212

نماز علاج مگر دوا بھی ضروری

تحریر شئیر کریں

حالیہ دنوں میں اداکارہ عینا آصف کے ایک بیان پر خوب بحث ہوئی جس میں انہوں نے کہا:
“نماز ذہنی بیماری کا علاج نہیں ہے۔”
لوگوں نے تنقید کی، مگر حقیقت یہ ہے کہ کچھ باتیں صرف وہی بہتر سمجھ سکتا ہے جو ان سے خود گزر چکا ہو۔

مجھے یاد ہے، پچھلے سال میری زندگی کا ایک ایسا وقت آیا جب شدید ڈپریشن نے مجھے گھیر لیا۔
میں مسلسل روتی تھی، دل کرتا تھا سب ختم کردوں۔ کسی سے بات کرنے کا دل نہیں کرتا تھا، ہر وقت غصہ اور بےچینی رہتی تھی — یہاں تک کہ نماز میں بھی سکون محسوس نہیں ہوتا تھا۔

پھر ایک دن میں نے Youth Club کے محمد علی کی وہ ویڈیو دیکھی، جس میں اس نے کہا:
“اللہ پر ایسا توکل کرو کہ لوگ کہیں یہ بندہ پاگل ہے!”

اسی دوران طٰحہ ابنِ جلیل کی ایک بات دل میں گھر کر گئی:
“جب تم اپنی پریشانی سب سے پہلے لوگوں کو بتاتے ہو اور آخر میں اللہ کو، تو اللہ بھی تمہیں آخر میں رکھتا ہے۔”

یہیں سے میری تبدیلی کا آغاز ہوا۔

میں نے اپنی ہر پریشانی اللہ کو سنانی شروع کی۔
نماز کے بعد سجدے میں گھنٹوں باتیں کرتی، روتی، گلہ بھی کرتی، شکر بھی…
اور یہی سجدے، وہ سیشنز بن گئے جنہوں نے میری روح کا علاج کیا۔
آہستہ آہستہ میرا ڈپریشن ختم ہونے لگا۔
اب جب بھی دل بھاری ہو، سب سے پہلے رب سے بات کرتی ہوں۔
کبھی کسی انسان کے پاس جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔

ہاں، نماز علاج ہے۔
لیکن جیسے کسی جسمانی بیماری کے لیے دوا اور ڈاکٹر کی رہنمائی ضروری ہوتی ہے،
ویسے ہی شدید ذہنی بیماری کے لیے تھیراپی، مدد، اور دعا — تینوں کا امتزاج ضروری ہوتا ہے۔

نماز روح کا علاج ہے،
اور اس کی دوا ہے: اللہ پر مکمل یقین، صبر، اور مستقل رابطہ۔
لیکن اگر درد حد سے بڑھ جائے، تو مدد لینا کمزوری نہیں، شعور کی علامت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں