رابعہ شیخ
دنیا گلوبل ولیج میں تبدیل ہو چکی ہے ۔ ٹیکنالوجی نے فاصلوں کو مٹا کے کم بلکہ ختم کر دیا ہے روز ایک نئی ایپلیکیشن متعارف ہوتی ہے اور موبائل کی زینت بنتی ہے ۔ ایسی بہت ساری ایپلیکیشن ہیں جو واقعی میں اہمیت کی حامل ہیں جن سے لوگ گھر بیٹھے تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن سے روزگار کے مواقع مل۔رہے ہیں لیکن ایسی اور بہت سی ایپلیکیشنز ہیں جو معاشرے میں بگاڑ کا سبب بن رہی ہیں ۔
حال ہی میں پاکستان میں ایک ایپلیکیشن بین ہوئی ہے جس کا نام ہے ٹک ٹاک ۔ حکومت کی طرف سے ایک بہترین اقدام جسے سراہے بغیر میں نہ رہ سکی۔اس ایپ کا بین ہونا بہت ضروری تھا انٹرٹینمنٹ کے نام پہ اس ایپ نے مسلم معاشرے کی دھجیاں بکھیر کے رکھ دی ہیں ۔
مسلم معاشرے کا لفظ اس لئے استعمال کیا ہے کیونکہ پاکستان اسلام کے نام پہ ہی حاصل کیا گیا تھا اور اس کے قیام کی وجہ یہ ہی تھی کہ ہم باآسانی اپنے دین پر عمل پیرا ہوسکیں ۔
ہمارے دین میں جہاں ناچ گانے کو برا سمجھا جاتا اور عورت کے لئے پردے کو لازمی قرار دیا گیا وہاں اس ایپ نے میرے ملک کی بچیوں سے سر کی چادر چھین لی ۔ نوجوان جنھوں نے صرف فلموں ڈراموں میں ہیرو , ہیروئن پر گانے فلمائے گئے دیکھا تھا اور جو صرف خوابوں میں خود کو ہیرو , ہیروئن سمجھا کرتے تھے اس ایپ نے نے ان کے خوابوں کو پورا کردیا انہیں یہ بتایا کہ وہ کسی ہیرو , ہیروئن سے کم نہیں ۔
اس طرح کی ایپلیکیشنز سے جہاں خوداعتمادی میں اضافہ ہوا وہیں خود پسندی بھی انتہا کو پہنچ گئی ۔ خود کو ہیرو , ہیروئن جیسا دیکھنے کے لئے سر ننگے ہوگئے , چہروں کو میک اپ کے لبادے اوڑھا دیئے گئے اور بات صرف سر ننگے ہونے تک محدود نہ رہی کپڑے کم سے کم۔تر ہو گئے ۔ غیر اخلاقی مواد کی بھر مار ہوگئی ۔ بے حیائی جوش مارنے لگی ۔ فالورز بڑھانے کے لئے غیر اخلاقی ویڈیوز بنائی گئیں انہیں وائرل کیا گیا ۔
کوئی بھی چیز غلط نہیں ہوتی بات اس کے استعمال کی ہوتی ہے ۔ لیکن جب کسی بھی چیز کا غلط استعمال زیادہ ہو تو اچھی چیز بھی اپنی قدر کھو دیتی ہے ۔
شکر ہے حکومت نے اس بڑھتی ہوئی فحاشی کو روکنے کے لئے ایک اچھا قدم اٹھایا اسے بین کیا ۔ لیکن اب بھی یہ ایپ ہمارے ملک میں استعمال کی جارہی ہے مختلف vpn لگا کے اسے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ میں گزارش کروں گی حکومت سے کہ اس ایپ کو مکمل بین کرے تاکہ اسے VPN بدل کر بھی استعمال نہ کیا جا سکے ۔