576

ٹھوکروں سے محبت کیجیے

تحریر شئیر کریں

مزمل عائشہ

ٹھوکروں سے محبت کیجئے۔کیوں اور کیسے؟جانیے قلم کتاب پر

زندگی میں لگنے والی ٹھوکریں بڑی کمال کی چیزہوتی ہیں یہ چاہے وقت کی لگائی ہوئی ہوں یا اپنوں کی طرف سے کھائی ہوئی ہوں۔
صاحب ! آپ کو فرش سے اٹھا کرعرش پر بیٹھا دیتی ہیں۔

حیرت ہوئی پڑھ کر؟ جی ہاں! ایسا ہی ہے۔ غور کریں تو معلوم ہو گا کہ ٹھوکر بڑے بڑے کام کروا جاتی ہے آپ سے۔ اس کے آنے سے پہلے آپ ٹن ہوئے ہوتے ہیں اور سبک رفتاری کے ساتھ اپنی گاڑی کو گھسیٹ رہے ہوتے ہیں تاہم ٹھوکر سپیڈ بریکر کا سا کام کرتی ہے اور آپ کو الرٹ کر کے بیٹھوا دیتی ہے۔ مزید برآں یہ کہ آپ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے اور باور کرواتی کہ دیکھ لو کہ کھڑے کہان پر ہو؟ اور جانا کہاں پر ہے؟۔

ٹھوکروں سے محبت کیجیے۔جتنی مشہور شخصیات کی زندگیوں کا مطالعہ کرکے دیکھ لیں آپ کو ان کی زندگیاں ٹھوکروں سے بھری ہوئی ملے گئیں اور وہ اس کابر ملا اظہار کرتے ہوئے ملیں گئے۔اب اپنی طرف بھی غور کر لیجیے۔ ہمارا تاثر و رویہ کیا ہوتا ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ ہم زندگی میں آنے والی ناکامیوں سے بڑا خار کھاتے ہیں۔ یہاں تک کہ چھپا چھپا کر رکھتے ہیں کہ کسی کو بھنک نہ پڑ جائے نہیں تو بڑی شرمندگی ہو گئی۔ میں نے کئ پڑھا تھا کہ فیل ہونے کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ میدان جہاں آپ نے ناکامی کا سامنا کیا ہے وہ دراصل آپ کے لئے بنا ہی نہیں ہوتا۔ عرف عام یوں سمجھئے یہ ٹھوکر لگتی ہے تو دماغ کی بتی جلتی ہےاور راستہ دیکھائی دینے لگتا ہے۔

اب ذرا محبت وقت اور اس میں ہونے والی ناکامیوں پر بات کر لیتے ہیں۔ مقام حیرت ہے کہ اس میدان میں جو ٹھوکریں لگتیں ہیں ان سے سبق سیکھنے کی بجائے ان پر غم منا منا کر اپنی زندگی کا بہترین حصہ گنوا دیتے ہیں۔ ارے !
محبت میں ناکامی کی ٹھوکر تو بڑی نایاب ہوتی ہے کیونکہ یہ ہمارے اوپر ہماری بحثیت انسان ہونے کی حقیقت کھول کے رکھ دیتی ہے۔ ہماری بشری کمزوریاں، حدود سب کھل کے سامنے پرت در پرت آجاتاہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب دل بڑا نرم ہؤا ہوتا ہے۔ اشک آنکھوں کے دریچے پر بیٹھے دستک دے رہے ہوتے ہیں

یہ بھی پڑھیے

ناکامی ایک رویہ جسے بدلنے کی ضرورت

۔ انسانوں سے مایوس ہو کر جب اس ذات کا در کھٹکایا جاتا ہے تو سبحان اللہ!! دستک رائیگاں نہیں جاتی۔ وہ فوراً دل کو سنبھالتا ہے۔ عموماً ہم انسان ٹوٹی ہوئی چیزوں کو کچھ خاص پسند نہیں کرتے ہیں مگر وہ تو خالق ہے نا!!! وہ اس اجڑے ٹوٹے دل کو سنبھال لیتا ہے۔ اس ٹھوکر کے بعد عقل شریف بھی ٹھکانے پر آنے لگتی ہے اور جاننے کا موقع ملتا ہے کہ محبت ہوتی کیا ہے دراصل؟ اور کرنی کس سے چاہئے؟ یوں کہہ لیجئے پائیدار محبت کا فلسفہ سمجھ میں آنے لگتا ہے,۔

چنانچہ آج سے زندگی میں آنے والی ٹھوکروں کی قدر کیجئے یہ آپ کو اصل میں جگانے آتی ہیں اور باور کروانے آتی ہیں کہ آپ کھڑے کہاں ہیں اور آپ نے اپنا گھوڑا دوڑاھنا کس میدان میں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں