433

نماز کے لیے نا اٹھنے پر باپ بیٹے کے ہاتھوں قتل کر دیا

تحریر شئیر کریں

۔نماز کے لیے نا اٹھنے پر باپ بیٹے کے ہاتھوں قتل کر دیا گیاتفصیلات کے مطابق

چشتیہ ٹاؤن کے شہباز نے اپنے پچاس سالہ باپ کو صبح نماز کے لیے نا اٹھنے پر اینٹ مار کر ہلاک کر دیا۔

فتنوں کے اس دور میں جہاں ہر دن ایک نیا فتنہ لے کر طلوع ہو رہا ہے۔ایسے میں بیٹے کے ہاتھوں باپ کا قتل اور وجہ جو بتائی جا رہی ہے اس پہ غور کریں تو اول تو یقین ہی نہیں آتا کہ کوئی نماز ی بیٹا اپنے باپ کو اس وجہ سے بھی مار سکتا ہے۔

میں سوچ رہی ہوں کہ اگر یہ واقعہ سچ بھی ہے تو اس نمازی بیٹے کا اپنے رب سے تعلق کتنا مضبوط تھا۔نماز اللہ کی طرف بلاوا ہے۔یہ کام خیر خواہی پر مبنی ہے۔اگر بیٹا باپ کا خیر خواہ تھا تو پھر باپ کو مارنے جیسا اقدام کس لیے؟

بہت سوچا بہت سوچا کچھ سجھائی نہیں دے رہا، ایسے لگتا ہے چاروں طرف دھند ہے جس میں سب کچھ دھندلا گیا ہے۔احساس مروت ،خون کے رشتے اور سب سے بڑھ کر دین جس کو سمجھا ہی نہیں گیا۔
یمارا معاشرہ بہت تیزی سے تنزلی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ایسے میں دماغی امراض بڑھ رہے ہیں۔”میں کیا کہہ رہوں “اہم یہ ہے۔اگلا بندہ سمجھ رہا یا نہیں ۔۔یہ قطعا اہم نہیں۔۔
ذہنی امراض سے لبریز نوجوان نسل کو خود پتہ نہیں کہ وہ کیا کر رہیں ہے۔چار دن کسی مجلس میں بیٹھ کر بیٹا نمازی تو ہو گیا مگر نماز کی روح اور دین کی روح کو نا سمجھ سکا۔یمیں دین پڑھایا جاتا ہے۔روح میں اتارنے کا فن کوئی نہیں جانتا۔

بیٹا ہو جس کو پاؤں پاؤں چلنا سکھایا ہو،پھر وہ بیٹا نیکی کے نام پرباپ کا قتل کر ڈالے اب کیا وہ بیٹا نارمل رہ سکتا ہے۔جیلوں میں پاگل ہونے والوں کی میں ایسے لوگ بڑی تعداد میں شامل ہیں جو غیرت کے نام پہ اپنی بیٹی بہن ماں وغیروہ کا قتل کرتے ہیں یا پھر شہباز جیسے لوگ جو باپ جیسی عظیم ہستی کو ٹھکانے لگانے سے بھی نہیں چوکتے؟

مجھے تو ابھی بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ شہباز نے واقعی نماز نا پڑھنے پر باپ کا قتل کر ڈالا۔۔۔کیا اس بیٹے کی اصل جگہ پاگل خانہ ہے یا جیل؟آپ کو سمجھ آۓ تو ضرور بتائیے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں