٹینشن کی طرف قدم نزدیک ہوتے چلے جاتے ہیں۔بن مقصد زندگی ایسی ہی ہوتی ہے۔زندگیوں میں بڑا مقصد لائیں۔اپنی خودی کو جگائیں۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
منفرد بنیں